ہفتہ, 30 اگست, 2025

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران پر اگست یا دسمبر میں ایک اور اسرائیلی حملے کے ممکنہ منظرنامے

فارن پالیسی میگزین کے مطابق اسرائیل دسمبر سے پہلے ایران کے ساتھ ایک اور جنگ شروع کر سکتا ہے ممکنہ طور پر اگست کے آخر تک، دونوں ممالک کی اسٹریٹجک  کیلکولیشن سے پتہ چلتا ہے کہ نئی جنگ اور بھی زیادہ خونی ہوگی۔

اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اسرائیلی دباؤ کا شکار ہو کر لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں تو امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک بھرپور جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے مقابلے میں عراق جنگ معمولی نظر آئے گی۔

کئی عوامل دسمبر 2025 سے پہلے ایک اور اسرائیل-ایران جنگ کے امکان میں حصہ ڈالتے ہیں:

اسرائیل کے اسٹریٹجک مقاصد:

اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ جون 2025 کے حملوں میں نطنز جیسی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، لیکن مبینہ طور پر مضبوط فردو سائٹ برقرار ہے۔ امریکی مدد کے بغیر فردو کو  تباہ کرنے میں اسرائیل کی ناکامی کسی نئی کارروائی کا اشارہ دیتی ہے۔

کمزور ایرانی پراکسیز:

ایران کے اتحادیوں، جیسے لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی حالیہ فوجی کامیابیوں نے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کیا ہے۔ یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع بناتی ہے کہ وہ  ایران کے خلاف اپنی برتری کو بڑھائے، خاص طور پر اگر اسے یقین ہو کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں زوال پذیر ہیں۔

حکومت کی تبدیلی کے عزائم:

کچھ تجزیے یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل کے اقدامات کا مقصد نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے بلکہ ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنا بھی ہے، جس کا نتیجہ ممکنہ طور پر ایرانی حکومت کے خاتمے یا زیادہ معتدل حکومت کے قیام کی صورت نکلے۔

ایران کا ردعمل اور صلاحیتیں:

 جون 2025 میں ایران کی جوابی کارروائی، جس کا کوڈ نام "وعدہ صادق III” تھا، جس میں اسرائیل کے خلاف 150 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور 100 ڈرون لانچ کیے گئے، جس سے اسرائیل میں شہری ہلاکتیں اور نقصان ہوا۔ اس جنگ میں ایران کے فضائی دفاع اور فوجی ڈھانچے کو نمایاں طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کے روایتی ردعمل کے آپشنز محدود ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کے S-400 کے خلاف پاکستان کا CM-400AKG میزائل کا استعمال، چینی ٹیکنالوجی کے بارے میں مغرب کے خدشات بڑھ گئے

ایران  کی مزاحمتی صلاحیت، بشمول پراکسی ملیشیا (مثال کے طور پر، یمن میں حوثی، عراقی ملیشیا) اور ممکنہ سائبر حملے برقرار ہیں۔ تاہم، اس کی کمزور پراکسیز اور روس اور چین جیسے اتحادیوں کی مضبوط پشت پناہی کا فقدان اس کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کر سکتا ہے۔

امریکی مداخلت اور سیاسی محرکات:

امریکہ نے اب تک اپنے کردار کو اسرائیل کی دفاعی مدد، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے تک محدود رکھا ہے، لیکن براہ راست جارحانہ شمولیت سے انکار کیا ہے۔ تاہم، فردو کو نشانہ بنانے میں امریکی مدد کے لیے اسرائیل کی درخواست منظور ہونے کی صورت میں امریکہ  تنازع میں دھنس سکتا ہے۔

امریکی اندرونی سیاست صورتحال کو پیچیدہ بناتی ہے۔ پولز سے پتہ چلتا ہے کہ 60% امریکی اسرائیل ایران جنگ میں امریکہ کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہیں، اور کشیدگی میں اضافے کے بارے میں دونوں جماعتوں میں  تشویش پائی جاتی ہے، سینیٹر رینڈ پال اور  کانگریس مین تھامس میسی جیسی شخصیات نے امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ ٹرمپ انتظامیہ کو مشرق وسطیٰ کی ایک اور جنگ سے بچنے کے لیے اپنے MAGA بیس سے دباؤ کا سامنا ہے، جو اس کے موقف کو متاثر کر سکتی ہے۔

 سفارتی راستے بند رہنے کی صورت میں مزید اسرائیلی کارروائی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

علاقائی اور عالمی مضمرات:

 توانائی کی منڈیاں:

تنازعہ نے پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ کر دیا ہے، اگر ایران آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں خلل ڈالتا ہے یا خلیجی ممالک کے انرجی انفراسٹرکچر پر حملہ کرتا ہے تو تیل قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے عالمی اقتصادی نتائج ہوں گے، جس میں تیل کی قیمت $150 فی بیرل تک پہنچنے کی صورت میں ممکنہ کساد بازاری بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چین کا سرد جنگ دور کا بمبار طیارہ اپ گریڈیشن کے بعد امریکی فوجی تنصیبات کے لیے خطرہ بن گیا؟

جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں:

ایک کمزور ایران طاقت کے علاقائی توازن کو اسرائیل اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے حق میں کر سکتا ہے۔ تاہم، غیر مستحکم ایران کو اندرونی بدامنی یا طاقت کے خلا کا خطرہ لاحق ہوگا، جو ممکنہ طور پر انتہا پسندی یا علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دے گا۔

چین اور روس:

دونوں طاقتوں نے کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ایران کو محدود مادی مدد فراہم کی ہے۔ ان کا  محدو ردعمل اسرائیل اور امریکہ کو جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا حوصلہ دے سکتا ہے، کیونکہ نہ تو روس  اور نہ ہی چین براہ راست مقابلہ کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

ممکنہ منظرنامے :

اسرائیل کی فضائی بمباری ۔۔۔۔ پینسٹھ فیصد امکانات

ایک منظرنامہ  یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر فضائی بمباری کرے اور اس کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کرے، اپنے مقاصد کو ہفتوں یا مہینوں میں حاصل کر لے۔ ایسی کارروائی کی تاریخی مثالوں میں 1981 میں عراق کے اوسیرق ری ایکٹر پر اسرائیل کا حملہ اور شام کی جوہری تنصیب پر 2007 کا حملہ شامل ہے۔

یہ سب سے زیادہ ممکن منظر نامہ ہے، کیونکہ یہ منظرنامہ اسرائیل کی فضائی برتری اور انٹیلی جنس غلبے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس سے اسے وسیع جنگ شروع کیے بغیر کارروائیوں کی اجازت ملتی ہے۔

ایرانی جوابی کارروائی اور کشیدگی(25% امکان):

 ایران پراکسی حملوں، سائبر حملوں، یا آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے ذریعے کشیدگی بڑھاسکتا ہے۔ یہ اس کی آبادی کو بیرونی جارحیت کے خلاف متحد کرے گا اور امریکا کو شمولیت پر مجبور کرے گا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران ایک پیشگی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو  ایک اور اسرائیلی حملے کا سبب بن سکتا ہے۔

سفارتی حل (10% امکان):

 ایران  ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور پابندیوں میں ریلیف کے بدلے پراکسی سرگرمیوں کو روکنے پر اتفاق کرلے۔ تاہم، ایسی صورت میں حکومت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کمزور ایران کو رعایتیں دینے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے بھی سفارتی حل ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں  متحدہ عرب امارات کی برکس اتحاد میں شمولیت، کس کو کتنا فائدہ ہوگا؟

تنقیدی جائزہ:

فارن پالیسی میگزین کا مضمون دسمبر 2025 سے پہلے تصادم کے  بہت زیادہ امکانات تجویز کرتا ہے، تاہم  کئی عوامل غور طلب ہیں:

وقت اور محرکات:

مضمون میں اگست کے آخر تک یا دسمبر سے پہلے ممکنہ جنگ کے دعوے میں اسرائیل کی اسٹریٹجک ونڈو اور ایران کی کمزور ریاست  کے علاوہ مخصوص محرکات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کسی فوری ایرانی خطرے کے واضح ثبوت بھی نہیں دیے گئے۔

 اسرائیل کو ایک اور بلا اشتعال حملہ شروع کرنے پر بین الاقوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی مجبوریاں:

 ٹرمپ انتظامیہ کی براہ راست شمولیت میں ہچکچاہٹ، اندرونی مخالفت اور دیگر خطوں میں سٹرٹیجک وعدے (مثلاً، یوکرین، انڈو پیسیفک)، اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روک سکتی ہے جن کے لیے امریکی حمایت کی ضرورت  ہے۔

ایران کی کیلکولیشن: 

 ایران کی حکومت نے تاریخی طور پر  کشیدگی پر بقا کو ترجیح دی ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے جیسے خودکش اقدام کا امکان اس وقت تک نہیں ہے جب تک حکومت کو خاتمے کا سامنا نہ ہو۔

دسمبر 2025 سے پہلے ایک اور اسرائیل ایران جنگ کا امکان، جیسا کہ فارن پالیسی میگزین نے تجویز کیا ہے، قابل فہم ہے لیکن یقینی نہیں ہے۔

اسرائیل کی سٹریٹجک برتری، جو اس کی فوجی برتری اور ایران کی کمزور پراکسیز کی وجہ سے ہے، مزید حملوں کا موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر اگر ایران کا جوہری پروگرام آگے بڑھتا ہے یا اسرائیل کو حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

سب سے زیادہ امکانی منظر نامے میں امریکی محدود مداخلت کے ساتھ مسلسل اسرائیلی حملے شامل ہیں، حالانکہ غلط کیلکولیشن  کا خطرہ وسیع تر تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین