پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران ہندوستان کو مکمل سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سفارتی سطح پر ہندوستان کی اس وقت صورتحال اس قدر خراب ہے ہے یورپ سے امریکا اور مشرق وسطی تک کے ممالک کے ساتھ بھارت کے سفارتی تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے ہیں۔
ہندوستان کو پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان پر الزام اور حملے کے لیے اسرائیل کے سوا کسی بھی ملک سے اعلانیہ مدد حاصل نہیں ہوسکی۔ ہندوستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں اقوام متحدہ سمیت دنیا کو اپنے ساتھ ملانے میں پہلی بار بری طرح ناکام رہا۔
نئی دہلی میں موجود ذرائع نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان پر جوابی حملے کے دوگھنٹے بعد ہی ہندوستان کے وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکا کے وزیرخارجہ مارکیو روبیو سے رابطہ کیا اور پاکستان کو روکنے کی درخواست کی۔اس پر امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ میں پاکستان سے دوبار بار بات کرچکا ہوں۔ پاکستان کی طرف سے پہلگام کے واقعہ کی شفاف تحقیقات کی پیشکش بھی آپ تک پہنچا چکا ہوں لیکن آپ نے امریکا کی بات نہ مانتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا جس کا جواب پاکستان کی طرف سے آنا فطری تھا۔ممکن ہے اس وقت پاکستان بھی امریکا کی بات نہ سنے۔ اس پر جے شنکر نے کہا کہ اگر یہ حملہ کچھ دیر اور جاری رہا تو ہندوستان کا بہت زیادہ نقصان ہوگا اور ہماری جگ ہسائی ہو گی۔
ذرائع نے بتایا کہ مارکو روبیونے پہلی گفتگو میں ہندوستان کو کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دیا جس کے کچھ دیر بعد نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے خود درخواست کی کہ وہ فوری سیز فائر چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے شرط رکھی کہ اگر وہ پاکستان کو راضی کرلیتے ہیں تو سیز فائر کا اعلان وہ خود کریں گے تاکہ بھارت کے پاس دوبارہ چھیڑ خانی کرنے کا موقع ہی نہ رہے۔بھارت کو یہاں بھی اپنی بات منوانے میں ناکامی کا سامنا رہا۔
ڈیفنس ٹاکس نے مودی کے غیرملکی دوروں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جس کے مطابق مودی نے سفارتکاری کی غرض سے گیارہ سالوں میں تہتر ممالک کے ایک سو ستاون غیر ملکی دورے کیے اور ان دونوں پر آٹھ ہزار چار سو کروڑ ہندوستان روپے کے اخراجات آئے جو پاکستانی کرنسی میں تیس ہزارکروڑ روپے بنتے ہیں۔
مودی نے سب سے زیادہ دس دورے امریکا ،آٹھ دورے فرانس، سات سات دورے جاپان ،روس اور متحدہ عرب امارات کے کیے۔دنیا کو ساتھ ملانے اورکسی بھی ملک کے وزیراعظم کی طرف سے خود سفارتکاری پر اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باجوداتنے اہم اور جنگ جیسے کڑے وقت میں دنیا کا ہندوستان کو دھتکارنا پوری دنیا میں زیر بحث ہے
۔اس وقت ہندوستان کی اپوزیشن ہی نہیں بلکہ عام عوام بھی سوال کررہے ہیں کہ اگر گیارہ سالوں کی سفارتکاری کا حاصل یہی ہے کہ تو پھر اس قدر سرمایہ اجاڑنے کا کیا فائدہ ہوا۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطی کے دورے پر آئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہر خطاب میں ہندوستان کو مخاطب کرتے ہوئے ڈکٹیٹ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا خیال ترک کرے تجارت کی طرف آئے۔
Trump on India-Pakistan: "Everyone was stronger, stronger– to a point where the next one was gonna be you know what. The n word. You know what the n word is, right? It’s the n word. That’s very nasty word, right? In a lot of ways. The n word used in a nuclear sense.” pic.twitter.com/ed920GKmKV
— Aaron Rupar (@atrupar) May 16, 2025
ٹرمپ نے ایپل کے سی ای او ٹم کک سے بھی کہا کہ وہ ہندوستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی مینوفیکچرنگ بندکردے اس کو بھی سفارتی محاذ پر بھارت کی ناکامی کہا جارہا ہے۔ یہ بھی سفارتی تنہائی کی ہی مثال ہے کہ جب بھارت نے پاکستان کا ساتھ دینے پر ترکیہ کیخلاف بائیکاٹ مہم شروع کی تو ایک بار پھر ٹرمپ درمیان میں آگئے اور ترکی کو میزائل دینے کا اعلان کرکے ہندوستان کو پیغام دیا کہ اس کو دنیا میں ایک ذمہ دار ملک کی طرح رہنا پڑے گا۔
“میں نے کُک (CEO, Apple) سے کہہ دیا ہے کہ اگر تم بھارت میں پلانٹ لگاؤ گے تو مجھے تم سے مسئلہ ہے۔” ڈونلڈ ٹرمپ
ہاں بھئی بھارتیو, اب امریکا کا بائیکاٹ کب شروع کرو گے 😂
pic.twitter.com/FAnN27mFB8— Azhar M Khan (@AzharMKhan3) May 15, 2025
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان پاکستان کو سفارتی طورپر تنہاکرنے کے مشن پر تھا لیکن خود اس تنہائی کا شکار ہوگیا جو گڑھا اس نے پاکستان کے لیے کھودا تھا وہ خود اس گہرے گڑھے میں گرگیا ہے لیکن دنیا میں سوائے اسرائیل کے اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے اسرائیل ظاہری اور اعلانیہ بھارت کے ساتھ ہے تو افغانستان خفیہ طوپر ہندوستان کی حمایت کررہا ہے اس کے لیے پوری دنیا پاکستان کے موقف کے ساتھ ہے۔