اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں امریکا کسی نہ کسی نوعیت کی مداخلت پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حلقے اس بات پر خاصے متوجہ ہیں کہ حالیہ وینزویلا میں امریکی کارروائی نے ممکنہ طور پر ایران کے معاملے میں بھی امریکی اقدام کی سیاسی و تزویراتی حد کو کم کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو وینزویلا میں امریکی مداخلت کی رفتار اور انداز پر حیرت ہوئی، اور اب اسرائیلی تجزیہ یہ ہے کہ یہی کارروائی ایران میں کسی امریکی اقدام کے لیے نظیر بن سکتی ہے۔
وینزویلا بطور نظیر

یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی جائزوں میں وینزویلا آپریشن کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے—جہاں امریکا نے محدود زمینی موجودگی، تیز عمل درآمد اور مضبوط سیاسی پیغام کے ساتھ کارروائی کی۔ اس ماڈل کو ایران پر براہِ راست جنگ کے بغیر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے نزدیک، وینزویلا نے یہ دکھایا کہ امریکا قانونی، مالی اور سکیورٹی فریم ورک کے تحت ٹارگٹڈ اقدامات کر سکتا ہے، جنہیں مکمل “رجیم چینج” کے بجائے قانون نافذ کرنے یا قومی سلامتی کے اقدامات کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
’مداخلت‘ سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مداخلت لازماً فوجی یلغار نہیں ہوگی۔ ممکنہ آپشنز میں شامل ہیں:
- سائبر اور خفیہ آپریشنز: ایرانی نگرانی اور کنٹرول نیٹ ورکس کو کمزور کرنا
- اطلاعاتی و نفسیاتی حکمتِ عملی: احتجاجی بیانیے کو تقویت دینا اور ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنا
- مالی و قانونی دباؤ: پابندیوں کے نفاذ میں سختی، اثاثوں کی ضبطی
- ٹارگٹڈ اقدامات: مخصوص ریاستی یا نیٹ ورکڈ اہداف کے خلاف محدود کارروائیاں، جنہیں انسدادِ دہشت گردی یا عدمِ پھیلاؤ کے دائرے میں فریم کیا جا سکے
اسرائیلی ذرائع کے مطابق واشنگٹن جان بوجھ کر اسٹریٹجک ابہام برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ قبل از وقت کشیدگی نہ بڑھے۔
اسرائیل کی تشویش اور حساب کتاب

اسرائیلی نقطۂ نظر سے ایران میں جاری احتجاج 2022 کے بعد سب سے سنجیدہ داخلی چیلنج بن چکا ہے، جس میں معاشی بحران، کرنسی کی گراوٹ اور اشرافیہ کے اندر اختلافات عوامی غصے کو بڑھا رہے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اگر امریکا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے اہداف کیا ہوں گے:
- ایران کے علاقائی نیٹ ورکس کو کمزور کرنا،
- جوہری اور میزائل پروگرامز میں رکاوٹ ڈالنا،
- یا سیاسی تبدیلی کے عمل کو تیز کرنا۔
اسرائیل ایسی امریکی شمولیت کا حامی بتایا جاتا ہے جو بغیر علاقائی جنگ چھیڑے دباؤ بڑھائے۔
واشنگٹن میں احتیاط
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی حکام ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں اور علاقائی اثرات سے محتاط ہیں۔ تاہم، ایران میں جاری احتجاج، نظام کی کمزوری کے تاثر اور وینزویلا کی نظیر نے امریکی پالیسی آپشنز کو وسیع کر دیا ہے—کم از کم اسرائیلی اندازوں کے مطابق۔
علاقائی اثرات
اگر امریکا کھلی یا خفیہ مداخلت کی طرف بڑھتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی ہوگی۔ اس سے ایرانی مظاہرین کو حوصلہ مل سکتا ہے، مگر ساتھ ہی خطے میں خطرات اور غلط اندازوں کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
تجزیہ
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ اس وسیع تر رجحان کی عکاس ہے کہ وینزویلا محض ایک الگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس نے امریکی رویّے میں زیادہ جارحانہ انداز کا اشارہ دیا۔ آیا ایران اگلا میدان بنتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار احتجاج کی پائیداری، ایرانی سکیورٹی اداروں کی یکجہتی اور واشنگٹن کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت پر ہوگا۔ تاہم اسرائیلی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک بات واضح ہے: وینزویلا نے اسٹریٹجک گفتگو بدل دی ہے—اور ایران اب اس کے مرکز میں ہے۔




