بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سیٹلائٹ انٹرنیٹ جنگ کا نیا میدان، ایران اور یوکرین نے خطرناک خلا دکھا دیا

سیٹلائٹ انٹرنیٹ محض ایک تجارتی سہولت نہیں رہا بلکہ اب اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر بن چکا ہے۔ یہ حقیقت 2026 کے اوائل میں ایران اور یوکرین میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ناقابلِ تردید ہو گئی، جہاں خلا سے فراہم کی جانے والی کنیکٹیویٹی براہِ راست سیکیورٹی اور جنگی کارروائیوں کا حصہ بن گئی۔

ایران کا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کی کمزوریاں

جنوری 2026 میں ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران حکام نے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا، جس کے نتیجے میں موبائل ڈیٹا، براڈبینڈ اور بیشتر بین الاقوامی رابطے منقطع ہو گئے۔ اس اقدام کا مقصد احتجاج کو دبانا اور معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا تھا۔

ابتدائی دنوں میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خصوصاً Starlink، ریاستی نیٹ ورکس سے باہر دنیا سے رابطے کا ایک نادر ذریعہ بن کر ابھرا۔ تاہم یہ سہولت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے جدید ریڈیو فریکوئنسی جیمنگ سسٹمز استعمال کیے، جس سے اسٹارلنک سگنلز متاثر ہوئے، شدید پیکٹ لاس اور غیر مستحکم کنکشن سامنے آئے۔ بعض علاقوں میں ٹرمینلز مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے چھاپوں کے دوران سیٹلائٹ ٹرمینلز ضبط بھی کیے، جس سے متبادل کنیکٹیویٹی ختم کرنے کی کوشش مزید واضح ہو گئی۔

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لو ارتھ آربٹ (LEO) سیٹلائٹ نیٹ ورکس بھی ریاستی سطح کی منظم مداخلت کے سامنے کمزور ہو سکتے ہیں، اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ اب داخلی سیکیورٹی کارروائیوں کے میدانِ جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مظفرآباد دورہ، کشمیر کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ

یوکرین: اسٹارلنک اور ہتھیاروں کا تنازع

اسی عرصے میں یوکرین میں اسٹارلنک ایک اور تنازع کی زد میں آیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی افواج نے ڈرونز پر اسٹارلنک ٹرمینلز نصب کر کے طویل فاصلے کی کارروائیاں کیں، جن میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

یوکرینی دفاعی حکام نے تصدیق کی کہ انہوں نے SpaceX کے ساتھ مل کر ایسے ڈرونز پر اسٹارلنک کی رسائی بند کرائی۔ اسپیس ایکس کا مؤقف ہے کہ اس کی سروس کی شرائط ہتھیاروں میں استعمال کی اجازت نہیں دیتیں اور غلط استعمال کی نشاندہی پر تکنیکی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

نتیجہ واضح تھا: ایک نجی امریکی کمپنی کے فیصلے نے براہِ راست میدانِ جنگ پر اثرات مرتب کیے۔

Image

سروس فراہم کنندہ سے اسٹریٹجک فریق تک

فوجی منصوبہ سازوں کے لیے یہ ایک ساختی تبدیلی ہے۔ کمرشل سیٹلائٹ فراہم کنندگان اب محض سہولت کار نہیں رہے بلکہ ایسے فریق بن چکے ہیں جن کے تکنیکی فیصلے جنگی نتائج بدل سکتے ہیں۔

یہ تبدیلی موجودہ قانونی ڈھانچوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ Outer Space Treaty خلا کے پرامن استعمال جیسے اصول تو طے کرتا ہے، مگر ریڈیو فریکوئنسی جیمنگ، سائبر مداخلت یا تنازع کے دوران سیٹلائٹ سروس کی بندش جیسے مسائل پر خاموش ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون شہری اور فوجی اہداف میں فرق کی بات کرتا ہے، لیکن کمرشل سیٹلائٹس بیک وقت شہری اور فوجی دونوں صارفین کی خدمت کرتے ہیں۔ ایک ہی اسٹارلنک ٹرمینل بلیک آؤٹ میں شہری رابطے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے اور چند منٹ بعد فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول میں بھی استعمال ہو سکتا ہے—جس پر قانون کوئی واضح حد مقرر نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے مبینہ 80 ہزار شاہد ڈرون: فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

Tallinn Manual بھی اسی ابہام کی نشاندہی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ریاستیں اس بات پر متفق نہیں کہ کب سائبر یا الیکٹرانک مداخلت “طاقت کے استعمال” کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ یہ دستاویز خود غیر پابند ہے۔

خلا میں گورننس کا خلا

ایران اور یوکرین کے واقعات ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: نجی کمپنیاں اب ایسے انفراسٹرکچر کی مالک ہیں جو شہری زندگی اور فوجی آپریشنز دونوں کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون بنیادی طور پر ریاستوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

جب اسپیس ایکس رسائی محدود کرتی ہے تو وہ ایسے اختیارات استعمال کرتی ہے جو روایتی طور پر حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں—مگر بغیر اس شفافیت اور قانونی پابندی کے جو ریاستوں پر لاگو ہوتی ہے۔ امریکی ایکسپورٹ کنٹرول قوانین بھی فعال جنگ کے دوران ریئل ٹائم سروس ڈینائل جیسے فیصلوں کے لیے بنائے ہی نہیں گئے تھے۔

نتیجتاً نجی آپریٹرز ایک قانونی خلا میں کام کر رہے ہیں، جہاں رہنمائی قومی یا بین الاقوامی اصولوں کے بجائے کارپوریٹ پالیسی کرتی ہے۔

آگے کیا؟

سبق یہ نہیں کہ کمرشل سیٹلائٹ سسٹمز ناقابلِ اعتماد ہیں—بلکہ یہ کہ وہ ناگزیر بھی ہیں اور نشانے پر بھی۔ مستقبل کے تنازعات میں زمین کے بجائے کنیکٹیویٹی کو نشانہ بنایا جائے گا، اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس اولین اہداف ہوں گے۔

جب تک قانونی اصول اپڈیٹ نہیں ہوتے، ریاستیں جیمنگ، اسپوفنگ اور مداخلت جاری رکھیں گی اور اس دعوے کے ساتھ کہ وہ قانونی حدود عبور نہیں کر رہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس کا مطلب ہے:

  • کمرشل اسپیس فراہم کنندگان کو عسکری منصوبہ بندی میں باقاعدہ شامل کرنا
  • خلا میں کمیونی کیشن کے تحفظ کے لیے واضح عسکری نظریہ
  • سیٹلائٹ انفراسٹرکچر کے خلاف اندھا دھند مداخلت روکنے کے لیے پابند بین الاقوامی اصول قائم کرنے کی سفارتی کوششیں
یہ بھی پڑھیں  آپریشن سندور کی جنگ بندی کے دن بھارتی سفارت خانے کے وائٹ ہاؤس سے رابطے بے نقاب

خلا پہلے ہی متنازع ہو چکا ہے—قانون اب بھی خطرناک حد تک پیچھے ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین