بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

غزہ کی حکمرانی پر امریکا سے غیر معمولی اختلاف، نیتن یاہو کا واشنگٹن کو سخت پیغام

اسرائیل اور امریکا کے تعلقات عموماً قریبی اور ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں، لیکن غزہ کے مستقبل پر اب ایک واضح دراڑ سامنے آ گئی ہے۔

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کیا گیا ایک غیر معمولی اور سخت لہجے کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد وہاں کون حکومت کرے گا، اس سوال پر تل ابیب اور واشنگٹن آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے قیام سے متعلق اعلان اسرائیل سے مشاورت کے بغیر کیا گیا اور یہ اسرائیلی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ معاملہ براہِ راست امریکی وزیر خارجہ کے سامنے اٹھائیں۔

یہ محض سفارتی اختلاف نہیں—یہ ایک سیاسی اشارہ ہے۔

اختلاف کی جڑ کہاں ہے؟

امریکا کی جانب سے سامنے آنے والا منصوبہ بظاہر ایک امن کانفرنس کے تحت غزہ کے عبوری انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد نظم و نسق، استحکام اور بین الاقوامی قبولیت کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم اسرائیل کے لیے یہ منصوبہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

تل ابیب کا مؤقف واضح رہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ میں کوئی ایسا انتظام قبول نہیں کیا جائے گا جو:

  • اسرائیل کی سلامتی کنٹرول کو محدود کرے
  • بین الاقوامی نگرانی کو مسلط کرے
  • یا بالواسطہ طور پر حماس کی واپسی کا راستہ ہموار کرے
یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ اور پوتن کی الاسکا ملاقات: داؤ پر کیا لگا ہے؟

اسی لیے اسرائیلی قیادت کسی بھی ایسے سیاسی ڈھانچے کو، جو اس کی رضامندی کے بغیر طے کیا جائے، اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی ترجیحات میں فرق

یہ اختلاف اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کی ترجیحات اب یکساں نہیں رہیں۔

واشنگٹن غزہ میں جلد از جلد استحکام، انسانی بحران کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے—خصوصاً عرب اتحادیوں اور یورپی دباؤ کے تناظر میں۔

اس کے برعکس، اسرائیل کی توجہ طویل المدتی سیکیورٹی کنٹرول، عسکری آزادی اور مستقبل کے حملوں کی روک تھام پر مرکوز ہے۔

نیتن یاہو کا کھلے عام ردعمل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا غزہ کے مستقبل پر ایسے فیصلے مسلط کر سکتا ہے جو اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔

اندرونی سیاست کا عنصر

یہ بیان اسرائیل کی داخلی سیاست سے بھی جڑا ہے۔

نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں کسی بھی بیرونی مداخلت یا فلسطینی انتظامی ڈھانچے کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔ اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ اسرائیل کو غزہ کے فیصلوں سے باہر رکھا جا رہا ہے، تو یہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی لیے معاملے کو امریکی وزیر خارجہ تک لے جانا ایک واضح پیغام ہے: اسرائیل کو نظرانداز کر کے غزہ کا مستقبل طے نہیں کیا جا سکتا۔

کیا تعلقات میں دراڑ گہری ہو رہی ہے؟

یہ واقعہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے مکمل ٹوٹنے کی علامت نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ حتیٰ کہ نسبتاً ہم خیال ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی غزہ ایک حساس اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکا چین کی کمپنیوں پر ’ غیرمعقول دباؤ‘ بند کرے، بیجنگ

اگر امریکا اپنے منصوبے پر اصرار کرتا ہے تو یہ اختلاف آئندہ جنگ بندی مذاکرات، تعمیرِ نو کے منصوبوں اور علاقائی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

غزہ کا عسکری مرحلہ شاید جاری ہو، مگر اس کے بعد کی سیاسی جنگ اب پوری شدت سے شروع ہو چکی ہے—اور اس میں اتحادی بھی ایک صف میں کھڑے نظر نہیں آ رہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین