انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع Sjafrie Sjamsoeddin (ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل) نے پیر کے روز جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) Rawalpindi میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز Syed Asim Munir سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و عالمی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations کے مطابق دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا، پیشہ ورانہ فوجی تربیت اور تبادلہ پروگرامز میں توسیع، اور دفاعی صنعت میں اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔
#ISPR
Rawalpindi, 12 January, 2026Lieutenant General Sjafrie Sjamsoeddin (Retd), Minister of Defence of the Republic of #Indonesia, called on Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, #COAS & CDF, at General Headquarters (GHQ), Rawalpindi, #Pakistan
The meeting focused on… pic.twitter.com/lZwRnwDVAm
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) January 12, 2026
انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے Pakistan Armed Forces کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو زمینی، فضائی اور بحری شعبوں سمیت مختلف جہتوں میں مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعاون کے امکانات خاص طور پر فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں، دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں ہیں۔ پاکستان کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، بشمول فضائی، بحری اور زمینی پلیٹ فارمز، انڈونیشیا کے لیے کم لاگت اور مؤثر متبادل فراہم کر سکتی ہے، جبکہ انڈونیشیا کا بحری سکیورٹی اور جزائر پر مشتمل دفاعی تجربہ پاکستان کے لیے اہم سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ مضبوط، پائیدار اور طویل المدتی دفاعی تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور اسٹریٹجک مفادات کے امتزاج پر مبنی ہوگی۔
یہ ملاقات پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کے وسیع تر تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے اہم ممالک کے ساتھ سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کو فروغ دینا ہے، جبکہ انڈونیشیا بھی بدلتی علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے دفاعی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔




