چین نے بھارت کی جانب سے سرحدی معاملات اور China-Pakistan Economic Corridor (سی پیک) پر اٹھائے گئے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر مکمل طور پر قانونی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان Mao Ning نے کہا کہ چین اور Pakistan کے درمیان سرحدی معاہدہ 1960 کی دہائی میں طے پایا تھا اور اس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی باقاعدہ حد بندی کی تھی، جو دو خودمختار ریاستوں کا قانونی حق ہے۔
Responding to Indian media’s inquiries about border issues and the China‑Pakistan Economic Corridor (CPEC), Chinese Foreign Ministry spokesperson Mao Ning said on Monday that the area in question "belongs to China,” adding that "there is nothing wrong with China carrying out… pic.twitter.com/8M4i4xuFsN
— Global Times (@globaltimesnews) January 12, 2026
سی پیک کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے
ماو ننگ کے مطابق سی پیک ایک معاشی تعاون منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی ترقی، معاشی بہتری اور عوام کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہے، نہ کہ کسی تیسرے فریق کے خلاف سیاسی اقدام۔
کشمیر پر چین کا مؤقف برقرار
انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو سرحدی معاہدہ اور نہ ہی سی پیک چین کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو متاثر کرتا ہے۔ چین کا اس مسئلے پر مؤقف بدستور وہی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بھارتی اعتراضات کا پس منظر
بھارت ماضی میں بھی سی پیک کے بعض منصوبوں پر اعتراض کرتا رہا ہے، تاہم چین اور پاکستان ان اعتراضات کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں اور اسے دو طرفہ تعاون کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔




