صورت حال سے واقف ذرائع کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اسرائیل اور شام کے درمیان بات چیت کے لیے ایک خفیہ مواصلاتی چینل شروع کیا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب شام کی نئی قیادت اسرائیل کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے علاقائی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
براہ راست معلومات رکھنے والے ایک ذریعہ، ایک شامی سیکورٹی اہلکار، اور ایک علاقائی انٹیلی جنس کے نمائندے نے بتایا کہ یہ بالواسطہ رابطے سیکورٹی، انٹیلی جنس کے مسائل، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا کرنے پر مرکوز ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کا فقدان ہے۔ ذرائع نے نشاندہی کی کہ ان رابطوں کا آغاز 13 اپریل کو شام کے صدر احمد شرع کے یو اے ای کے دورے کے فوراً بعد ہوا، جو کہ فی الحال ‘تکنیکی معاملات’ پر توجہ مرکوز ہیں۔
شام کے ایک سینیئر سیکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ بیک چینل سکیورٹی سے متعلقہ موضوعات، خاص طور پر انسداد دہشت گردی کے متعدد مسائل تک محدود ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ فوجی خدشات، خاص طور پر شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے متعلق امور موجودہ بات چیت میں شامل نہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا کہ ان عمل میں متحدہ عرب امارات کے سیکورٹی حکام، شامی انٹیلی جنس کے نمائندے، اور اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔شام کی صدارت اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے تبصروں کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا اور اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ثالثی کی یہ کوشش شام میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں سے پہلے ہوئی، دمشق میں صدارتی محل سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر بھی ایک حملہ ہوا تھا، اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ آیا ان حملوں کے بعد سے مواصلاتی چینل کا استعمال کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے شام، لبنان اور اسرائیل میں پائے جانے والے اسلام کے ایک اقلیتی فرقہ، دروز کمیونٹی کے خلاف دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے، شام میں نئی قیادت کے لیے ایک انتباہ کے طور پر حملے شروع کئے تھے۔ اسرائیل اور شام کے درمیان حالیہ غیر رسمی ثالثی کی کوششیں گزشتہ ہفتے مختلف چینلز کے ذریعے ہوئی ہیں۔
شامی حکومت نے اسرائیل کے اقدامات کو اشتعال انگیز اور غیر ملکی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق کی نئی انتظامیہ کی توجہ 14 سال کے تنازع کے بعد قوم کو متحد کرنے پر مرکوز ہے۔ نئے رہنماؤں نے یہ ثابت کرنے کی مسلسل کوششیں کی ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہیں، دمشق اور بین الاقوامی سطح پر یہودی برادری کے نمائندوں کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں، اور فلسطینی اسلامی جہاد کی سینئر شخصیات کو حراست میں لے رہے ہیں، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملے میں ملوث تھے۔
شام کی وزارت خارجہ کی طرف سے گزشتہ ماہ امریکی محکمہ خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں، جسے روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا، کہا گیا تھا کہ ‘ہم شام کو اسرائیل سمیت کسی بھی فریق کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔’
برسوں سے، اسرائیل نے شام میں ایران اور حزب اللہ سمیت اس کے اتحادیوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی خفیہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کی ہیں۔ دسمبر میں باغیوں کے ذریعے اسد کی معزولی کے بعد، اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی شام میں اسلام پسند عسکریت پسندوں کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔
اسرائیل نے ملک بھر میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی زمینی افواج جنوب مغربی شام میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔ فروری میں، رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے شرع کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے، امریکہ سے ایک ڈی سنٹرلائزڈ اور الگ تھلگ شام کو برقرار رکھنے پر زور دیا، احمد الشرع نے 2016 میں تعلقات منقطع کرنے سے پہلے القاعدہ کے ایک دھڑے کی قیادت کی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت شام کی نئی قیادت کے اسلام پسند رجحانات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی ہے، لیکن شرع اور صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات مبینہ طور پر مثبت رہی، جس سے ابوظہبی کے کچھ خدشات دور ہوئے۔
ذرائع نے عندیہ دیا کہ میٹنگ کئی گھنٹے تک طویل ہو گئی، جس کی وجہ سے شرع کو دوسری ملاقات میں تاخیر ہوئی۔ اسرائیل کے ساتھ ایک بیک چینل مبینہ طور پر اس ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد قائم کیا گیا تھا۔
دمشق اسرائیل کے ساتھ، براہ راست سفارتی تعلقات کی کمی کی روشنی میں، اسرائیل کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک اہم راستے کے طور پر۔ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، ان تعلقات کو 2020 میں امریکی ثالثی کے ایک تاریخی معاہدے میں رسمی شکل دی گئی تھی۔
شام میں اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے سنی مسلم اور دروز دھڑوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ ایک متنازعہ وائس ریکارڈنگ بنی جس میں مبینہ طور پر پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شامی حکومت نے سویدا کے علاقے میں دروز دھڑوں کے ساتھ کامیابی سے بات چیت کی ہے تاکہ ان کی کمیونٹی کے اندر سے مقامی سیکورٹی فورسز قائم کی جائیں، جس سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ یہ تنازع احمد شرع کے لیے ایک اہم چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے، جس نے مستقل طور پر شام کی تمام فوجی قوتوں کو یکجا کرنے اور ایک ایسے ملک پر حکومت کرنے کا عہد کیا ہے جو 14 سال کی خانہ جنگی سے بکھرا ہوا ہے۔
تاہم، فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات، بشمول مارچ میں اسد کے حامی سیکڑوں علویوں کی ہلاکتوں نے اقلیتی گروہوں کے درمیان اب مروجہ اسلام پسند دھڑوں کے حوالے سے تشویش کو بڑھا دیا ہے۔