United States اور Iran کے درمیان جوہری مذاکرات Turkey میں 6 فروری کو متوقع ہیں۔ دونوں جانب کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے سب سے حساس سفارتی تنازعات میں سے ایک میں ممکنہ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کی ہدایت کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کا حکم ایسے وقت میں دیا جب امریکی صدر Donald Trump نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں “برے نتائج” کی دھمکی دی۔
ایران کی مشروط آمادگی
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کی تجویز ہی نہیں بلکہ خطے کے دوست ممالک کی اپیلوں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی کہ “منصفانہ اور برابری پر مبنی مذاکرات” کے لیے زمین ہموار کی جائے، بشرطیکہ مذاکرات دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ماحول میں ہوں۔
In light of requests from friendly governments in the region to respond to the proposal by the President of the United States for negotiations:
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 3, 2026
تہران کا مؤقف ہے کہ وہ سفارت کاری کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی فوجی جارحیت کی صورت میں بلا روک ٹوک جواب دیا جائے گا۔
ٹرمپ کی دوہری زبان: بات چیت بھی، دھمکی بھی
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ “کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے” کے بارے میں پُرامید ہیں، مگر ساتھ ہی وہ مسلسل مبہم دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹرمپ کی روایتی حکمتِ عملی ہے:
واضح اقدام کا اعلان کیے بغیر دباؤ بڑھانا اور غیر یقینی صورتحال کو بطور ہتھیار استعمال کرنا۔
یہ انداز واشنگٹن کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ بیک وقت فوجی، معاشی اور سفارتی آپشنز کھلے رکھے، جبکہ ذمہ داری کا بوجھ پہلے ہی تہران پر ڈال دیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی محتاط امید
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے CNN کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی مذاکراتی ٹیم صدر ٹرمپ کے بیان کردہ “منصفانہ معاہدے” کے اصول پر قائم رہی تو جوہری معاہدہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کا مقصد واقعی یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے، تو معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خطے کی آواز: تصادم نہیں، مذاکرات
خطے میں ایک اور تصادم کے خدشات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے دوران اماراتی صدر کے سفارتی مشیر Anwar Gargash نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو بار بار ابھرنے والے بحرانوں سے بچا سکتے ہیں۔
دباؤ، مگر حتمی فیصلہ نہیں
اگرچہ امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، مگر فی الحال کسی فوری حملے کے آثار واضح نہیں۔ موجودہ اقدامات ایک سوچی سمجھی دباؤ کی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں:
- واضح وعدے کے بغیر دھمکی
- نفسیاتی دباؤ
- مذاکرات پر زور، مگر دوہرا پیغام
- جان بوجھ کر مبہم انتباہات
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، نہ کہ فوری جنگ کی تیاری کر رہا ہے—مگر تمام آپشنز اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
نتیجہ: معاہدہ یا خطرناک غیر یقینی صورتحال
واشنگٹن کا غیر اعلانیہ پیغام یہ دکھائی دیتا ہے:
“ایک قابلِ قبول معاہدہ کرو، ورنہ دباؤ بڑھتا رہے گا اور غیر یقینی صورتحال میں جیتے رہو گے۔”
6 فروری کو متوقع مذاکرات خطے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ بن سکتے ہیں۔ کامیابی کشیدگی کم کر سکتی ہے، جبکہ ناکامی مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔




