بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

BRICS کوئی فوجی اتحاد نہیں، بھارت نے BRICS سے جڑی بحری مشق سے لاتعلقی ظاہر کر دی

بھارت نے جنوبی افریقہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک حالیہ بحری مشق سے خود کو واضح طور پر الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سرگرمی کا BRICS کے ساتھ کوئی باضابطہ یا ادارہ جاتی تعلق نہیں تھا، اور بھارت نے اس میں شرکت نہیں کی۔

وزارتِ خارجۂ بھارت (MEA) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مشق مکمل طور پر جنوبی افریقہ کا انفرادی اقدام تھی، جس میں BRICS کے چند رکن ممالک نے حصہ لیا، تاہم نہ تو تمام BRICS ممالک شریک تھے اور نہ ہی بھارت نے کبھی ایسی مشقوں میں حصہ لیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق:

“زیرِ بحث بحری مشق جنوبی افریقہ کا اپنا اقدام تھی، یہ کوئی باقاعدہ یا ادارہ جاتی BRICS سرگرمی نہیں تھی، اور نہ ہی تمام رکن ممالک اس میں شریک تھے۔”

پس منظر: BRICS کی توسیع اور عسکری حساسیت

یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب BRICS تیزی سے توسیع کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ و افریقہ کے نئے ارکان کی شمولیت کے بعد اس پلیٹ فارم کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بھارت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ BRICS کوئی فوجی اتحاد نہیں اور نہ ہی اسے دفاعی بلاک کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اسٹریٹجک خودمختاری پر ہے، جس کے تحت بھارت کسی ایسے فوجی فریم ورک سے گریز کرتا ہے جو اسے جیوپولیٹیکل بلاکس میں محدود کر دے۔

جنوبی افریقہ کی قیادت میں ہونے والی اس بحری مشق نے بعض حلقوں میں BRICS کو ایک ممکنہ عسکری اتحاد کے طور پر دیکھنے کا تاثر پیدا کیا، جسے بھارت نے اب کھلے الفاظ میں رد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  آپریشن سندور میں ناکامی یا اسٹریٹجک لیپ فارورڈ : ہندوستانی فضائیہ کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر توجہ

بھارت کا ترجیحی فریم ورک: IBSAMAR

وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت جس واحد بحری مشق میں اس تناظر میں باقاعدگی سے شریک ہوتا ہے وہ IBSAMAR ہے، جو بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک سہ فریقی بحری مشق ہے۔

بیان کے مطابق:

“اس تناظر میں بھارت جس باقاعدہ بحری مشق کا حصہ ہے وہ IBSAMAR ہے، جس کا آخری ایڈیشن اکتوبر 2024 میں منعقد ہوا تھا۔”

IBSAMAR کو ایک منظم، دیرینہ اور تکنیکی تعاون پر مبنی مشق قرار دیا جاتا ہے، جس کا مقصد سمندری سلامتی، باہمی ہم آہنگی اور گلوبل ساؤتھ میں اعتماد سازی ہے۔

اسٹریٹجک پیغام کیا ہے؟

بھارت کا یہ بیان کئی اہم اسٹریٹجک اشارے دیتا ہے:

  • BRICS کی عسکری تشکیل سے گریز: بھارت واضح کر رہا ہے کہ BRICS کو دفاعی اتحاد نہ بنایا جائے۔
  • عالمی شراکت داروں کو یقین دہانی: امریکا، جاپان اور آسیان ممالک کو یہ پیغام کہ بھارت کسی خفیہ فوجی صف بندی کا حصہ نہیں۔
  • BRICS کے اندر توازن: انفرادی ممالک کے یکطرفہ اقدامات کو ادارہ جاتی حیثیت دینے کی کوششوں کی مزاحمت۔

نتیجہ

بھارت کی وضاحت BRICS کے اندر بڑھتی ہوئی سمتوں کے فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ جہاں بعض ممالک دفاعی تعاون کے امکانات کو آزما رہے ہیں، وہیں بھارت ایک واضح حد کھینچتے ہوئے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس کی فوجی شمولیت محدود، شفاف اور BRICS سے باہر رہے گی۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین