بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

جو شی مٹھ میں بھارتی فوجی کیمپ میں دھماکا، گولہ بارود کے حادثے کا شبہ، تحقیقات شروع

بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے حساس پہاڑی علاقے جو شی مٹھ کے قریب بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں زور دار دھماکے اور آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں۔ واقعے کی وجہ تاحال سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں، تاہم تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اب تک کیا تصدیق ہوئی ہے؟

  • جو شی مٹھ کے مضافات میں ایک بھارتی فوج کی تنصیب میں دھماکا رپورٹ ہوا۔
  • دھماکے کے بعد آگ لگی جسے کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
  • جانی نقصان یا مالی نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔
  • حکام نے واقعے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تکنیکی جانچ کا آغاز کر دیا ہے۔

گولہ بارود کے حادثے کا امکان

مقامی ذرائع اور دفاعی مبصرین کے مطابق دھماکے کی ممکنہ وجہ گولہ بارود یا راکٹ کی حادثاتی تباہی ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر ذخیرہ شدہ مواد پرانا یا میعاد پوری کر چکا ہو۔ بلند پہاڑی علاقوں میں درجۂ حرارت اور نمی میں شدید اتار چڑھاؤ بارودی مواد کے استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی وجہ کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور تمام امکانات زیرِ غور ہیں۔

جو شی مٹھ کی عسکری اہمیت

جو شی مٹھ بھارت کے شمالی محاذ کے قریب واقع ایک اہم لاجسٹک اور تعیناتی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے بلند پہاڑی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت اور رسد کی فراہمی کی جاتی ہے۔ یہ خطہ ہمالیائی جغرافیے میں فوجی تیاریوں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  صدر پیوٹن کو اقتدار کے پچیس سال مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ کی ناقابل پیشگوئی خارجہ پالیسی کا امتحان درپیش

خطے میں موجود عسکری یونٹس

اوپن سورس دفاعی معلومات کے مطابق سنٹرل کمانڈ کے تحت اتراکھنڈ میں مختلف توپ خانے اور راکٹ یونٹس کی موجودگی دیکھی جاتی ہے، جن میں شامل ہو سکتے ہیں:

  • 841 راکٹ رجمنٹ — جس کے پاس پیناکا اور گراد-21 (اگنی بان) جیسے راکٹ سسٹمز ہیں، جو پہاڑی علاقوں میں گہرے حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • میڈیم آرٹلری رجمنٹس — جو M777 الٹرا لائٹ ہاؤٹزر سے لیس ہیں؛ یہ ہتھیار ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جائے جا سکتے ہیں، اسی لیے جو شیمٹھ اور پتھوراگڑھ جیسے علاقوں میں تعینات کیے جاتے ہیں۔
  • دیگر راکٹ یونٹس — جیسے 551 اور 1812 راکٹ رجمنٹس، جو پہاڑی بریگیڈز کو بھاری فائر سپورٹ فراہم کرتی ہیں۔

وضاحت: کسی مخصوص رجمنٹ یا ہتھیار کے اس واقعے میں ملوث ہونے کی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

چین یا ایل اے سی سے جوڑنے والے دعوے غیر مصدقہ

سوشل میڈیا پر بعض دعوے اس واقعے کو چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) کی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی سرکاری یا معتبر ذریعے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات عموماً حفاظتی اور لاجسٹک معاملات کے تناظر میں دیکھے جاتے ہیں، نہ کہ فوری آپریشنل سرگرمیوں کے طور پر۔

آگے کیا ہوگا؟

  • ذخیرۂ گولہ بارود، حفاظتی پروٹوکول اور مواد کی حالت کا تفصیلی تکنیکی معائنہ کیا جائے گا۔
  • نتائج کی روشنی میں ذخیرہ اور ہینڈلنگ کے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ متوقع ہے، خاص طور پر بلند پہاڑی ڈپوؤں میں۔
  • تحقیقات مکمل ہونے پر ہی واقعے کی حتمی وجہ سامنے آ سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ میں فوج بھیجنے کا سوال: واشنگٹن کے دباؤ میں پاکستان مشکل فیصلے کے دہانے پر
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین