بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

“میک ایران گریٹ اگین”: گراہم کے بیان سے ایران کے لیے امریکی حکمتِ عملی کے نئے اشارے

امریکی سینیٹر Lindsey Graham کے ایک بیان نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک عوامی موقع پر “Make Iran Great Again” کی ٹوپی پہن کر گراہم نے کہا:

“میں دعا اور امید کرتا ہوں کہ 2026 وہ سال ہو جب ہم ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں مہنگائی، معاشی دباؤ اور سیاسی بے چینی کے باعث حالیہ ہفتوں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، اور واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف پر بات بڑھتی جا رہی ہے۔

Image


احتجاجی پس منظر اور عالمی توجہ

ایران میں حالیہ مظاہروں کو بین الاقوامی میڈیا نے معاشی مشکلات، کرنسی کی قدر میں کمی اور دیرینہ سیاسی مطالبات سے جوڑا ہے۔ ایرانی حکام ان احتجاجات کو بیرونی مداخلت سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ مغربی ممالک اسے عوامی ناراضی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں گراہم کا بیان محض علامتی نہیں بلکہ سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

“میک ایران گریٹ اگین” سے مراد کیا ہے؟

امریکی پالیسی حلقوں کے مطابق یہ نعرہ کسی فوری فوجی اقدام کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے:

  1. معاشی دباؤ میں تسلسل
    امریکہ ایران پر پابندیوں کو برقرار رکھنے اور ان پر عملدرآمد سخت کرنے کے حق میں ہے، خاص طور پر تیل، شپنگ اور مالیاتی نیٹ ورکس کے حوالے سے۔
  2. اطلاعات اور عوامی سفارت کاری
    فارسی زبان میں پیغامات، انٹرنیٹ تک رسائی، اور انسانی حقوق پر زور دے کر یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ تبدیلی ایرانی عوام کی اپنی کاوش سے آئے۔
  3. علاقائی محاصرہ اور توازن
    واشنگٹن خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود رکھنے اور اتحادیوں کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
  4. شرائط کے ساتھ سفارت کاری
    مذاکرات کے دروازے بند نہیں، مگر کسی بھی پیش رفت کو قابلِ تصدیق تبدیلیوں سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں  روس یوکرین تنازع کے ٹھوس اور طویل مدتی حل کا خواہاں ہے، روسی انٹیلی جنس چیف

Image


حملہ نہیں، مگر دباؤ واضح

گراہم اور دیگر امریکی قانون سازوں کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ براہِ راست فوجی مداخلت امریکی مقصد نہیں۔ تاہم، دباؤ، تنہائی اور سیاسی لیوریج کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن میں ایرانی قیادت پر اندرونی اور بیرونی لاگت بڑھے۔

حامیوں کے نزدیک “میک ایران گریٹ اگین” کا نعرہ ایرانی عوام سے یکجہتی کی علامت ہے، جبکہ ناقدین اسے ریجیم چینج کی زبان سے تعبیر کرتے ہیں۔

ردِعمل اور خدشات

ایرانی حکام نے ایسے بیانات کو مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بیرونی دباؤ داخلی سختی کو بڑھا سکتا ہے۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ تند و تیز بیانات، چاہے عملی اقدام نہ بھی ہوں، غلط اندازوں کے خطرات بڑھا دیتے ہیں۔

اس کے باوجود واشنگٹن میں یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ داخلی احتجاج اور بیرونی دباؤ کا امتزاج مستقبل میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

تجزیہ

لنڈسے گراہم کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ ایران کے معاملے میں انتظام (management) سے آگے بڑھ کر نتائج کی تشکیل (outcome-shaping) کی زبان استعمال کر رہا ہے—کم از کم بیانیے کی سطح پر۔ یہ حکمتِ عملی کہاں تک جاتی ہے، اس کا دارومدار ایران کے اندر حالات، قیادت کی ہم آہنگی اور خطے کی مجموعی حرکیات پر ہے۔

فی الحال ایک بات واضح ہے: 2026 کو واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے—جس میں دباؤ، تسلسل اور صبر کو کلیدی اوزار سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  وینزویلا آپریشن کا دفاع: ’ہم منشیات کارٹلز سے جنگ میں ہیں، ریاست سے نہیں‘ روبیو
حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین