بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

اسرائیل کے Somaliland فیصلے پر پاکستان متحرک، اسحاق ڈار ہنگامی OIC اجلاس میں شریک

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج ہفتے کے روز سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس کی مرکزی توجہ اسرائیل کی جانب سے Somaliland کو تسلیم کرنے کے اعلان پر ہو گی، جس پر مسلم دنیا میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ہنگامی اجلاس کیوں بلایا گیا؟

یہ اجلاس اسرائیل کے گزشتہ ماہ کے اعلان کے بعد بلایا گیا۔ Somaliland، جو 1991 میں صومالیہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر چکا ہے، آج تک کسی بھی اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا۔

اس اقدام پر:

  • موغادیشو کی وفاقی حکومت
  • علاقائی تنظیمیں
  • اور مسلم ممالک

نے سخت تنقید کی ہے، جبکہ اسے بین الاقوامی قانون اور سومالیہ کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان نے اسرائیلی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سومالیہ کی وحدت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسحاق ڈار جمعہ کی شب سعودی عرب روانہ ہوئے تاکہ کانفرنس میں پاکستان کا مؤقف پیش کر سکیں۔

بیان میں کہا گیا:

“OIC کا ہنگامی اجلاس وفاقی جمہوریہ سومالیہ کے نام نہاد Somaliland خطے کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کے مضمرات کا جائزہ لے گا۔”

“اجلاس کے دوران نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ پاکستان کا مؤقف واضح طور پر پیش کریں گے۔”

مسلم ممالک کا مشترکہ ردِعمل

OIC نے اس ہفتے کے آغاز میں ہنگامی اجلاس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد:

  • مسلم ممالک کے درمیان متحدہ موقف تشکیل دینا
  • سومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
  • متعلقہ OIC قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی توثیق
یہ بھی پڑھیں  حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر محفوظ مقام پر منتقل، اسرائیل میں ہائی الرٹ

ہے۔

جمعرات کو پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ Gideon Saar کے Somaliland دورے کی مذمت کی اور اسے سومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

غزہ سے متعلق خدشات نے تشویش بڑھا دی

اسرائیلی وزیرِ خارجہ کا 6 جنوری کو Somaliland کا دورہ ان بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ سے زبردستی بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کی ممکنہ آبادکاری کے لیے Somaliland حکام سے رابطہ کیا ہے۔

ان اطلاعات نے مسلم ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

سائیڈ لائنز پر سفارتی سرگرمیاں

ہنگامی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار:

  • دیگر OIC رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے
  • علاقائی اور عالمی امور
  • باہمی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی

پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

بڑا سفارتی منظرنامہ

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب:

  • مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں جغرافیائی سیاست حساس مرحلے میں ہے
  • خودمختاری، تسلیمِ ریاست اور جبری نقل مکانی جیسے مسائل عالمی سطح پر شدید تنازع کا باعث بن رہے ہیں

پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور مسلم ممالک کے حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

نتیجہ

اسرائیل کے Somaliland فیصلے پر ہنگامی OIC اجلاس میں پاکستان کی فعال شرکت اسلام آباد کی سفارتی ترجیحات اور مسلم دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ جدہ اجلاس کے فیصلے آئندہ دنوں میں اجتماعی سفارتی اقدامات کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیل اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے، بنجمن نیتن یاہو
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین