چین کے جدید J-20A اور دو نشستوں والے J-20S اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی نمائش، J-20 کی پہلی پرواز کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر، محض ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ چین کی ففتھ جنریشن فضائی جنگی حکمتِ عملی میں ایک گہری اور سوچے سمجھے انداز میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کی پختگی اور اسٹریٹجک سگنلنگ کو یکجا کرتے ہوئے انڈو پیسیفک خطے میں فضائی بالادستی کے بیانیے کو نئی شکل دینے کی کوشش ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ طیارے 3 ستمبر 2025 کو منعقدہ وی-ڈے فوجی پریڈ میں پہلی بار عوام کے سامنے آئے، جہاں ایک J-20S، دو J-20A اور دو بنیادی J-20 طیاروں نے تیر نما فارمیشن میں پرواز کی۔ یہ منظر بذاتِ خود People’s Liberation Army Air Force کے اس تصور کو اجاگر کرتا ہے کہ مستقبل کی فضائی جنگ انفرادی پلیٹ فارمز کے بجائے مربوط اسٹیلتھ قوت پر مبنی ہوگی۔
علامتی ڈیٹرنس سے عملی جنگی نظریے تک
China Central Television نے J-20A کو J-20 کا اپ گریڈڈ ورژن قرار دیتے ہوئے اسے مستقبل کی فضائی جنگ میں “نیزہ بردار قوت” (spearhead force) کہا۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ J-20 پروگرام اب تجرباتی یا محض علامتی ڈیٹرنس مرحلے سے نکل کر عملی اور نظریہ ساز جنگی صلاحیت میں تبدیل ہو چکا ہے۔
“A” کی علامت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ طیارہ اب ابتدائی آپریشنل سطح سے آگے بڑھ کر مسلسل جدید کاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو چین کے طویل المدتی فضائی منصوبہ بندی سے ہم آہنگ ہے۔
ایروڈائنامک بہتری اور سپرکروز پر توجہ
چینی فوجی تجزیہ کار Zhang Xuefeng کے مطابق J-20A میں نظر آنے والی ساختی تبدیلیاں محض ظاہری نہیں بلکہ عملی نوعیت کی ہیں۔ کاک پٹ اور فیوزلاج کے جوڑ پر ابھرا ہوا حصہ ہوا کے بہاؤ کو ہموار کرتا ہے، جس سے ڈریگ کم ہوتا ہے اور سپرسونک پرواز کے دوران کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
یہ تبدیلی اس عالمی رجحان کی عکاس ہے جہاں پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں قریبی ڈاگ فائٹ کے بجائے طویل فاصلے پر تیز رفتار اور مسلسل سپرکروز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اندرونی گنجائش، رینج اور اسٹریٹجک لچک
ژانگ کے مطابق اس نئے ڈیزائن سے طیارے کے اندر اضافی جگہ بھی میسر آتی ہے، جو نئے آلات، جدید سسٹمز یا حتیٰ کہ اضافی ایندھن کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ انڈو پیسیفک جیسے وسیع اور متنازع خطے میں یہ اندرونی گنجائش محض تکنیکی بہتری نہیں بلکہ اسٹریٹجک لچک کا ذریعہ ہے۔
یہ اضافی جگہ جدید الیکٹرانک وارفیئر، بہتر کولنگ سسٹمز اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے سینسرز کے انضمام کو ممکن بناتی ہے، وہ بھی اسٹیلتھ خصوصیات کو متاثر کیے بغیر۔
سینسر سینٹرک کاک پٹ اور نظریاتی تبدیلی
فوجی مبصر Fu Qianshao کے مطابق J-20A کی اپ گریڈیشن صرف بیرونی ساخت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اندرونی ایویانکس اور سینسرز میں بھی نمایاں بہتری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پائلٹ کی روایتی بصری نظر پر انحصار کم ہونا ایک بڑی نظریاتی تبدیلی کی علامت ہے۔
جدید فضائی جنگ میں ڈیٹا فیوژن، نیٹ ورکڈ سینسرز اور بیونڈ ویژول رینج حملے انسانی آنکھ سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں، جس کے باعث کاک پٹ ڈیزائن اب اسٹیلتھ اور سسٹمز انضمام کو ترجیح دیتا ہے۔
انجن، وزن اور مسلسل کارکردگی
ساختی اور سسٹمز اپ گریڈیشن کے نتیجے میں وزن میں اضافہ ایک فطری سوال ہے۔ فو کیان شاؤ نے تسلیم کیا کہ وزن بڑھ سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق J-20A میں زیادہ طاقتور انجن نصب کیے جانے کا امکان ہے، جو اس اضافی وزن کی تلافی کر سکتے ہیں۔
زیادہ طاقتور انجن نہ صرف سپرکروز صلاحیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ میزائل کی کارکردگی، تیز رفتاری اور طویل دورانیے کی پرواز کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں، جو جدید فضائی جنگ میں فیصلہ کن عوامل ہیں۔
J-20S: کمانڈ، کنٹرول اور مینڈ-ان مینڈ ٹیم ورک
دو نشستوں والا J-20S، J-20 خاندان میں ایک اہم توسیع ہے۔ اس کے ذریعے چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ واضح طور پر کمانڈ، کنٹرول اور مینڈ-ان مینڈ ٹیم ورک کے لیے تیار کیا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق J-20S طویل فاصلے کی فضائی برتری، درست حملے، الیکٹرانک وارفیئر اور ٹیکٹیکل کمانڈ کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ژانگ نے اس کردار کو فٹ بال کے “پلے میکر” سے تشبیہ دی، جو خود گول کرنے کے بجائے پوری ٹیم کی حکمتِ عملی ترتیب دیتا ہے۔
نتیجہ: طویل المدتی فضائی بالادستی کی بنیاد
J-20A اور J-20S کی نمائش اس بات کی واضح علامت ہے کہ چین اب J-20 کو محض عبوری یا علامتی صلاحیت کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ اسے ایک طویل المدتی، معلوماتی بالادستی پر مبنی فضائی جنگی نظام میں ڈھالا جا رہا ہے، جو تیز رفتار، زیادہ رینج اور نیٹ ورکڈ جنگی ماحول میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ چین مستقبل کی فضائی جنگ میں تصادم سے پہلے ہی حالات اپنے حق میں ہموار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔




