بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چینی معدنیات پر انحصار کم کرنے کی کوشش: امریکا اتحادی وزرائے خارجہ کو طلب کرے گا

امریکا اگلے ماہ درجنوں اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں مدعو کرنے جا رہا ہے، جس کا مقصد چین پر اہم معدنیات کے انحصار کو کم کرنا اور متبادل سپلائی چینز کو مضبوط بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اجلاس 4 فروری کو منعقد ہوگا اور اس کی میزبانی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین کی جانب سے اہم معدنیات پر برآمدی پابندیوں میں نرمی کی مدت رواں سال ختم ہونے والی ہے۔

اہم معدنیات کیوں فیصلہ کن ہیں؟

اہم معدنیات—جیسے لیتھیم، ریئر ارتھ عناصر، گریفائٹ، نکل اور کوبالٹ—جدید معیشت اور دفاعی صنعت کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ یہ معدنیات:

  • الیکٹرک گاڑیوں
  • ونڈ ٹربائنز
  • سیمی کنڈکٹرز
  • جدید میزائل اور جنگی طیاروں

میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

چین نہ صرف ان معدنیات کی کان کنی بلکہ ریفائننگ اور پروسیسنگ میں بھی عالمی سطح پر غالب حیثیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ وہ معدنیات بھی جن کی کانیں چین سے باہر واقع ہیں۔

چین کی برآمدی پابندیاں اور امریکی تشویش

حالیہ برسوں میں چین نے کئی اسٹریٹجک معدنیات پر برآمدی کنٹرولز نافذ یا سخت کیے ہیں، جس سے یہ واضح پیغام گیا کہ بیجنگ اپنی سپلائی چین برتری کو سیاسی اور معاشی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ مہلت ختم ہو گئی تو چین مزید سخت پابندیاں لگا سکتا ہے، جس سے اتحادی ممالک کو شدید سپلائی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چینی صدر کی امریکی ہم منصب سے لیما میں ملاقات

اتحادیوں کے درمیان اختلافات

اگرچہ چین پر انحصار کم کرنے کے اصول پر عمومی اتفاق موجود ہے، تاہم عملی اقدامات پر اتحادیوں کے درمیان اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

امریکا بعض یورپی یونین کے رکن ممالک سے چاہتا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کریں تاکہ پیش رفت تیز ہو سکے۔ اس کے برعکس یورپی کمیشن اس بات پر زور دے رہا ہے کہ تمام معاہدے متحدہ یورپی مؤقف کے تحت ہونے چاہئیں۔

یہ اختلاف امریکا کی تیز رفتار اسٹریٹجک سوچ اور یورپی یونین کے ضابطہ جاتی اور اجتماعی فیصلوں کے ماڈل کے درمیان فرق کو اجاگر کرتا ہے۔

کان کنی سے آگے: مکمل سپلائی چین

امریکی حکام کے مطابق یہ مذاکرات صرف کان کنی تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ:

  • معدنیات کی ریفائننگ
  • ری سائیکلنگ
  • ماحولیاتی و لیبر معیارات
  • ہنگامی ذخیرہ اندوزی اور باہمی تعاون

جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

بہت سے اتحادی ممالک نہیں چاہتے کہ وہ چین کے بجائے کسی اور ایک ملک پر انحصار کریں، بلکہ وہ متنوع اور منتشر سپلائی نیٹ ورک کو ترجیح دے رہے ہیں۔

معاشی اور اسٹریٹجک اثرات

اگر یہ کوشش کامیاب رہی تو اس سے آسٹریلیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور شمالی امریکا میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق نئی ریفائننگ صلاحیت پیدا کرنے میں وقت اور سرمایہ دونوں درکار ہوں گے۔

اگر اتفاقِ رائے نہ بن سکا تو چین کی سپلائی چین بالادستی برقرار رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گرین انرجی اور دفاعی منصوبوں کے باعث معدنیات کی عالمی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں نیا نام: نکولائے ملادینوف کیوں اہم ہیں؟

اہم امتحان

فروری کا یہ اجلاس اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا امریکا اور اس کے اتحادی مشترکہ خدشات کو عملی فیصلوں میں تبدیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں عالمی مقابلہ بڑھ رہا ہے، اہم معدنیات اکیسویں صدی کی جغرافیائی سیاست کا ایک مرکزی میدان بنتی جا رہی ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین