پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے داعش خراسان (ISIS-K) کے ترجمان اور اس کے مرکزی میڈیا نیٹ ورک الاعظیم فاؤنڈیشن کے بانی و سربراہ سلطان عزیز عزام کو گرفتار کر لیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری تنظیم کے میڈیا، پروپیگنڈا اور ابلاغی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلطان عزیز عزام داعش خراسان کی نظریاتی تشہیر، بیانات، ویڈیوز، آڈیو پیغامات اور کثیر لسانی مواد کی نگرانی کرتا تھا۔ اس کی سربراہی میں العزام فاؤنڈیشن داعش خراسان کا مرکزی اور باضابطہ میڈیا پلیٹ فارم بن چکا تھا، جس کے ذریعے تنظیم اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی اور نظریاتی پیغام پھیلاتی تھی۔
حراست اور پس منظر
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سلطان عزیز عزام کو مئی 2025 میں پاکستان میں داخلے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا، تاہم بعض اطلاعات کے مطابق وہ کچھ عرصے سے پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی تحویل میں تھا۔ گرفتاری کی خبر اب منظرِ عام پر آئی ہے، تاہم اس کے وقت اور محرکات پر حکام نے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔
سلطان عزیز عزام کا تعلق ننگرہار، افغانستان سے تھا۔ وہ ننگرہار یونیورسٹی کا فارغ التحصیل تھا اور شدت پسندی کی جانب آنے سے قبل صوبائی کونسل کے مشیر اور مقامی ریڈیو چینلز سے وابستہ رہا۔ وہ پشتو اور دری زبان پر عبور رکھتا تھا اور بطور براڈکاسٹر خاصی شہرت حاصل کر چکا تھا۔
داعش خراسان میں کردار
ذرائع کے مطابق سلطان عزیز عزام نے 2016 کے بعد داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی تنظیم کے چیف میڈیا اسٹریٹجسٹ اور ترجمان کے طور پر ابھرا۔ اس کی تیار کردہ تقاریر اور ویڈیوز نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر داعش کے حامی حلقوں میں پھیلائی جاتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق اس کی اصل طاقت میدانِ جنگ کے بجائے بیانیہ تشکیل دینے، بھرتی اور نظریاتی اثر و رسوخ میں تھی، جس کے باعث اسے داعش خراسان کی قیادت میں کلیدی حیثیت حاصل تھی۔
امریکی پابندیاں اور عالمی تشویش
امریکہ نے نومبر 2021 میں سلطان عزیز عزام کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کا نام اسپیشل ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ (SDGT) کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق وہ داعش خراسان کی ابلاغی جنگ کا مرکزی کردار تھا۔
داعش خراسان کو مجموعی نقصان
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سلطان عزیز عزام اور دیگر سینئر رہنماؤں کی گرفتاری یا ہلاکت کے بعد تنظیم کے کئی اہم پروپیگنڈا پلیٹ فارمز، بشمول “وائس آف خراسان”، غیر فعال ہو چکے ہیں۔
اگرچہ داعش خراسان اب بھی بعض علاقائی زبانوں میں مواد پھیلا رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی بین الاقوامی رسائی اور منظم تشہیر میں واضح کمی آئی ہے۔
تحقیقات جاری
ذرائع کے مطابق سلطان عزیز اعظَم اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی تحویل میں ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا پاکستان اس تفتیش میں امریکہ یا دیگر ممالک کو شامل کرے گا یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گرفتاری اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید دہشت گرد تنظیموں میں ابلاغ اور میڈیا جنگ کو عسکری طاقت جتنی ہی اہمیت حاصل ہے، اور ایسے کرداروں کا خاتمہ تنظیموں کی مجموعی قوت کو شدید متاثر کرتا ہے۔




