امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولا مادورو کی گرفتاری اور ملک سے منتقلی کے بعد امریکا عارضی طور پر وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا، جب تک وہاں ایک محفوظ، منظم اور ذمہ دارانہ سیاسی انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔
فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا فوری طور پر وینزویلا کو چلائے گا تاکہ دہائیوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کیا جا سکے۔
“ہم اس وقت تک ملک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا،” ٹرمپ نے کہا۔ “ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ کوئی اور آ کر وہی حالات پیدا کر دے جو برسوں سے وینزویلا میں رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے عبوری انتظامیہ کی مدت کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی، تاہم کہا کہ امریکا کا مقصد امن، آزادی اور انصاف کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ان لاکھوں وینزویلین شہریوں کے لیے جو امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایسے کسی شخص کو اقتدار میں آنے کی اجازت نہیں دے گا جو وینزویلا کے عوام کے مفادات کو مدنظر نہ رکھتا ہو۔ “ہم یہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،” ٹرمپ نے زور دیا۔
امریکی صدر کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں دہشت گردی اور منشیات سے متعلق الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔ واشنگٹن طویل عرصے سے مادورو حکومت پر “نارکو اسٹیٹ” چلانے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ان کی ہدایت پر وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں ایک غیر معمولی فوجی کارروائی انجام دی، جس میں فضائی، زمینی اور بحری طاقت استعمال کی گئی۔
“یہ امریکی تاریخ میں فوجی طاقت اور مہارت کا ایک شاندار مظاہرہ تھا،” ٹرمپ نے کہا۔ “یہ ایسی کارروائی تھی جیسی دوسری جنگِ عظیم کے بعد نہیں دیکھی گئی۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران وینزویلا کی تمام بڑی عسکری صلاحیتیں مفلوج کر دی گئیں، جبکہ کسی بھی امریکی فوجی کی ہلاکت یا سازوسامان کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دوسری اور اس سے بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے، تاہم پہلی کارروائی کی کامیابی کے باعث اس کی ضرورت شاید پیش نہ آئے۔
سیاسی مستقبل کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا وینزویلا میں عبوری قیادت کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا کا کردار بھی زیرِ غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام عمل کا مقصد “آمر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا” اور وینزویلا کے عوام کے لیے ایک پُرامن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کرنا ہے۔




