برطانوی دفاعی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی تازہ پیش گوئی کے مطابق، 2030 تک چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) دنیا کی سب سے بڑی اور جدید فضائی قوتوں میں شامل ہو سکتی ہے، جس کے بیڑے میں بڑی تعداد میں جدید اسٹیلتھ اور ہیوی فائٹر طیارے شامل ہوں گے۔
یہ تخمینہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی فضائی صلاحیت بڑھانے کے لیے نسبتاً محدود اور سست رفتار منصوبہ بندی کے مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔
2030 کا چینی فضائی نقشہ
RUSI کے مطابق، 2030 تک PLAAF کے پاس متوقع طور پر:
- 1,000 کے قریب J-20A/S ہیوی اسٹیلتھ فائٹرز
- 200 سے 300 J-35 میڈیم اسٹیلتھ فائٹرز
- تقریباً 900 J-16 ہیوی فائٹر طیارے
موجود ہوں گے، جو چین کو نہ صرف عددی بلکہ تکنیکی برتری بھی فراہم کریں گے۔
صرف ایک سال میں بڑی چھلانگ
اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں اکیلے ایک سال کے دوران PLAAF نے:
- 120 کے قریب J-20A/J-20S اسٹیلتھ فائٹرز شامل کیے
- 100 سے 170 دیگر فائٹر طیارے (J-16، J-15، J-10 سیریز) بھی بیڑے میں شامل کیے
یعنی ایک ہی سال میں 250 سے 300 نئے لڑاکا طیارے شامل ہونا ایک غیر معمولی رفتار کی عکاسی کرتا ہے۔
J-20 کی صنعتی رفتار
J-20 پروگرام کی رفتار چین کی دفاعی صنعت کی صلاحیت کو واضح کرتی ہے:
- اگست 2022: تقریباً 150 J-20
- نومبر 2023: 208 J-20
- 2023 سے پیداوار کی رفتار: سالانہ 100 سے 120 طیارے
ماہرین کے مطابق یہی رفتار آئندہ برسوں میں برقرار رہ سکتی ہے۔
J-35: اگلا بڑا اضافہ
J-35 فائٹر، جو J-20 کے بعد چین کا دوسرا اسٹیلتھ طیارہ ہے، فی الحال Low-Rate Initial Production مرحلے میں سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ:
- 2030 تک 200 سے 300 J-35 زمینی بیسڈ ورژنز سروس میں آ سکتے ہیں
- J-35 میں وہی سینسرز، ریڈار اور ہتھیار شامل ہوں گے جو J-20 کے لیے تیار کیے گئے
اس سے چین کو اسٹیلتھ طیاروں کی ایک کثیر سطحی فورس حاصل ہو جائے گی۔
بھارت کا ممکنہ جواب
اس کے مقابلے میں بھارت کا منصوبہ نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بھارت:
- LCA Mk-1A کی غیر واضح تعداد شامل کرے گا
- 30 سے 40 رافیل طیارے ممکنہ طور پر خریدے جائیں گے
- LCA Mk-2 کی شمولیت اب بھی غیر یقینی ہے
فی الحال بھارتی فضائیہ کے پاس تقریباً 600 فائٹر طیارے ہیں، اور آئندہ چند برسوں میں 114 مزید شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
عدد، رفتار اور فرق
یہ فرق صرف تعداد کا نہیں بلکہ پیداواری رفتار اور تسلسل کا بھی ہے۔ جہاں چین ہر سال درجنوں جدید طیارے شامل کر رہا ہے، وہیں بھارت کے منصوبے طویل تاخیر اور محدود پیداوار سے دوچار ہیں۔
اس فرق کے باعث 2030 تک ایشیا میں فضائی طاقت کا توازن واضح طور پر چین کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔
علاقائی اسٹریٹجک اثرات
PLAAF کی یہ تیز رفتار توسیع نہ صرف بھارت بلکہ پورے ایشیا پیسیفک خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔ بڑی تعداد میں اسٹیلتھ فائٹرز چین کو:
- فضائی بالادستی
- گہرے حملے (Deep Strike)
- اور نیٹ ورکڈ جنگی صلاحیت
فراہم کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
RUSI کی پیش گوئی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک انتباہ ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک چین نہ صرف عددی بلکہ تکنیکی طور پر بھی خطے کی سب سے طاقتور فضائی قوت بن سکتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک پالیسی چیلنج بن چکی ہے، جس کا حل صرف منصوبوں نہیں بلکہ صنعتی رفتار میں تبدیلی سے ہی ممکن ہوگا۔




