بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

پی این ایس بدر کے سمندری آزمائشی مراحل کا آغاز: پاکستان کی مقامی بحری جہاز سازی میں تاریخی پیش رفت

پاکستان نیوی کے جدید جنگی بحری جہاز پی این ایس بدر کا سی ایکسیپٹنس ٹرائلز (Sea Acceptance Trials) کا آغاز پاکستان کی بحری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ پاکستان محض دفاعی پلیٹ فارمز خریدنے کے مرحلے سے نکل کر اب خود مختار جنگی بحری جہاز بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔

پی این ایس بدر پاکستان میں مکمل طور پر تیار کیا جانے والا پہلا MILGEM کلاس کارویٹ ہے، جسے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KSEW) میں ترکی کی دفاعی کمپنی ASFAT کی تکنیکی نگرانی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون کی پختگی، اعلیٰ سطح کی ٹیکنالوجی منتقلی، اور مقامی شپ بلڈنگ صلاحیت کے استحکام کی علامت ہے ۔

ترکی کی وزارتِ دفاع نے باضابطہ طور پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان MILGEM منصوبے کے تحت کراچی میں تیار کیا جانے والا پہلا بحری جہاز پی این ایس بدر اپنی پہلی سمندری روانگی کے ساتھ بحری آزمائشی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بحری جہازوں کی اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر مکمل سسٹمز انٹیگریشن کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔

علاقائی تناظر اور اسٹریٹجک اہمیت

پی این ایس بدر کی آزمائشوں کو بحرِ ہند کے خطے (Indian Ocean Region) میں بڑھتی ہوئی بحری مسابقت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی یہ صلاحیت کہ وہ جدید ملٹی مشن جنگی جہاز خود تیار کر سکے، سی ڈینائل، بحری سلامتی، اور اسکارٹ آپریشنز کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں بھارتی نیوی کی بلیو واٹر موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ’ڈسکمبوبولیٹر‘ کیا ہے؟ جس خفیہ امریکی ہتھیار نے وینزویلا کے دفاعی نظام کو مفلوج کر دیا

یہ منصوبہ تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے معاہدے کے تحت پایۂ تکمیل تک پہنچ رہا ہے، جو پاکستان کی وزارتِ دفاعی پیداوار اور ASFAT کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد محض چار بحری جہاز حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی بحری صنعتی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط بنانا ہے ۔

کراچی شپ یارڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ریئر ایڈمرل اثر سلیم کے مطابق MILGEM کلاس کارویٹس پاکستان نیوی کے سب سے جدید بحری پلیٹ فارمز ہوں گے، جو جدید اینٹی سب میرین، اینٹی سرفیس اور ایئر ڈیفنس صلاحیتوں سے لیس ہیں ۔

MILGEM سے بابُر کلاس تک

MILGEM منصوبہ ابتدا میں ترکی نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں غیر ملکی انحصار ختم کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔ پاکستان نے 2018 میں اس ڈیزائن کو اختیار کر کے مقامی سطح پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد پرانے بیڑے کی جگہ جدید، طویل فاصلے تک آپریٹ کرنے والے بحری جہاز شامل کرنا تھا ۔

پاکستانی ورژن کو بابُر کلاس کا نام دیا گیا، جس کا وزن تقریباً 3 ہزار ٹن ہے، رفتار 26 ناٹس سے زائد، اور آپریشنل رینج 3,500 ناٹیکل مائل تک ہے۔ یہ جہاز کھلے سمندر میں طویل مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔

پی این ایس بدر: خود انحصاری کی علامت

پی این ایس بدر کا نام اسلامی تاریخ کی عظیم جنگ بدر سے لیا گیا ہے۔ اس کا کیِل اکتوبر 2020 میں رکھا گیا، مئی 2022 میں لانچ کیا گیا، اور اب جنوری 2026 میں اس کے سمندری آزمائشی مراحل شروع ہو چکے ہیں۔ یہ آزمائشیں جہاز کی رفتار، نیویگیشن، ہتھیاروں، سینسرز اور مجموعی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  چین کا بنگلہ دیش میں فوجی ڈرون فیکٹری قائم کرنے کا فیصلہ: خلیجِ بنگال میں طاقت کے توازن میں بڑی اسٹریٹجک تبدیلی

یہ کارویٹ جدید HAVELSAN ADVENT کامبیٹ مینجمنٹ سسٹم، ASELSAN ریڈارز، 76 ملی میٹر نیول گن، اینٹی شپ میزائل، ٹارپیڈوز، اور ورٹیکل لانچ ایئر ڈیفنس سسٹم سے لیس ہے، جو اسے ایک مکمل ملٹی ڈومین جنگی پلیٹ فارم بناتا ہے ۔

وسیع تر دفاعی اثرات

ASFAT کی جانب سے ایک ہی وقت میں ترکی اور پاکستان میں بحری جہازوں کے سمندری ٹرائلز اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ دفاعی صنعتی شراکت داری طویل المدت بنیادوں پر قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق، پی این ایس بدر کی کامیابی پاکستان کو مستقبل میں بڑے بحری جہازوں کی تیاری، اپ گریڈیشن اور مشترکہ منصوبوں کے لیے مضبوط پوزیشن میں لے آئے گی۔

پی این ایس بدر کے سمندری آزمائشی مراحل اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان اب محض بحری جدید کاری نہیں بلکہ پائیدار بحری طاقت کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین