بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی دفاعی منصوبہ بندی میں پاکستان کیوں نظر نہیں آتا؟

گزشتہ دو دہائیوں تک پاکستان امریکی دفاعی اور سیکیورٹی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی ستون رہا، مگر حالیہ امریکی دفاعی دستاویزات اور قانون سازی میں پاکستان کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس تبدیلی نے اسلام آباد اور خطے کے مبصرین میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آخر امریکہ کی دفاعی منصوبہ بندی میں پاکستان کیوں غائب ہو چکا ہے؟

افغانستان کے بعد کا دور

9/11 کے بعد پاکستان امریکہ کا ایک اہم اتحادی تھا—افغانستان میں امریکی افواج کے لیے لاجسٹک سپورٹ، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ دہشت گردی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
لیکن 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ عملی ضرورت ختم ہو گئی۔ امریکہ کو اب نہ تو پاکستانی سپلائی روٹس درکار ہیں اور نہ ہی خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی۔

اسی کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت ایک فرنٹ لائن اتحادی سے ایک ثانوی کردار میں تبدیل ہو گئی۔

چین مرکز امریکی حکمتِ عملی

آج امریکی دفاعی پالیسی کا مرکزی نکتہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلہ ہے۔ اس تناظر میں:

  • پاکستان چین کا قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ہے
  • سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کو بیجنگ کے ساتھ گہرائی سے جوڑتے ہیں
  • پاکستان امریکی چین مخالف بلاک کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں

اس کے برعکس بھارت کو امریکہ چین کے توازن کے لیے ایک قدرتی شراکت دار سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے امریکی دفاعی منصوبہ بندی میں بھارت کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

اعتماد کا فقدان

امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں ایک دیرینہ اعتماد کا بحران بھی موجود ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک پاکستان:

  • اسٹریٹجک خودمختاری کو ترجیح دیتا ہے
  • امریکہ کے بجائے کثیرالجہتی تعلقات چاہتا ہے
  • امریکی سلامتی اتحادوں کا حصہ بننے سے گریزاں ہے
یہ بھی پڑھیں  بڑا بجٹ، طویل انتظار: DRDO چیئرمین کے دعوے اور بھارت کی دفاعی حقیقت

جبکہ پاکستان امریکہ کو ایک عارضی اور مفاداتی شراکت دار سمجھتا ہے، جس کی مثال افغانستان میں اچانک انخلا ہے۔

شراکت داری سے نگرانی تک

حالیہ امریکی دفاعی دستاویزات میں پاکستان کو اگر کہیں شامل کیا گیا ہے تو وہ:

  • انسدادِ دہشت گردی
  • علاقائی عدم استحکام
  • افغانستان سے جڑے سیکیورٹی خدشات

کے تناظر میں ہے۔
دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی یا مشترکہ پیداوار سے متعلق کوئی واضح منصوبہ شامل نہیں۔

یہ تبدیلی شراکت داری سے “رسک مینجمنٹ” کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔

کانگریس اور داخلی سیاست

امریکی کانگریس میں بھارت کو مضبوط دو جماعتی حمایت حاصل ہے، جبکہ پاکستان کے لیے فضا نسبتاً سرد ہے۔
افغانستان میں ناکامی کے بعد امریکی قانون ساز حلقوں میں پاکستان کو مستقبل کے بجائے ماضی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

کیا یہ دشمنی ہے؟

پاکستان کا امریکی دفاعی منصوبہ بندی سے غائب ہونا نہ تو پابندی ہے اور نہ ہی کھلی دشمنی۔
یہ ایک اسٹریٹجک اشارہ ہے کہ:

امریکہ اپنی آئندہ جنگوں، اتحادوں اور دفاعی تیاریوں میں پاکستان کو مرکزی کردار کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔

نتیجہ

امریکی دفاعی حکمتِ عملی اب تین نکات پر مرکوز ہے:

  • چین کے ساتھ مقابلہ
  • جدید ٹیکنالوجی
  • مضبوط اتحادی نیٹ ورک

اس نقشے میں:

  • بھارت شامل ہے
  • پاکستان کو منیج کیا جا رہا ہے
  • افغانستان ایک بند باب بن چکا ہے

پاکستان کی عدم موجودگی کسی بھول کا نتیجہ نہیں بلکہ بدلتے عالمی نظام اور امریکی ترجیحات کی عکاسی ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین