امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72) کی یو ایس سینٹرل کمانڈ کے زیرِ اثر سمندری حدود میں تعیناتی نے جدید بحری جنگ کی ایک بنیادی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔ امریکی ڈرون ساز کمپنی ڈریگن فلائی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمرون چیل کے مطابق، ایران کے ڈرون سوارمز اب دنیا کے طاقتور ترین بحری بیڑوں کے لیے بھی ایک “سنگین اور قابلِ اعتبار خطرہ” بن چکے ہیں۔
یہ انتباہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید جنگ میں محض تکنیکی برتری کافی نہیں رہی، بلکہ کم لاگت اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے غیرمأہول ہتھیار مہنگے عسکری پلیٹ فارمز کے لیے شدید خطرہ بن رہے ہیں۔
جنگ کی نئی معاشیات اور لاگت کا عدم توازن
ایران نے گزشتہ برسوں میں ایسے ڈرونز تیار کیے ہیں جن کی مجموعی لاگت مبینہ طور پر 30 سے 50 ملین ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ ایک امریکی نِمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز کی قیمت 13 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
یہ عدم توازن امریکی بحری دفاعی حکمتِ عملی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی واضح ہے:
کم لاگت ڈرون + سادہ وارہیڈ + بڑی تعداد = مہنگے دفاعی نظام کو تھکا دینا
یو ایس ایس ابراہام لنکن: طاقت بھی، کمزوری بھی
یو ایس ایس ابراہام لنکن ایک 100 ہزار ٹن وزنی سپر کیریئر ہے، جس پر 90 سے زائد طیارے موجود ہیں، جن میں جدید F-35C فائٹر جیٹس اور E-2D ہاک آئی ریڈار طیارے شامل ہیں۔
لیکن اس کا بڑا سائز، نمایاں ریڈار سگنیچر اور محدود نقل و حرکت اسے خلیج فارس جیسے تنگ سمندری علاقوں میں ایک نمایاں ہدف بنا دیتا ہے۔
اگرچہ اس کے ساتھ جدید ایجس سسٹم سے لیس امریکی جنگی جہاز موجود ہوتے ہیں، مگر یہ دفاعی نظام درجنوں یا سینکڑوں کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کے بیک وقت حملے کے لیے تیار نہیں کیے گئے تھے۔
ایران کا ڈرون سوارم نظریہ
ایران نے پابندیوں کے باوجود دنیا کے مؤثر ترین ڈرون نیٹ ورکس میں سے ایک تیار کر لیا ہے، جس کی بنیاد ہے:
- بڑی تعداد
- تیز پیداوار
- کم قیمت
- خودکش (One-way) حملہ آور ڈرونز
شاہد-136 ڈرون اس حکمتِ عملی کی نمایاں مثال ہے، جس کی رینج 1000 سے 2000 کلومیٹر اور قیمت صرف 20 سے 50 ہزار ڈالر ہے۔ یہی ڈرون یوکرین جنگ میں روس کے ذریعے استعمال ہو چکا ہے، جہاں اس نے دفاعی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
سمندری جنگ میں ڈرونز کا پھیلاؤ
ایران نے اپنے ڈرون نظریے کو سمندری جنگ تک بھی پھیلا دیا ہے۔
تجارتی جہازوں کو ڈرون کیریئرز میں تبدیل کیا گیا، جبکہ 150 سے زائد ڈرونز پر مشتمل مشقیں خلیج، بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے قریب کی جا چکی ہیں۔
محاجر-6 جیسے ڈرون ہدف کی نشاندہی، نگرانی اور خودکش ڈرونز کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
حوثیوں کے ذریعے عملی تجربہ
یمن میں حوثی باغیوں کے ذریعے استعمال کیے گئے ایرانی ڈرونز نے بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کیا۔
امریکی اور اتحادی بحری افواج کو مسلسل دفاعی حالت میں رہنا پڑا، جس سے:
- میزائل ذخائر کم ہوئے
- آپریشنل دباؤ بڑھا
- عالمی تجارت متاثر ہوئی
یہ ثابت ہو گیا کہ جہاز ڈوبانا ضروری نہیں، صرف خطرے کا تاثر ہی کافی ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت
دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
اگر امریکی بحری برتری کمزور دکھائی دے تو:
- عالمی توانائی مارکیٹ ہل سکتی ہے
- انشورنس لاگت بڑھے گی
- خطے میں عدم استحکام بڑھے گا
ایران اسی نفسیاتی اور معاشی دباؤ کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنا رہا ہے۔
امریکہ کا ردِعمل اور مستقبل کی جنگ
امریکہ لیزر ہتھیار، الیکٹرانک وارفیئر، اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ:
دفاع ہمیشہ حملے کے بعد آتا ہے،
اور حملہ آور کے پاس ارتقا کی رفتار زیادہ ہوتی ہے۔
نتیجہ
ایرانی ڈرون سوارمز نے بحری جنگ کا توازن بدل دیا ہے۔
طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی طاقت کی علامت ہیں، مگر ناقابلِ تسخیر نہیں رہے۔
آنے والے برسوں میں بحری طاقت کا فیصلہ جہاز کے سائز سے نہیں بلکہ ڈرونز، لاگت، اور ذہانت سے ہو گا۔




