افغانستان کے شمالی صوبے Takhar کے ضلع Chah Ab میں ایک چینی کان کنی منصوبے پر حملے میں کم از کم پانچ چینی شہری ہلاک ہو گئے، جب کہ متعدد کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے Dayulong Zeren Mining کی پروسیسنگ یونٹ کو آگ لگا دی اور تمام مشینری تباہ کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے کان کنی کے مقام پر دھاوا بول کر چینی کارکنوں کو نشانہ بنایا، اس کے بعد عمارتوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور کئی غیر ملکی کارکنوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاحال افغان حکام کی جانب سے حملے کی ذمہ داری یا ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
Looting of Mines Continues in Ragh District of Badakhshan
Amid growing reactions to the looting of mines in northern Afghanistan—particularly in Badakhshan and Takhar—sources have told Aamaj News that the looting of the Yalor mine in Ragh district of Badakhshan is also ongoing.… pic.twitter.com/TQMlcUrUYJ
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) January 7, 2026
چینی مفادات کو درپیش بڑھتے خطرات
یہ واقعہ افغانستان میں چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کو لاحق مسلسل سیکیورٹی خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد چین نے محتاط انداز میں افغانستان میں کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کی، تاہم بار بار ہونے والے حملے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
ماضی کے واقعات
افغانستان میں چینی مفادات اس سے قبل بھی نشانہ بنتے رہے ہیں:
- دسمبر 2022 میں کابل کے ایک ہوٹل پر خودکش حملہ ہوا جہاں چینی تاجر مقیم تھے، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
- 2023 اور 2024 کے دوران مختلف صوبوں میں چینی انجینئرز اور کارکنوں کو دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
- شدت پسند تنظیم Islamic State Khorasan Province ماضی میں چینی منصوبوں کو کھلے عام نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکی ہے، اگرچہ حالیہ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

اقتصادی اور تزویراتی پس منظر
افغانستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں سونا، تانبا، لیتھیم اور نایاب دھاتوں کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ یہ وسائل عالمی صنعت اور ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اسی وجہ سے چینی کمپنیاں ان منصوبوں میں پیش پیش رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تازہ حملے سے افغانستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری مزید متاثر ہو سکتی ہے، جب کہ چین کو اپنی سیکیورٹی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں پر حملے جاری رہے تو افغانستان کی اقتصادی تنہائی مزید بڑھ جائے گی۔ چین ممکنہ طور پر اس واقعے پر کابل سے سخت سفارتی وضاحت اور بہتر تحفظ کا مطالبہ کرے گا، خاص طور پر اغوا شدہ کارکنوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے۔




