اتوار, 15 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

جرمنی اور بھارت 8 ارب ڈالر کے آبدوز معاہدے کے قریب

بلومبرگ نیوز کے مطابق جرمنی اور بھارت ایک ایسے اہم دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کی مالیت کم از کم 8 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی بحریہ کے لیے جدید ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کی فراہمی سے متعلق ہے اور اسے بھارت کے طویل المدتی منصوبے پروجیکٹ 75(آئی) کا مرکزی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جرمن کمپنی ThyssenKrupp Marine Systems (TKMS) اس دوڑ میں سب سے آگے ہے، جبکہ آبدوزوں کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے بھارتی شپ یارڈز کے ساتھ شراکت متوقع ہے۔ یہ انتظام میک اِن انڈیا پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد دفاعی پیداوار میں خودانحصاری بڑھانا ہے۔

پروجیکٹ 75(آئی) اور بحری حکمتِ عملی

پروجیکٹ 75(آئی) کے تحت چھ جدید آبدوزیں حاصل کی جانی ہیں جن میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) جیسی صلاحیتیں شامل ہوں گی، تاکہ طویل مدت تک زیرِ آب آپریشن ممکن ہو۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آبدوزیں بحیرۂ ہند کے خطے میں نگرانی، انسدادِ آبدوز جنگ (ASW) اور باز deterrence میں نمایاں اضافہ کریں گی—خاص طور پر خطے میں بڑھتی بحری سرگرمیوں کے تناظر میں۔

پیداوار، لاگت اور ٹائم لائن

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مجموعی مالیت میں ٹیکنالوجی شیئرنگ، مقامی اسمبلی، تربیت اور طویل المدتی لاجسٹک سپورٹ شامل ہوں گے، جس کی وجہ سے لاگت پہلے اندازوں سے زیادہ ہے۔ حتمی دستخط رواں سال اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے دوران متوقع ہیں، جبکہ ترسیل مرحلہ وار کئی برسوں میں مکمل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  ایرانی شاہد ڈرون حملوں سے امریکی میزائل دفاعی ریڈار تباہ: خلیج میں 3.4 ارب ڈالر کا نگرانی نیٹ ورک متاثر

علاقائی و عالمی اثرات

یہ معاہدہ بھارت-جرمنی دفاعی شراکت داری کو نئی سطح پر لے جائے گا اور بھارت کی بحری قوت کو جدید بناتے ہوئے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جرمنی کے لیے یہ ایشیا میں دفاعی برآمدات کے دائرۂ کار میں اہم توسیع سمجھی جا رہی ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین