ایک امریکی اہلکار نے ہفتے کی علی الصبح تصدیق کی ہے کہ امریکہ وینزویلا کے اندر فوجی حملے کر رہا ہے۔ اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر Reuters کو بتایا کہ کارروائی جاری ہے، تاہم اہداف، ہتھیاروں یا مدت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس پیش رفت کے بعد وینزویلا کے صدر Nicolás Maduro نے دارالحکومت کراکس میں متعدد دھماکوں اور نچلی پرواز کرنے والے طیاروں جیسی آوازوں کی اطلاعات کے تناظر میں ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
![]()
امریکی میڈیا کی تصدیق
امریکی میڈیا اداروں CBS News اور Fox News نے نام ظاہر نہ کرنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان حملوں میں امریکی افواج ملوث تھیں۔ تاہم پینٹاگون کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
وینزویلا کا مؤقف: ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘
وینزویلا کی حکومت نے ایک سخت بیان میں کہا کہ وہ “امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت” کو عالمی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتی ہے۔ حکام کے مطابق شہری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں، تاہم اہداف اور جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
علاقائی ردِعمل: کولمبیا کی فوری عالمی اپیل
کولمبیا کے صدر Gustavo Petro نے کراکس پر مبینہ “میزائل” حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ United Nations اور Organization of American States کو فوراً اجلاس بلانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اپنی معلومات کے ذرائع یا مزید شواہد فراہم نہیں کیے۔
پس منظر: واشنگٹن–کراکس کشیدگی
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں رپورٹ ہو رہی ہیں جب امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات برسوں سے سخت کشیدگی کا شکار ہیں—جن میں پابندیاں، سفارتی دباؤ اور منظم جرائم و منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات شامل رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکی حکام نے منشیات نیٹ ورکس اور مجرمانہ ڈھانچوں کے خلاف کارروائیوں کی بات کی ہے، تاہم موجودہ حملوں کا دائرہ اور مقصد تاحال واضح نہیں۔

کیا معلوم ہے، کیا نہیں؟
تصدیق شدہ نکات:
- ایک امریکی اہلکار نے وینزویلا کے اندر امریکی کارروائی کی تصدیق کی۔
- کراکس میں دھماکوں اور فضائی آوازوں کی اطلاعات۔
- صدر مادورو کی جانب سے ہنگامی حالت کا اعلان۔
غیر مصدقہ نکات:
- درست اہداف، استعمال شدہ ہتھیار، جانی و مالی نقصان۔
- آیا کارروائیاں شہری، فوجی یا مجرمانہ انفراسٹرکچر تک محدود تھیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
اگر صورتحال میں مزید شدت آئی تو علاقائی و عالمی فورمز پر ہنگامی سفارت کاری متوقع ہے۔ ہمسایہ ممالک اور منڈیاں بھی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ شمالی جنوبی امریکا میں عدم استحکام کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




