برطانیہ کی رائل نیوی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا پہلا مکمل سائز کا خودکار (Autonomous) ہیلی کاپٹر کامیابی کے ساتھ اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کر چکا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر، جسے پروٹیئس (Proteus) کا نام دیا گیا ہے، خاص طور پر آبدوزوں کی نگرانی، سمندری گشت اور دیگر خطرناک مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
رائل نیوی کے مطابق، پروٹیئس نے ایک مختصر مگر کامیاب ٹیسٹ فلائٹ مکمل کی، جو برطانوی اور نیٹو بحری صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نارتھ اٹلانٹک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
This is aviation history.
The UK’s first pilotless helicopter, Proteus, has made its debut in the skies. 🚁
Designed by @Leonardo_UK, the autonomous helicopter made 2 short flights in Cornwall. It will serve as a testbed for future hybrid air wings.https://t.co/wauUT9petY pic.twitter.com/W9083fpf4C
— Royal Navy (@RoyalNavy) January 16, 2026
آبدوزوں کے خلاف نئی صلاحیت
پروٹیئس کو بنیادی طور پر اینٹی سب میرین وارفیئر، سمندری نگرانی اور زیرِ آب جہازوں کی ٹریکنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ وہ مشنز ہیں جو نارتھ اٹلانٹک میں روسی آبدوزوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے تناظر میں نیٹو کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
یہ خطہ، خاص طور پر گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع سمندری راستے، طویل عرصے سے آبدوزوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتے ہیں۔
بغیر پائلٹ، زیادہ محفوظ
پروٹیئس کو برطانوی اور اطالوی دفاعی کمپنی لیونارڈو نے تیار کیا ہے۔ یہ جدید سینسرز، کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر پر انحصار کرتا ہے، جو اسے اپنے ماحول کا تجزیہ کرنے اور خود فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
لیونارڈو ہیلی کاپٹرز کے برطانیہ میں سربراہ نائجل کولمین کے مطابق، یہ ہیلی کاپٹر ایسے مشنز انجام دینے کے قابل ہے جو "بورنگ، گندے اور خطرناک” ہوتے ہیں، اور اس طرح انسانی عملے کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
یورپی دفاعی پالیسی میں تبدیلی
فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد یورپ کی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کئی ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھا دیے ہیں اور بغیر پائلٹ نظاموں میں سرمایہ کاری تیز کر دی ہے۔
اسی تناظر میں پروٹیئس جیسے خودکار پلیٹ فارمز کو مستقبل کی بحری جنگ کا اہم جزو سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر زیرِ آب تنصیبات اور سمندری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے۔
🚁 Liftoff!
The UK’s first autonomous full-size helicopter, #Proteus, has completed a historic maiden flight at Predannack airfield in Cornwall.
Designed and built by #Leonardo in Yeovil, the Home of British Helicopters, Proteus is a major step forward in autonomous maritime… pic.twitter.com/nqZ9Qyp23Z
— Leonardo Helicopters (@LDO_Helicopters) January 16, 2026
موجودہ ڈرونز سے زیادہ جدید
رائل نیوی پہلے ہی چند چھوٹے بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز استعمال کر رہی ہے، مگر پروٹیئس ان کے مقابلے میں زیادہ بڑا، جدید اور طویل دورانیے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کا سائز اور ٹیکنالوجی اسے ایسے سینسرز اٹھانے کے قابل بناتی ہے جو طویل فاصلے تک زیرِ آب سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
اسٹریٹجک اہمیت
اگرچہ روس نے گرین لینڈ اور نارتھ اٹلانٹک سے متعلق مغربی خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے، تاہم نیٹو ممالک مسلسل اپنی میرین ڈومین آگاہی بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
پروٹیئس کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں بحری سکیورٹی کا دارومدار بڑھتے ہوئے خودکار اور بغیر پائلٹ نظاموں پر ہوگا۔




