پاکستان بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں ایک جامع بحری مشق کے دوران اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی استعداد کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ مشق بدلتے ہوئے بحری جنگی ماحول کے تناظر میں روایتی اور بغیر پائلٹ (Unmanned) صلاحیتوں کے امتزاج کی عکاس تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں میری ٹائم سکیورٹی چیلنجز، ڈرون خطرات اور میزائل ٹیکنالوجی کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
LY-80(N) میزائل کی کامیاب فائرنگ
مشق کی نمایاں جھلک LY-80(N) سرفیس ٹو ایئر میزائل کی کامیاب لائیو فائرنگ تھی، جو:
- ورٹیکل لانچنگ سسٹم (VLS) سے کی گئی
- توسیع شدہ فاصلے پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا
- فضائی خطرات کو مؤثر انداز میں ناکام بنانے کی صلاحیت ثابت کی
یہ کامیاب فائرنگ پاکستان بحریہ کے جدید، طویل فاصلے تک مؤثر فضائی دفاعی نظام کی تصدیق کرتی ہے، جو دشمن کے طیاروں، ڈرونز اور اسٹینڈ آف ہتھیاروں کے خلاف کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
Another good news for Pakistan defence and Pakistan navy.
Pakistan Navy demonstrated its operational readiness and combat preparedness through a comprehensive exercise in the North Arabian Sea, showcasing both conventional and unmanned capabilities, as per dictates of evolving… pic.twitter.com/eC9iCbz4XC— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) January 10, 2026
لوئٹرنگ میونیشن سے اہداف کی تباہی
مشق میں لوئٹرنگ میونیشن (LM) کے ذریعے سطحِ آب پر موجود اہداف کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
- درستگی کے ساتھ اہداف کی شناخت
- کم وقت میں فیصلہ کن حملہ
- بغیر انسانی جان کے خطرے کے مؤثر کارروائی
یہ صلاحیت پاکستان بحریہ کو پریسیژن اسٹرائیک اور جدید نیول وارفیئر میں نمایاں برتری فراہم کرتی ہے۔
بغیر پائلٹ جہاز (USV) کے کامیاب سمندری تجربات
ایک اہم تکنیکی پیش رفت کے طور پر Unmanned Surface Vessel (USV) کے کھلے سمندر میں کامیاب ٹرائلز کیے گئے۔
ان تجربات میں USV کی درج ذیل خصوصیات ثابت ہوئیں:
- تیز رفتار اور غیر معمولی پھرتی
- انتہائی درست نیویگیشن
- خراب موسم میں بھی آپریشنل صلاحیت
- مشن کے دوران پائیداری اور مضبوطی
USV کو ایک کم خطرہ، زیادہ اثر رکھنے والا پلیٹ فارم قرار دیا گیا، جو اسٹیلتھ اور تیز ردِعمل کی بدولت بحری جنگ میں گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
اعلیٰ قیادت کی موجودگی اور حوصلہ افزائی
یہ مشق کمانڈر پاکستان فلیٹ نے ملاحظہ کی، جہاں جدید بحری نظاموں کے عملی استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بلند حوصلے کو سراہا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بحریہ ہر صورت ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
اسٹریٹیجک تناظر
یہ مشق درج ذیل حقائق کی عکاس ہے:
- بحرِ ہند کے خطے میں بڑھتی عسکری سرگرمیاں
- بحری جنگ میں ڈرون اور خودکار نظاموں کا بڑھتا کردار
- کثیر سطحی فضائی و میزائل دفاع کی ضرورت
پاکستان بحریہ کی جانب سے میزائل، لوئٹرنگ میونیشن اور بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز کا مشترکہ استعمال نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی طرف واضح پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
نتیجہ
شمالی بحیرۂ عرب میں ہونے والی یہ مشق پاکستان بحریہ کی جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل تیاری کا واضح ثبوت ہے۔ یہ مظاہرہ نہ صرف دفاعی صلاحیت کا اعلان ہے بلکہ خطے میں میری ٹائم استحکام کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔




