اتوار, 29 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مکلا ایئرپورٹ تنازع: یمن کا یو اے ای پر دھماکہ خیز مواد چھوڑنے کا الزام، امارات کی سخت تردید

مکلا / صنعا: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے، جب یمنی حکام نے الزام عائد کیا کہ اماراتی افواج نے حضرموت گورنریٹ کے شہر مکلا میں واقع الریان ایئرپورٹ پر دھماکہ خیز مواد اور ٹارگٹ کلنگ کے آلات چھوڑے۔

یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب متحدہ عرب امارات یمن سے مکمل فوجی انخلا کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ یمنی حکام اور سعودی ذرائع اس مؤقف کو چیلنج کر رہے ہیں۔

حضرموت کے گورنر کے سنگین الزامات

حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے کہا کہ الریان ایئرپورٹ میں قائم کیمپوں سے یو اے ای سے منسلک دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر سیاسی اور سکیورٹی شخصیات کو نشانہ بنانا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یمن اس معاملے پر “فیصلہ کن اقدامات” کرے گا تاکہ متحدہ عرب امارات کو “اس کی قیمت چکانا پڑے”۔ گورنر نے عیدروس الزبیدی کی قیادت میں یو اے ای حمایت یافتہ گروہوں پر ریاستی اداروں کو لوٹنے اور مقامی انتظامیہ کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

یمنی سرکاری ٹی وی کی تصاویر

یمن کے سرکاری ٹی وی چینل نے خصوصی طور پر C4 دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز اور ٹارگٹ کلنگ کے آلات کی تصاویر نشر کیں، جو ان مقامات سے برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا جہاں ماضی میں اماراتی افواج تعینات تھیں۔

یہ تصاویر یمن کی وزارت اطلاعات اور اتحاد افواج کے نمائندوں کی موجودگی میں جاری کی گئیں، جن کے مطابق یہ مواد قتل، جبری گمشدگیوں اور خفیہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

سعودی رپورٹس اور انٹیلی جنس دعوے

یمنی حکام کے مطابق سعودی انٹیلی جنس رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امارات کے شہر فجیرہ سے الریان ایئرپورٹ (حضرموت) تک اسلحے کی منتقلی اماراتی انخلا کے اعلان سے کچھ ہی عرصہ قبل کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں  قندھار میں سراج الدین حقانی کی موجودگی: طالبان قیادت میں اختلافات کے تناظر میں اہم پیش رفت

حکام کا کہنا ہے کہ اگر انخلا حقیقی ہوتا تو تمام اسلحہ واپس لے جایا جاتا۔ زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو انہوں نے عدم استحکام برقرار رکھنے کی نیت قرار دیا۔

یمن کی نیشنل شیلڈ فورسز نے دعویٰ کیا کہ بروقت کارروائی کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔

خفیہ جیلوں کا پرانا تنازع

یمنی حکومت نے امارات کی جانب سے خفیہ جیلیں نہ ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں اور امریکی محکمہ خارجہ ماضی میں ایسی جیلوں کے قیام سے متعلق رپورٹس جاری کر چکے ہیں، جن میں 2019 کی امریکی انسانی حقوق رپورٹ بھی شامل ہے۔

یو اے ای کی سخت تردید

اس کے جواب میں یو اے ای کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں تمام الزامات کو “بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی” قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اماراتی افواج نے 2 جنوری 2026 کو یمن سے مکمل فوجی انخلا کر لیا تھا اور تمام اسلحہ اور سازوسامان باقاعدہ فوجی طریقہ کار کے تحت منتقل کر دیا گیا تھا۔

وزارت دفاع نے الریان ایئرپورٹ میں خفیہ جیلوں کے وجود کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین تنصیبات دراصل فوجی رہائش، آپریشن رومز اور حفاظتی پناہ گاہیں ہیں، جو دنیا بھر کے فوجی ہوائی اڈوں پر معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔

بیان میں تضادات اور سوالات

یمنی حکام نے نشاندہی کی کہ اماراتی بیان میں انخلا کی تاریخ پہلے 3 دسمبر 2025 بتائی گئی، جسے بعد میں تبدیل کر کے 2 جنوری 2026 کر دیا گیا، جس سے بیان کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیلی وزیر خارجہ نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی

یمن کے مطابق یہ معاملہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اثر و رسوخ کی کشمکش کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔

جنوبی یمن میں طاقت کی کشمکش

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکلا اور حضرموت کا تنازع محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ جنوبی یمن میں سیاسی کنٹرول، وسائل اور علاقائی بالادستی کی وسیع تر جدوجہد کا حصہ ہے۔

موجودہ صورتحال سے حوثیوں کے خلاف اتحاد میں دراڑیں مزید گہری ہونے اور یمن کے امن عمل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین