بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی فضائیہ نے ERAM کروز میزائل کا لائیو وارہیڈ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کر لیا

امریکی فضائیہ  نے فلوریڈا میں واقع Eglin Test and Training Range پر اپنے ایکسٹینڈڈ رینج اٹیک میونیشن (ERAM) کروز میزائل کا لائیو وارہیڈ ٹیسٹ کامیابی سے انجام دے دیا ہے۔ یہ سنگِ میل ابتدائی معاہدے کے بعد 16 ماہ سے بھی کم عرصے میں حاصل کیا گیا، جو پروگرام کی تیز رفتار پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے مطابق اس تجربے میں تمام بنیادی اہداف حاصل کیے گئے، جن میں مکمل وارہیڈ ڈیٹونیشن بھی شامل تھی، جبکہ سسٹم کی پختگی کے لیے درکار اعلیٰ معیار کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا گیا۔ یہ مظاہرہ ERAM پروگرام کے تیز تر ترقیاتی عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد کم وقت میں طویل فاصلے تک حملہ آور صلاحیت فراہم کرنا ہے۔

Image

صنعت اور فضائیہ کا اشتراک، “رسٹی ڈیگر” کی توثیق

دفاعی کمپنی Zone 5 Technologies نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس نے ایگلن میں ہونے والے لائیو فائر ٹیسٹ کے دوران امریکی فضائیہ کی معاونت کی۔ کمپنی کے مطابق یہ مظاہرہ اس کے “رسٹی ڈیگر” تصور کی پختگی کی تصدیق ہے، جو ERAM کے ڈیزائن اور کارکردگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کامیاب تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب صنعت اور فضائیہ قریبی اشتراک سے کام کریں تو کم لاگت اور جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتیں کم وقت میں تیار کی جا سکتی ہیں۔

“اسپیڈ آف ریلیوینس” پر تیز رفتار ترقی

امریکی فضائیہ کے حکام نے اس ٹیسٹ کو پروگرام کے لیے ایک نیا معیار قرار دیا، اور بتایا کہ ERAM معاہدے سے لائیو وارہیڈ ٹیسٹنگ تک دو سال سے بھی کم وقت میں پہنچ گیا۔ حکام کے مطابق یہ رفتار جنگی ضروریات کے مطابق صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے بیوروکریسی کم کرنے کی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جسے فضائیہ “اسپیڈ آف ریلیوینس” کہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کا آئرن ڈوم منصوبہ کیا قابل عمل ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟

ERAM ایک نئی نسل کا ایئر لانچڈ کروز میزائل ہے، جو اعلیٰ قدر کے فکسڈ اہداف کے خلاف درست اور اسٹینڈ آف حملے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس سسٹم کا مقصد “افورڈیبل ماس” فراہم کرنا ہے، تاکہ کمانڈرز مہنگے روایتی ہتھیاروں پر مکمل انحصار کے بغیر بڑی تعداد میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کر سکیں۔

طویل فاصلے کے حملوں میں خلا پُر کرنے کی کوشش

لاگت پر قابو اور تیز پیداوار کو ترجیح دے کر ERAM پروگرام امریکی فضائیہ کی طویل فاصلے تک حملہ آور صلاحیت میں موجود خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے ممکنہ تنازعات کے تناظر میں جہاں اسلحے کے ذخائر اور ان کی مسلسل دستیابی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔

ہتھیاروں کے حصول کے پورٹ فولیو کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل Robert Lyons III نے کہا کہ دو سال سے کم عرصے میں لائیو فائر ٹیسٹ تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کم لاگت مگر مہلک صلاحیتیں تیزی سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔

Image

ٹیسٹنگ، ڈیٹا اور آئندہ مراحل

یہ تجربہ ایئر فورس لائف سائیکل مینجمنٹ سینٹر کے آرمامنٹ ڈائریکٹوریٹ، 96th Test Wing اور متعدد صنعتی شراکت داروں کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔ ایگلن کے سینٹرل کنٹرول فیسلٹی میں انجینیئرز اور ٹیسٹ کنڈکٹرز نے مشن کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور بعد ازاں ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

فضائیہ کے حکام کے مطابق اس ٹیسٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ERAM کی کارکردگی کی توثیق اور آئندہ ترقیاتی مراحل—بشمول ممکنہ پیداوار کے فیصلوں—میں استعمال کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر لائیو وارہیڈ ٹیسٹنگ کا مقصد آپریشنل یونٹس کو سسٹم فراہم کرنے سے پہلے تکنیکی خطرات کم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ

96ویں ٹیسٹ ونگ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل Mark Massaro نے کہا کہ مستقبل کی جنگ کم لاگت اور قابلِ تلف (attritable) نظاموں کی متقاضی ہے، جو کمانڈرز کو بڑی تعداد میں طاقت پیدا کرنے کا اختیار دیں—اور ERAM اسی سمت ایک اہم قدم ہے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین