جرمنی نیٹو کے تحت ایک نئے مشترکہ مشن “Arctic Sentry” کے آغاز کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد آرکٹک خطے میں سکیورٹی نگرانی اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ ہے، بشمول Greenland۔ یہ منصوبہ Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتحاد کے اندر امریکی سخت لہجے اور دباؤ کے باعث اختلافات زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔
اس مجوزہ مشن کو نیٹو کے Baltic Sentry کی طرز پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جو بالٹک سمندر میں اہم تنصیبات اور زیرِآب انفراسٹرکچر کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ جرمن حکام کے نزدیک آرکٹک اب ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی، وسائل تک رسائی اور بڑی طاقتوں کا مقابلہ بیک وقت شدت اختیار کر رہا ہے۔
امریکی دھمکیاں اور بڑھتا ہوا جارحانہ لہجہ
جرمنی کے اس اقدام کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن حالیہ مہینوں میں آرکٹک میں مغربی مفادات کے دفاع کے حوالے سے سخت انتباہات جاری کر چکا ہے، جن میں فوجی تیاری اور ڈیٹرنس کے واضح اشارے شامل ہیں۔ امریکی بیانات میں روس اور چین دونوں کی سرگرمیوں کو خطرہ قرار دیا گیا ہے، خصوصاً زیرِآب کیبلز، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ابھرتے سمندری راستوں کے تناظر میں۔
یورپی اتحادیوں کے ایک حلقے کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا یہ جارحانہ مؤقف نیٹو کو ایسے تصادمی راستے پر لے جا سکتا ہے جو روایتی طور پر کم تناؤ کے ساتھ چلنے والے آرکٹک فریم ورک سے متصادم ہو۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی دباؤ یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کو بھی محدود کر رہا ہے۔
گرین لینڈ کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت
گرین لینڈ، جو شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان واقع ہے، میزائل وارننگ، خلائی نگرانی اور آرکٹک لاجسٹکس کے حوالے سے کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ امریکہ وہاں طویل عرصے سے فوجی موجودگی رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ امریکی ہوم لینڈ ڈیفنس کا اہم جزو بن چکا ہے۔
تاہم واشنگٹن کی جانب سے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت پر بار بار زور اور ماضی میں یورپی انتظامی صلاحیتوں پر سوالات نے خاص طور پر ڈنمارک اور جرمنی میں حساسیت کو بڑھایا ہے۔
برطانیہ اور فرانس: یورپی کردار کو مضبوط کرنے کی کوشش
اطلاعات کے مطابق برطانوی حکام France اور Germany کے ساتھ گرین لینڈ میں فوجی دستوں، بحری جہازوں اور فضائی اثاثوں کی تعیناتی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد آرکٹک سینٹری کے تحت ایک مشترکہ یورپی کردار کو فروغ دینا ہے، تاکہ نیٹو میں مکمل انحصار صرف امریکی قیادت پر نہ رہے۔
لندن اور پیرس کے لیے یہ شمولیت یورپ کے سکیورٹی ڈھانچے میں اپنی حیثیت مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ برلن کے لیے یہ اس کی روایتی محتاط دفاعی پالیسی سے ایک اور قدم آگے بڑھنے کی علامت ہے۔
نیٹو کی یکجہتی دباؤ میں
اگرچہ نیٹو قیادت اتحاد کی یکجہتی پر زور دیتی ہے، مگر آرکٹک کے معاملے نے اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ کچھ رکن ممالک مستقل اور مضبوط فوجی موجودگی کے حامی ہیں، جبکہ دیگر ممالک محدود، نگرانی پر مبنی مشن کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ روس کے ساتھ غیر ضروری کشیدگی سے بچا جا سکے۔
جرمنی کا آرکٹک سینٹری منصوبہ بظاہر ایک درمیانی راستہ پیش کرتا ہے: ایک منظم، کثیرالملکی اور دفاعی نوعیت کا مشن، جو مستقل تعیناتی سے گریز کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر امریکی حکمتِ عملی مزید سخت ہوئی تو حتیٰ کہ محدود مشنز بھی سیاسی تنازع کا باعث بن سکتے ہیں۔
روس اور چین کی گہری نظر
آرکٹک میں نیٹو کی کسی بھی توسیع کو روس باریک بینی سے دیکھے گا، کیونکہ یہ خطہ اس کی جوہری ڈیٹرنس اور معاشی مستقبل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ چین، اگرچہ آرکٹک ریاست نہیں، خود کو “قریبِ آرکٹک اسٹیک ہولڈر” قرار دے چکا ہے اور سائنسی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر آرکٹک سکیورٹی کو اجتماعی انداز میں منظم نہ کیا گیا تو نیٹو مستقبل میں زیادہ خراب حالات میں، ممکنہ طور پر صرف امریکی شرائط پر ردِعمل دینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
اسٹریٹجک نتیجہ
آرکٹک سینٹری محض ایک سکیورٹی مشن نہیں بلکہ نیٹو کے اندر طاقت کے توازن کا امتحان بھی ہے۔ امریکہ کے سخت ہوتے ہوئے مؤقف کے مقابل یورپی اتحادی ایسے فریم ورک کے خواہاں ہیں جو ڈیٹرنس اور اتحاد کی یکجہتی کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔
یہ منصوبہ آیا نیٹو کے لیے ہم آہنگی کی علامت بنتا ہے یا اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کرتا ہے—اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ واشنگٹن، برلن اور دیگر اتحادی آرکٹک میں خطرات کے بارے میں اپنے مختلف تصورات کو کس حد تک ہم آہنگ کر پاتے ہیں۔




