بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ففتھ جنریشن کی جلدبازی: کیا Su-57 بھارت کو طاقت دے گا یا ایک نئی دفاعی الجھن میں دھکیل دے گا؟

بھارت ایک بار پھر روس کے ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے کے خواب کے قریب آ کھڑا ہوا ہے—اور ایک بار پھر اس فیصلے میں مواقع جتنے بڑے ہیں، خطرات بھی تقریباً اتنے ہی سنگین دکھائی دیتے ہیں۔

نئی دہلی اس وقت Su-57E کی مقامی پیداوار پر غور کر رہی ہے، ایسے وقت میں جب بھارتی فضائیہ (IAF) شدید دباؤ کا شکار ہے: اسکواڈرن کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، مقامی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، اور چین اپنی فضائی طاقت کو J-20 اسٹیلتھ طیاروں کے ذریعے غیر معمولی رفتار سے وسعت دے رہا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کو ففتھ جنریشن طیارے کی ضرورت ہے یا نہیں—بلکہ یہ ہے کہ کیا Su-57E واقعی حل ہے یا ایک خطرناک غلط سمت؟

بحران جس نے فیصلے کو ناگزیر بنا دیا

آج بھارتی فضائیہ کے پاس 30 سے کم اسکواڈرن ہیں، جبکہ منظور شدہ تعداد 42 ہے۔ یہ کمی نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے خلاف بھی بھارت کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔ اس دوران چین نہ صرف اسٹیلتھ طیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے بلکہ چھٹی جنریشن کی طرف بھی قدم بڑھا چکا ہے۔

اسی خلا میں روس کی پیشکش پرکشش لگتی ہے: جلد ففتھ جنریشن صلاحیت، مقامی پیداوار، اور سب سے بڑھ کر مکمل ٹیکنالوجی ٹرانسفر۔ ایک ایسی فضائیہ کے لیے جو 2030 کی دہائی تک AMCA کے انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی، یہ پیشکش بظاہر ایک شارٹ کٹ معلوم ہوتی ہے۔

لیکن دفاعی خریداری میں شارٹ کٹس اکثر مہنگی گلیوں میں لے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  افغانستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستانی طیاروں کی بمباری سے 46 افراد ہلاک ہوگئے، ترجمان افغان طالبان

روس کی بڑی پیشکش، بھارت کی پرانی تلخ یادیں

روس سے توقع ہے کہ وہ جنوری 2026 کے آخر تک ایک تفصیلی تکنیکی اور مالی رپورٹ پیش کرے گا، جس میں بتایا جائے گا کہ بھارت میں Su-57E تیار کرنا کتنا قابلِ عمل ہے۔ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ HAL پہلے ہی 50 فیصد صنعتی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بنیاد Su-30MKI کی دہائیوں پر محیط پیداوار ہے۔

ان کے مطابق ناشک پلانٹ میں صرف 30 فیصد سے کم ری ٹولنگ درکار ہوگی، جبکہ انفراسٹرکچر اپ گریڈ پر 960 ملین سے 1.2 ارب ڈالر خرچ آئیں گے۔

لیکن بھارت یہ سب پہلے بھی سن چکا ہے۔

ایڈمرل گورشوکوو ایئرکرافٹ کیریئر سے لے کر Su-30MKI کی مینٹیننس لاگت تک، ماضی کے کئی روسی منصوبے تاخیر، لاگت میں اضافے اور غیر شفاف سپورٹ کی علامت بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی اداروں میں شکوک اب بھی زندہ ہیں۔

ٹیکنالوجی ٹرانسفر: سنہری وعدہ یا خطرناک جال؟

روس کی سب سے بڑی کشش—ایویونکس سورس کوڈز، اسٹیلتھ میٹیریلز، سینسر فیوژن، حتیٰ کہ انجن ٹیکنالوجی تک رسائی—مغربی ففتھ جنریشن ڈیلز میں ناقابلِ تصور ہے۔ کاغذ پر یہ بھارت کی دفاعی خودمختاری کے خواب سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔

مگر اصل سوال یہ ہے: کیا منتقل کی جانے والی ٹیکنالوجی خود مکمل اور آزمودہ ہے؟

روس کے پاس اس وقت صرف تقریباً 20 Su-57 طیارے ہیں، جن کا عملی استعمال بھی زیادہ تر دور سے حملوں تک محدود رہا ہے۔ اس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں بھارت ایک پختہ ففتھ جنریشن نظام کے بجائے ایک ابھی زیرِ ارتقا پلیٹ فارم تو نہیں اپنا رہا؟

یہ بھی پڑھیں  یوکرین نے سمندری ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے روس کے لڑاکا طیارے کو مار گرایا

طاقت میں اضافہ یا محض اسٹریٹجک سہارا؟

حامیوں کا کہنا ہے کہ Su-57E چین کے J-20 کے مقابلے میں بھارت کو فوری اسٹیلتھ صلاحیت دے سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے جدید لانگ رینج میزائلوں سے لیس کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ طیارہ AMCA سے پہلے ایک ٹیکنالوجی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

ناقدین کے نزدیک یہ پل شاید کہیں نہیں جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی نظام ابتدا میں سستے لگتے ہیں—80 سے 100 ملین ڈالر فی طیارہ—مگر وقت کے ساتھ مینٹیننس، اسپیئر پارٹس اور اپ گریڈ لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جیسا کہ Su-30MKI کے ساتھ ہوا۔

رافیل بمقابلہ Su-57: اصل تقسیم کہاں ہے؟

Su-57E کا معاملہ MRFA پروگرام اور رافیل کے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ درحقیقت یہ انتخاب دو فلسفوں کے درمیان ہے:

  • رافیل: ثابت شدہ صلاحیت، سیاسی استحکام، مگر محدود ٹیکنالوجی ٹرانسفر
  • Su-57E: غیر معمولی صنعتی رسائی، مگر زیادہ تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی خطرات، حتیٰ کہ CAATSA پابندیوں کا امکان بھی

یہ فیصلہ بھارت کی روس اور امریکہ کے درمیان توازن پالیسی کا بھی امتحان ہے۔

ایک طیارے سے بڑھ کر فیصلہ

روس Su-57E کو صرف لڑاکا طیارہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کا آلہ بنا کر پیش کر رہا ہے، حتیٰ کہ بھارت کو مستقبل کا ایکسپورٹ ہب بنانے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔

لیکن محض خواہش حقیقت نہیں بناتی۔

بھارت کے لیے یہ فیصلہ دراصل خطرہ مول لینے کی آمادگی کا امتحان ہے: کیا وہ فوری ففتھ جنریشن صلاحیت کے لیے ایک غیر یقینی راستہ اختیار کرے گا، یا AMCA کے لیے صبر اور سرمایہ کاری جاری رکھے گا؟

یہ بھی پڑھیں  2025 میں عالمی تنازعات حل ہونے کی بجائے بڑھ جائیں گے

جیسے ہی روسی رپورٹ سامنے آئے گی، ایک بات واضح ہو جائے گی—یہ فیصلہ بھارتی فضائی طاقت کی سمت کو دہائیوں تک متعین کرے گا، اور واپسی کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین