بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بحرِ اوقیانوس میں امریکی تعاقب کے بعد وینزویلا سے منسلک آئل ٹینکر پر قبضے کی کوشش، روسی آبدوز کی موجودگی سے صورتحال حساس

امریکا نے وینزویلا سے منسلک ایک آئل ٹینکر پر بحرِ اوقیانوس میں دو ہفتوں سے زائد طویل تعاقب کے بعد قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی یو ایس کوسٹ گارڈ اور امریکی فوج مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ ٹینکر ابتدا میں بیلا-1 (Bella-1) کے نام سے جانا جاتا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے نام تبدیل کر کے مرینیرا (Marinera) رکھ لیا اور روسی پرچم کے تحت رجسٹریشن اختیار کر لی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹینکر نے وینزویلا سے منسلک پابندیوں کی زد میں آنے والے جہازوں کے خلاف امریکی بحری “ناکابندی” سے بچنے کی کوشش کی اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے بورڈنگ کی متعدد کوششوں کو مسترد کیا۔

روسی بحری جہازوں کی موجودگی

امریکی اہلکاروں کے مطابق کارروائی کے دوران روسی بحری جہاز بھی علاقے کے قریب موجود تھے، جن میں ایک روسی آبدوز کی موجودگی کی اطلاع بھی شامل ہے۔ اس عنصر نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سمندری سطح پر کسی غیر متوقع تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

Image

وینزویلا پر دباؤ کی وسیع مہم

مرینیرا ٹینکر ان جہازوں کی تازہ مثال ہے جنہیں امریکا صدر Donald Trump کی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کے خلاف دباؤ کی مہم کے تحت نشانہ بنا رہا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ ناکابندی غیر قانونی تیل برآمدات روکنے اور وینزویلا کی حکومت کے مالی وسائل محدود کرنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں  یوکرین امن تجاویز پر ماسکو–واشنگٹن رابطے: کریملن نے ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کی تصدیق کر دی

اسی دوران امریکی حکام نے بتایا کہ لاطینی امریکا کے پانیوں میں ایک اور وینزویلا سے منسلک ٹینکر کو بھی روکا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکا سمندری سطح پر پابندیوں کے نفاذ کو مزید سخت کر رہا ہے۔

قانونی و تزویراتی پہلو

امریکی قوانین کے تحت پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو مخصوص حالات میں روکنے یا ضبط کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق کھلے سمندر میں ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور طاقت کے توازن سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں—خاص طور پر اس وقت جب روسی بحری اثاثے قریب موجود ہوں۔

علاقائی اور عالمی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکا-روس تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ ماسکو پہلے ہی امریکی اقدامات کو “جارحانہ” قرار دیتا آیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے اور پابندیوں کے اطلاق کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اگر سمندری ناکابندی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ماہرین کے مطابق توانائی کی عالمی منڈیوں اور بحری راستوں کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین