پاکستان نیوی کے جدید جنگی بحری جہاز پی این ایس بدر کا سی ایکسیپٹنس ٹرائلز (Sea Acceptance Trials) کا آغاز پاکستان کی بحری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ پاکستان محض دفاعی پلیٹ فارمز خریدنے کے مرحلے سے نکل کر اب خود مختار جنگی بحری جہاز بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔
پی این ایس بدر پاکستان میں مکمل طور پر تیار کیا جانے والا پہلا MILGEM کلاس کارویٹ ہے، جسے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KSEW) میں ترکی کی دفاعی کمپنی ASFAT کی تکنیکی نگرانی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون کی پختگی، اعلیٰ سطح کی ٹیکنالوجی منتقلی، اور مقامی شپ بلڈنگ صلاحیت کے استحکام کی علامت ہے ۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے باضابطہ طور پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان MILGEM منصوبے کے تحت کراچی میں تیار کیا جانے والا پہلا بحری جہاز پی این ایس بدر اپنی پہلی سمندری روانگی کے ساتھ بحری آزمائشی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بحری جہازوں کی اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر مکمل سسٹمز انٹیگریشن کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔
MSB: "Pakistan MİLGEM Projesi kapsamında Pakistan Karaçi Tersanesinde inşa edilen iki gemiden ilki olan BADR korvetinin Deniz Kabul Testleri 19 Ocak’ta Karaçi’de başlamıştır.” @MSB_ASFAT pic.twitter.com/y3IfgX7ahM
— Defence Turkey Magazine (@DefenceTurkey) January 22, 2026
علاقائی تناظر اور اسٹریٹجک اہمیت
پی این ایس بدر کی آزمائشوں کو بحرِ ہند کے خطے (Indian Ocean Region) میں بڑھتی ہوئی بحری مسابقت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی یہ صلاحیت کہ وہ جدید ملٹی مشن جنگی جہاز خود تیار کر سکے، سی ڈینائل، بحری سلامتی، اور اسکارٹ آپریشنز کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں بھارتی نیوی کی بلیو واٹر موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
یہ منصوبہ تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے معاہدے کے تحت پایۂ تکمیل تک پہنچ رہا ہے، جو پاکستان کی وزارتِ دفاعی پیداوار اور ASFAT کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد محض چار بحری جہاز حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی بحری صنعتی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط بنانا ہے ۔
کراچی شپ یارڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ریئر ایڈمرل اثر سلیم کے مطابق MILGEM کلاس کارویٹس پاکستان نیوی کے سب سے جدید بحری پلیٹ فارمز ہوں گے، جو جدید اینٹی سب میرین، اینٹی سرفیس اور ایئر ڈیفنس صلاحیتوں سے لیس ہیں ۔
MILGEM سے بابُر کلاس تک
MILGEM منصوبہ ابتدا میں ترکی نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں غیر ملکی انحصار ختم کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔ پاکستان نے 2018 میں اس ڈیزائن کو اختیار کر کے مقامی سطح پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد پرانے بیڑے کی جگہ جدید، طویل فاصلے تک آپریٹ کرنے والے بحری جہاز شامل کرنا تھا ۔
پاکستانی ورژن کو بابُر کلاس کا نام دیا گیا، جس کا وزن تقریباً 3 ہزار ٹن ہے، رفتار 26 ناٹس سے زائد، اور آپریشنل رینج 3,500 ناٹیکل مائل تک ہے۔ یہ جہاز کھلے سمندر میں طویل مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔
پی این ایس بدر: خود انحصاری کی علامت
پی این ایس بدر کا نام اسلامی تاریخ کی عظیم جنگ بدر سے لیا گیا ہے۔ اس کا کیِل اکتوبر 2020 میں رکھا گیا، مئی 2022 میں لانچ کیا گیا، اور اب جنوری 2026 میں اس کے سمندری آزمائشی مراحل شروع ہو چکے ہیں۔ یہ آزمائشیں جہاز کی رفتار، نیویگیشن، ہتھیاروں، سینسرز اور مجموعی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔
یہ کارویٹ جدید HAVELSAN ADVENT کامبیٹ مینجمنٹ سسٹم، ASELSAN ریڈارز، 76 ملی میٹر نیول گن، اینٹی شپ میزائل، ٹارپیڈوز، اور ورٹیکل لانچ ایئر ڈیفنس سسٹم سے لیس ہے، جو اسے ایک مکمل ملٹی ڈومین جنگی پلیٹ فارم بناتا ہے ۔
وسیع تر دفاعی اثرات
ASFAT کی جانب سے ایک ہی وقت میں ترکی اور پاکستان میں بحری جہازوں کے سمندری ٹرائلز اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ دفاعی صنعتی شراکت داری طویل المدت بنیادوں پر قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق، پی این ایس بدر کی کامیابی پاکستان کو مستقبل میں بڑے بحری جہازوں کی تیاری، اپ گریڈیشن اور مشترکہ منصوبوں کے لیے مضبوط پوزیشن میں لے آئے گی۔
پی این ایس بدر کے سمندری آزمائشی مراحل اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان اب محض بحری جدید کاری نہیں بلکہ پائیدار بحری طاقت کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔




