بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ریاض میں سعودی جھنڈے کے ساتھ F-35 طیاروں کی اڑان، سعودی عرب کے 48 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے کے منصوبے کا اشارہ

ریاض میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے دوران سعودی پرچم کے ساتھ F-35 لائٹننگ ٹو کا ماک اپ نمایاں طور پر پیش کیا گیا، جسے دفاعی ماہرین سعودی عرب کی جانب سے 48 پانچویں نسل کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے کے واضح اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس نمائش کے ساتھ ساتھ سعودی پرچم کے ساتھ F-35 طیاروں کی فضائی مظاہری پروازیں (Demo Flyovers) بھی کی گئیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ معاملہ محض تصوراتی مرحلے میں نہیں بلکہ سنجیدہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا حصہ بن چکا ہے۔

ورلڈ ڈیفنس شو 2026: ایک علامتی مگر طاقتور پیغام

ریاض میں ہونے والا World Defense Show سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت دفاعی جدیدکاری اور عالمی اسلحہ منڈی میں کردار اجاگر کرنے کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، F-35 جیسے حساس اور سخت کنٹرول شدہ طیارے کا ماک اپ قومی پرچم کے ساتھ پیش کرنا کسی بھی صورت محض نمائش نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ایک سیاسی و عسکری اشارہ ہے، جو امریکی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔

48 F-35 طیارے: سعودی فضائی قوت میں انقلابی تبدیلی

دفاعی ذرائع کے مطابق Saudi Arabia کی منصوبہ بندی ہے کہ وہ 48 F-35 لائٹننگ ٹو لڑاکا طیارے حاصل کرے، جو دو مکمل اسکواڈرنز کی تشکیل کے لیے کافی ہوں گے۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو:

  • سعودی فضائیہ پانچویں نسل کی صلاحیت حاصل کر لے گی
  • خلیجی خطے میں فضائی طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا
  • سعودی عرب اُن چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو اسٹیلتھ فائٹرز آپریٹ کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور بھارت نے سرحدوں پر فوج کی تعداد کم کرنا شروع کردی، جنرل ساحر شمشاد مرزا

مظاہری پروازیں: دفاعی اور سفارتی سگنل

ورلڈ ڈیفنس شو کے دوران سعودی پرچم کے ساتھ F-35 طیاروں کی مظاہری پروازیں محض تکنیکی مظاہرہ نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر دیا گیا سفارتی پیغام ہیں۔

ایسی پروازیں عموماً:

  • مستقبل کی ملکیت کو عوامی سطح پر قابلِ قبول بنانے
  • خطے کو اسٹریٹجک سگنل دینے
  • اور سپلائر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی ظاہر کرنے
    کے لیے کی جاتی ہیں۔

F-35 کے حصول کے پس منظر میں سعودی حکمتِ عملی

سعودی عرب کی جانب سے F-35 Lightning II میں دلچسپی کو خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ریاض کا مقصد:

  • اسرائیل کے ساتھ فضائی طاقت میں توازن برقرار رکھنا
  • ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا مقابلہ
  • پرانے چوتھی نسل کے طیاروں پر انحصار کم کرنا
  • امریکہ کے ساتھ طویل المدتی دفاعی شراکت داری مضبوط کرنا

امریکی منظوری اور اسرائیلی عنصر

سعودی عرب کو F-35 کی فروخت امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کی منظوری سے مشروط ہے، جس میں اسرائیل کی Qualitative Military Edge (QME) ایک بنیادی عنصر ہے۔

ماضی میں یہی عنصر عرب ممالک کو F-35 کی فروخت میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا، تاہم:

  • بدلتی علاقائی سیاست
  • سعودی۔اسرائیلی تعلقات میں نرمی
  • اور امریکہ کی نئی مشرقِ وسطیٰ حکمتِ عملی

نے اس امکان کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر منظوری دی گئی تو:

  • مرحلہ وار ترسیل
  • محدود کنفیگریشن
  • اور اسرائیل کے لیے اضافی دفاعی پیکجز
    شامل ہو سکتے ہیں۔

خلیج میں فضائی طاقت پر ممکنہ اثرات

اگر سعودی عرب F-35 حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیج میں:

  • اسٹیلتھ آپریشنز
  • ڈیپ اسٹرائیک مشنز
  • جدید فضائی دفاع کی بیخ کنی
  • اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر
یہ بھی پڑھیں  آذربائیجان نے JF-17 بلاک III فائٹرز کا آرڈر بڑھا کر 40 کردیا،4.2 بلین ڈالر کی ڈیل پاکستان کی سب سے بڑی سنگل ایکسپورٹ

کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

یہ پیش رفت سعودی عرب کو نہ صرف دفاعی بلکہ اسٹریٹجک deterrence کے اعتبار سے بھی مضبوط بنائے گی۔

باضابطہ اعلان نہیں، مگر اشارے واضح

اگرچہ تاحال نہ ریاض اور نہ ہی واشنگٹن نے کسی معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی ہے، تاہم:

  • F-35 ماک اپ کی نمائش
  • سعودی پرچم کے ساتھ مظاہری پروازیں
  • 48 طیاروں کی مسلسل رپورٹس
  • اور ورلڈ ڈیفنس شو کا انتخاب

یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب دانستہ طور پر F-35 کے حصول کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین