بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

میدان وردک میں ڈرون گرنے کا واقعہ: اسرائیلی ساختہ ہیرون سے مشابہت، ملکیت غیر واضح

افغانستان کے صوبہ میدان وردک کے دارالحکومت میدان شہر کے مضافات میں ایک جہاز گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ مکمل طور پر ڈرون (UAV) تھا یا کوئی اور بغیر پائلٹ فضائی نظام، اور اس کا تعلق کس ملک سے ہے۔ افغان حکام یا کسی بین الاقوامی ذریعے کی جانب سے واقعے پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں تباہ شدہ جہاز کا ڈھانچہ اسرائیلی ساختہ ہیرون (Heron) ڈرون سے مشابہ دکھائی دیتا ہے، تاہم صرف ظاہری مشابہت کی بنیاد پر اس کی شناخت یا ملکیت کی تصدیق ممکن نہیں۔

Image

ہیرون ڈرون کیا ہے؟

ہیرون ایک درمیانی بلندی پر طویل دورانیے تک پرواز کرنے والا نگران اور جاسوسی ڈرون ہے، جسے اسرائیل کی دفاعی صنعت نے تیار کیا ہے۔ یہ ڈرون دنیا کے کئی ممالک کے زیرِ استعمال ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ خطے میں ہیرون ڈرون کا آپریٹر صرف ایک ملک نہیں، اس لیے کسی ایک ریاست کو ذمہ دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔

بھارت سے متعلق دعوے: حقیقت کیا ہے؟

کچھ غیر مصدقہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ:

  • یہ اسرائیلی ساختہ ڈرون مئی میں بھارت نے ’’انسانی امداد‘‘ کے نام پر افغانستان کو فراہم کیا تھا
  • اور اس کا افغانستان میں گرنا خطے میں عدم استحکام سے جوڑا جا رہا ہے

تاہم ان دعوؤں کے حق میں تاحال کوئی مستند یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی افغان حکام، نہ کسی بین الاقوامی مبصر، اور نہ ہی بھارت یا اسرائیل کی جانب سے ایسے کسی دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاک فضائیہ کا مقامی ساختہ ’تیمور‘ کروز میزائل کامیاب تجربہ، دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ

صرف تصاویر سے ملکیت ثابت نہیں کی جا سکتی

دفاعی ماہرین کے مطابق:

  • متعدد جدید ڈرونز کے ڈیزائن ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں
  • کسی ڈرون کی درست شناخت کے لیے سیریل نمبر، الیکٹرانک سسٹمز، فلائٹ لاگز یا باضابطہ حکومتی تصدیق ضروری ہوتی ہے

محض تصاویر یا ویڈیوز کی بنیاد پر کسی ملک پر الزام عائد کرنا صحافتی اور تزویراتی دونوں حوالوں سے غیر محتاط عمل سمجھا جاتا ہے۔

افغانستان میں فضائی سرگرمیاں اور حساس ماحول

افغانستان میں حالیہ برسوں کے دوران غیر واضح فضائی سرگرمیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جہاں:

  • مختلف ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی نگرانی
  • انٹیلی جنس پروازیں
  • اور تکنیکی خرابیوں کے باعث حادثات

کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں میدان وردک کا واقعہ بھی مزید تحقیق اور باضابطہ وضاحت کا متقاضی ہے۔

نتیجہ: تصدیق کے بغیر دعوے، محض قیاس آرائیاں

فی الوقت دستیاب معلومات کے مطابق:

  • میدان شہر کے قریب ایک مشتبہ ڈرون یا جہاز گرنے کی تصدیق ہے
  • اس کی حتمی شناخت اور ملکیت غیر واضح ہے
  • بھارت یا کسی اور ملک سے جوڑنے والے دعوے غیر مصدقہ اور قیاس آرائی پر مبنی ہیں

حتمی نتیجہ اسی وقت اخذ کیا جا سکے گا جب افغان حکام، بین الاقوامی مبصرین یا متعلقہ ممالک اس حوالے سے باضابطہ تحقیقات اور بیانات جاری کریں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین