بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

آپریشن سندور کی جنگ بندی کے دن بھارتی سفارت خانے کے وائٹ ہاؤس سے رابطے بے نقاب

امریکہ میں فارَن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے 10 مئی کو—یعنی آپریشن سندور کے دوران جنگ بندی کے اعلان والے دن—امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تین سینئر حکام سے رابطہ کیا۔ ان رابطوں کا مقصد مبینہ طور پر تنازع سے متعلق میڈیا کوریج پر بات چیت تھا۔

فائلنگ کے مطابق جن امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا ان میں Susie Wiles، Jamieson Greer اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اہلکار Ricky Gill شامل ہیں۔ اگرچہ فائلنگ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رابطے جنگ بندی سے پہلے ہوئے یا بعد میں، تاہم ایک ہی دن میں اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطے قریبی اور فوری تعامل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Image

فارا دستاویزات کیا بتاتی ہیں؟

یہ تفصیلات امریکی محکمۂ انصاف کے FARA ڈیٹا بیس میں دسمبر 2025 کے دوران جمع کرائی گئی لگ بھگ 60 اندراجات کا حصہ ہیں، جو ایک امریکی لابنگ فرم نے بھارتی سفارت خانے کی نمائندگی کرتے ہوئے فائل کیں۔ ان اندراجات میں 10 مئی کو وائٹ ہاؤس، یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو کے دفتر اور نیشنل سیکیورٹی کونسل سے فون کالز اور آؤٹ ریچ درج ہے، جن کا مقصد “میڈیا کوریج” بیان کیا گیا ہے۔

فارا کے تحت ایسی فائلنگز میں عام طور پر رابطوں کی نوعیت اور مقصد درج کیا جاتا ہے، تاہم بات چیت کے نتائج یا کالز کی تفصیل شامل نہیں ہوتی۔

تجارت اور سلامتی کا ملاپ

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فہرست میں یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو کی شمولیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھارت نے ایک ہی وقت میں تجارتی اور سلامتی دونوں محاذوں پر واشنگٹن سے روابط رکھے۔ ایک طرف خطے میں کشیدگی اور جنگ بندی کا مرحلہ تھا، تو دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تجارتی معاملات اور ممکنہ دباؤ بھی زیرِ غور تھے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کابینہ کے نامزد ارکان اسرائیل کے حق میں بیانات کی روشنی میں

ابھی کیا واضح نہیں؟

فائلنگز میں یہ بات سامنے نہیں آتی کہ:

  • رابطے جنگ بندی سے پہلے یا بعد میں ہوئے؛
  • آیا ان رابطوں کے نتیجے میں باضابطہ ملاقاتیں ہوئیں یا نہیں؛
  • میڈیا کوریج پر بات چیت کی تفصیلی نوعیت کیا تھی۔

اہم کیوں؟

یہ انکشاف اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ بحران کے لمحات میں نئی دہلی کس طرح واشنگٹن کے لابنگ اور سفارتی نیٹ ورک کو بروئے کار لا کر:

  • بیانیے کو منظم کرنے،
  • امریکی فیصلہ سازوں تک فوری رسائی حاصل کرنے،
  • اور تجارت و سلامتی کے معاملات کو بیک وقت سنبھالنے

کی کوشش کرتا ہے۔ ساتھ ہی، فارا فائلنگز اس طرح کے رابطوں کو عوامی جانچ پڑتال کے دائرے میں لے آتی ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین