بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

دھمکی بھی، بات چیت بھی: امریکا اور ایران کے درمیان نازک سفارت کاری

United States اور Iran کے درمیان جوہری مذاکرات Turkey میں 6 فروری کو متوقع ہیں۔ دونوں جانب کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے سب سے حساس سفارتی تنازعات میں سے ایک میں ممکنہ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کی ہدایت کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کا حکم ایسے وقت میں دیا جب امریکی صدر Donald Trump نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں “برے نتائج” کی دھمکی دی۔

ایران کی مشروط آمادگی

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کی تجویز ہی نہیں بلکہ خطے کے دوست ممالک کی اپیلوں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی کہ “منصفانہ اور برابری پر مبنی مذاکرات” کے لیے زمین ہموار کی جائے، بشرطیکہ مذاکرات دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ماحول میں ہوں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ وہ سفارت کاری کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی فوجی جارحیت کی صورت میں بلا روک ٹوک جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ کی دوہری زبان: بات چیت بھی، دھمکی بھی

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ “کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے” کے بارے میں پُرامید ہیں، مگر ساتھ ہی وہ مسلسل مبہم دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹرمپ کی روایتی حکمتِ عملی ہے:
واضح اقدام کا اعلان کیے بغیر دباؤ بڑھانا اور غیر یقینی صورتحال کو بطور ہتھیار استعمال کرنا۔

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، اعلیٰ ترین سعودی اعزاز سے نوازے گئے

یہ انداز واشنگٹن کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ بیک وقت فوجی، معاشی اور سفارتی آپشنز کھلے رکھے، جبکہ ذمہ داری کا بوجھ پہلے ہی تہران پر ڈال دیا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی محتاط امید

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے CNN کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی مذاکراتی ٹیم صدر ٹرمپ کے بیان کردہ “منصفانہ معاہدے” کے اصول پر قائم رہی تو جوہری معاہدہ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کا مقصد واقعی یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے، تو معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خطے کی آواز: تصادم نہیں، مذاکرات

خطے میں ایک اور تصادم کے خدشات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے دوران اماراتی صدر کے سفارتی مشیر Anwar Gargash نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو بار بار ابھرنے والے بحرانوں سے بچا سکتے ہیں۔

دباؤ، مگر حتمی فیصلہ نہیں

اگرچہ امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، مگر فی الحال کسی فوری حملے کے آثار واضح نہیں۔ موجودہ اقدامات ایک سوچی سمجھی دباؤ کی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں:

  • واضح وعدے کے بغیر دھمکی
  • نفسیاتی دباؤ
  • مذاکرات پر زور، مگر دوہرا پیغام
  • جان بوجھ کر مبہم انتباہات

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، نہ کہ فوری جنگ کی تیاری کر رہا ہے—مگر تمام آپشنز اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ نے مارکو روبیو کو وزیر خارجہ نامزد کر کے چین کے متعلق سخت پالیسی کا اشارہ دے دیا

نتیجہ: معاہدہ یا خطرناک غیر یقینی صورتحال

واشنگٹن کا غیر اعلانیہ پیغام یہ دکھائی دیتا ہے:
“ایک قابلِ قبول معاہدہ کرو، ورنہ دباؤ بڑھتا رہے گا اور غیر یقینی صورتحال میں جیتے رہو گے۔”

6 فروری کو متوقع مذاکرات خطے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ بن سکتے ہیں۔ کامیابی کشیدگی کم کر سکتی ہے، جبکہ ناکامی مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین