بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکا، بھارت تعلقات میں دراڑ کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟

گزشتہ ایک دہائی کے دوران واشنگٹن اور نئی دہلی اپنے تعلقات کو انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا ستون قرار دیتے رہے۔ دفاعی تعاون، کواڈ اور سفارتی ہم آہنگی کے باوجود، پسِ پردہ ایک خاموش مگر گہرا اختلاف جنم لیتا رہا—جس کی بنیاد اسلحے یا اتحادی سیاست نہیں بلکہ پیسہ، تجارت اور عالمی مالیاتی نظام کا کنٹرول ہے۔

2025 کے اختتام تک یہ اختلاف امریکا کی نظر میں ایک اسٹریٹجک دراڑ کی صورت اختیار کر چکا تھا۔

وہ تیل تجارت جس نے منظرنامہ بدل دیا

مغربی پابندیوں کے بعد روس نے خام تیل کی برآمدات کا رخ بھارت کی طرف موڑا۔ اس تیل کی ادائیگیاں تیزی سے امریکی ڈالر کے بجائے بھارتی روپے میں ہونے لگیں۔ ابتدا میں واشنگٹن نے اسے وقتی بندوبست سمجھ کر نظرانداز کیا، مگر جلد ہی اس کی وسعت تشویش کا باعث بن گئی۔

نومبر 2025 تک بھارت نے ایک ہی مہینے میں 77 لاکھ ٹن روسی تیل درآمد کیا، جو اس کی مجموعی درآمدات کا 35 فیصد تھا، اور اس کا بڑا حصہ ڈالر نظام سے باہر طے پایا۔

آر بی آئی کا خاموش مگر فیصلہ کن قدم

مہینوں تک روس کے اربوں روپے بھارتی بینکوں میں جمع رہے، جنہیں وہ مؤثر طور پر استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ یہ رکاوٹ 12 اگست 2025 کو اس وقت ختم ہوئی جب ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے غیر ملکی فریقین کو اجازت دی کہ وہ اسپیشل روپیہ ووسٹرو اکاؤنٹس (SRVAs) میں موجود اضافی رقوم کو بھارتی سرکاری بانڈز اور ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

یہ محض ایک ریگولیٹری تبدیلی نہیں تھی بلکہ گیم چینجر ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں  بغاوت یا مارشل لا: جنوبی کوریا میں کیا ہوا اور کیوں ہوا؟

اب روسی تیل کی آمدن امریکی ٹریژریز کا رخ کرنے کے بجائے براہِ راست بھارتی خودمختار قرض میں منتقل ہونے لگی، یوں یہ سرمایہ بھارت کی معیشت اور انفراسٹرکچر کو تقویت دینے لگا۔

واشنگٹن کے لیے یہ ایک واضح حد عبور کرنے کے مترادف تھا۔

جب امریکی اتحادی بھی شامل ہو گئے

امریکا کی تشویش اس وقت مزید بڑھی جب بھارت اور متحدہ عرب امارات—دونوں امریکی شراکت دار—نے لوکل کرنسی سیٹلمنٹ سسٹم کو عملی شکل دی۔ انڈین آئل کارپوریشن کی جانب سے ایک ملین بیرل ابوظہبی خام تیل کی روپے میں ادائیگی نے ثابت کر دیا کہ یہ ماڈل صرف روس تک محدود نہیں۔

یہ پیغام واضح تھا:
ڈالر کے بغیر توانائی تجارت اب حقیقت بن چکی ہے۔

واشنگٹن کا فوری ردعمل

چند ہی ہفتوں کے اندر امریکا نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کر دیے۔ یہ اقدام محض تجارتی نہیں بلکہ سیاسی پیغام تھا—مالیاتی خودمختاری کی قیمت چکانی پڑے گی۔

روپیہ بین الاقوامی نظام کی جانب

دباؤ کے باوجود بھارت پیچھے نہیں ہٹا۔ 2025 کے آخر تک RBI نے 30 ممالک کے 123 بینکوں کو، جن میں برطانیہ، جرمنی، اسرائیل اور سنگاپور شامل ہیں، 156 اسپیشل روپیہ اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی۔

یہ اقدام علامتی نہیں بلکہ عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر کی تعمیر تھا۔

برکس برج: اصل موڑ

سب سے بڑی خلیج اس وقت سامنے آئی جب بھارت نے 2026 برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تیاری کے ساتھ “برکس برج” منصوبہ پیش کیا۔ اس کا مقصد برکس ممالک کی سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز (CBDCs) کو ایک مربوط، فوری ادائیگی نظام سے جوڑنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  روس کے تویر ریجن میں یوکرین کے ڈرون حملے سے زوردار دھماکے

2025 ریو ڈی جنیرو اعلامیے کی بنیاد پر یہ نظام روس، چین، بھارت اور نئے رکن ممالک جیسے یو اے ای کو اجازت دے گا کہ وہ ڈیجیٹل مقامی کرنسیوں میں فوری لین دین کر سکیں—وہ بھی امریکی بینکاری نظام سے مکمل طور پر باہر۔

ای-روپیہ کی سرحد پار آزمائش کے ساتھ بھارت عملاً ایک ایسا ڈیجیٹل سوئفٹ تشکیل دے رہا ہے جو مغربی پابندیوں سے محفوظ ہو۔

امریکا اسے خطرہ کیوں سمجھتا ہے؟

واشنگٹن کی نظر میں اصل مسئلہ روس یا برکس نہیں بلکہ مثال (precedent) ہے۔

اگر بھارت کامیاب ہوا تو وہ دنیا کو ایک ایسا قابلِ نقل ماڈل دے دے گا جس میں امریکی مالی نگرانی کے بغیر تجارت، سرمایہ کاری اور ادائیگیاں ممکن ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی ساز اسے محض اصلاح نہیں بلکہ “مالیاتی بغاوت” قرار دے رہے ہیں۔

شراکت داری دباؤ میں

دلچسپ امر یہ ہے کہ دفاعی تعاون اور سفارتی بیانات کے باوجود، امریکا–بھارت تعلقات کی مالی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

جو عمل تیل کی خریداری سے شروع ہوا، وہ اب عالمی مالیاتی نظام کی قیادت پر ایک بنیادی تصادم میں بدل چکا ہے۔ اور یہ دراڑ شاید ابھی باضابطہ نہ ہو، مگر مالیاتی سطح پر علیحدگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین