جمعرات, 2 اپریل, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کی فضاؤں کا نیا محافظ؟ HQ-9B اور خطے میں طاقت کا توازن

جون 2025 کی اسرائیل–ایران جنگ نے ایک تلخ حقیقت بے نقاب کر دی:
ایران کی فضائی دفاعی دیوار اتنی مضبوط نہیں تھی جتنا دعویٰ کیا جاتا رہا۔

بارہ روزہ فضائی مہم کے دوران اسرائیلی حملوں نے ایرانی ریڈار نیٹ ورکس، میزائل تنصیبات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب، اسی تجربے کے بعد، ایران مبینہ طور پر چین کے جدید HQ-9B طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن، ابوالفضل ظہرویند، کے مطابق چین جلد HQ-9 طرز کے لانگ رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹمز فراہم کر سکتا ہے، جن کا مقصد اُن ’’اہم دفاعی خلاؤں‘‘ کو پُر کرنا ہے جو جنگ کے دوران سامنے آئے۔

اگرچہ چین نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے، تاہم ایرانی عسکری ذرائع اور اصلاح پسند میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ محض میزائل نہیں بلکہ جدید لانگ رینج ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر مشتمل ایک مکمل پیکج ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران علامتی خریداری کے بجائے ایک مربوط، نیٹ ورکڈ فضائی دفاعی نظام تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

HQ-9B کو چین کا جدید ترین ایکسپورٹ گریڈ فضائی دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے، جس کی دعوٰی کردہ رینج 200 کلومیٹر سے زائد ہے اور جو کروز میزائل، بیلسٹک خطرات اور اسٹیلتھ طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ سسٹم ایران میں تعینات ہوا تو یہ روسی S-300 اور مقامی باور-373 جیسے نظاموں سے ایک واضح تکنیکی چھلانگ تصور کیا جائے گا، جو حقیقی جنگی دباؤ میں ناکافی ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے پاس HQ-9B فضائی دفاعی نظام موجود نہیں: وائرل دعویٰ غلط، اصل کہانی ایران کے دفاعی نیٹ ورک کی تباہی ہے

یہ پیش رفت محض دفاعی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست میں بھی بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

ایران کا چین کی جانب جھکاؤ دراصل روس پر بڑھتے عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ تاخیر کا شکار روسی ڈیلیوریز اور محدود اپ گریڈ امکانات نے تہران کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا، جبکہ چین ایک نسبتاً لچکدار اور تیز رفتار سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے۔

معاشی طور پر، رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ تیل کے بدلے ہتھیاروں پر مبنی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے ایران پابندیوں سے بچتے ہوئے اپنی وسیع توانائی ذخائر کو عسکری طاقت میں تبدیل کر رہا ہے، جبکہ چین کو طویل المدتی توانائی رسائی اور اپنے دفاعی نظام کے لیے عملی تجربہ مل رہا ہے۔

جون کی جنگ نے یہ بھی ثابت کیا کہ جامد فضائی دفاعی تنصیبات جدید الیکٹرانک وارفیئر اور درست حملوں کے سامنے کمزور ہوتی ہیں۔ اسی لیے HQ-9B کے موبائل لانچرز اور نیٹ ورکڈ کمانڈ سسٹمز ایران کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مستقبل میں مزید فضائی حملوں کا خدشہ موجود ہے۔

اگر یہ نظام جزوی طور پر بھی فعال ہو گیا تو اسرائیل اور امریکہ کو ایران کے خلاف فضائی منصوبہ بندی ازسرِنو ترتیب دینا پڑے گی—جس میں فضائی راستے، دفاعی نظام کو دبانے کی حکمتِ عملی، اور ایئر ٹینکرز و ارلی وارننگ طیاروں کی سلامتی شامل ہے۔

لیکن یہ ایک دو دھاری تلوار بھی ہے۔

اگر HQ-9B نے مغربی فضائی طاقت کے خلاف مؤثر کارکردگی دکھائی تو چین کے لیے یہ عالمی دفاعی منڈی میں ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ اور اگر یہ نظام ناکام ہوا تو اس کی ساکھ اور چین کے عسکری عزائم کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس پر کام شروع کردیا

ایران کے لیے، HQ-9B محض ایک ہتھیار نہیں بلکہ ایک پیغام ہے—جنگ کے بعد کی بے چینی، بدلتے اتحاد، اور ایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کی علامت جہاں فضائیں پہلے سے کہیں زیادہ متنازع اور خطرناک ہو چکی ہیں۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

1 تعليق

  1. […] read and accept the Privacy Policy.یہ بھی پڑھیں  ایران کی فضاؤں کا نیا محافظ؟ HQ-9B اور خطے…ڈیفنس ٹاکس اردوعسکری پیشرفت، عالمی معاہدے، جغرافیائی […]

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین