بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

لیبیا کے آرمی چیف کی جی ایچ کیو آمد، جنرل عاصم منیر سے دفاعی تعاون پر بات چیت

لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف خلیفہ ابوالقاسم حفتر اور حکومتِ لیبیا کے وزیراعظم اسامہ سعد حماد نے آج جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر  سے ملاقات کی۔ یہ بات انٹر سروسز پبلک ریلشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا، بالخصوص اپنے اپنے خطوں میں سیکیورٹی صورتحال، بدلتے ہوئے خطرات، اور پیشہ ورانہ فوجی تعاون کے امکانات زیرِ بحث آئے۔ اس موقع پر پاکستان اور لیبیا کی مسلح افواج کے درمیان مسلسل رابطے اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

دفاعی سفارت کاری کا وسیع تر تناظر

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معزز لیبیائی مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے لیبیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی تعمیر (institutional development) کے لیے پاکستان کی حمایت پر بھی زور دیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی عسکری قیادت خطے اور اس سے باہر دفاعی سفارت کاری کو وسعت دے رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جنرل عاصم منیر نے خلیجی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی فوجی روابط قائم کیے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو ایک پیشہ ور، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر پیش کرنا ہے، نہ کہ علاقائی محاذ آرائیوں کا حصہ بنانا۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان نیوی کی چوتھی ہنگور کلاس آبدوز ’غازی‘ چین میں لانچ، بحری دفاع میں اہم سنگِ میل

پاکستان–لیبیا سیکیورٹی پس منظر

لیبیا کو سیاسی تقسیم، ملیشیا سرگرمیوں اور بیرونی مداخلت جیسے پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے لیبیا کے ساتھ روابط اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ استحکامی کوششوں اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے اصول کے تحت ہیں، جن میں براہِ راست مداخلت کے بجائے تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان اور لیبیا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں دفاعی تربیت اور فوجی پیشہ ورانہ تعاون شامل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ روابط انسدادِ دہشت گردی تربیت، فوجی اصلاحات اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

نور خان ایئربیس پر پرتپاک استقبال

اس سے قبل لیبیا کے کمانڈر اِن چیف کی نور خان ایئربیس پر آمد پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے جی ایچ کیو میں شہداء کی یادگار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، جو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی احترام اور دیرینہ دوستی کی علامت ہے۔

ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی، جو پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی فوجی روابط جاری رکھنے کے عزم کی عکاس ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین