ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ابھرتا ہوا دفاعی اتحاد محض اسلحہ خرید و فروخت سے آگے بڑھ کر مشترکہ صنعتی اور تزویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ بیانات اور صنعتی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ترکی کے پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ KAAN کے گرد ایک گہری اور طویل المدتی شراکت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ترکی کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے مصر اور سعودی عرب کے سرکاری دوروں کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ انقرہ اور ریاض کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون اب “ناقابلِ واپسی” مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ اہم دفاعی معاہدے زیرِ تکمیل ہیں، جبکہ KAAN پروگرام میں مشترکہ سرمایہ کاری کسی بھی وقت عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
BREAKING 🚨 — Turkey and Saudi Arabia can jointly invest in Turkish fifth generation fighter jet project KAAN at any moment, Erdogan says pic.twitter.com/IJ3HplohjW
— Ragıp Soylu (@ragipsoylu) February 5, 2026
یہ بیانات اس وقت مزید وزن اختیار کر گئے جب Turkish Aerospace Industries کے جنرل منیجر Mehmet Demiroğlu نے تصدیق کی کہ مذاکرات “حتمی اور بلند ترین سطح” تک پہنچ چکے ہیں، جو دفاعی سفارت کاری میں عموماً اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ تکنیکی، مالی اور سیاسی رکاوٹیں بڑی حد تک دور ہو چکی ہیں ۔
KAAN: محض متبادل نہیں، تزویراتی اثاثہ
KAAN، جسے پہلے TF-X کے نام سے جانا جاتا تھا، ترکی کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی منصوبہ ہے۔ اسے نہ صرف ترک فضائیہ کے پرانے F-16 بیڑے کے متبادل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے بلکہ اسے برآمدات، صنعتی خودمختاری اور طویل المدتی فضائی برتری کے ایک مرکزی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دو انجنوں پر مشتمل یہ اسٹیلتھ فائٹر کم نمایاں ریڈار پروفائل، اندرونی ہتھیار خانوں، جدید سینسر فیوژن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی کے نظام سے لیس ہے۔ ابتدائی طور پر GE F110 انجن استعمال کرتے ہوئے، KAAN کو مستقبل میں مقامی انجن پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ سیریل پیداوار کا ہدف 2028 رکھا گیا ہے، جبکہ اضافی پروٹوٹائپس جلد آزمائشی پروازوں میں شامل کیے جا رہے ہیں ۔
سعودی عرب کے لیے اسٹریٹجک کشش
ریاض کے لیے KAAN میں دلچسپی محض ایک نئے طیارے کے حصول تک محدود نہیں۔ سعودی عرب طویل عرصے سے مغربی دفاعی سپلائرز پر انحصار کم کرنے، سیاسی شرائط اور آپریشنل پابندیوں سے نکلنے، اور Vision 2030 کے تحت مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
KAAN میں ممکنہ شراکت داری سعودی عرب کو:
- جدید فائٹر ٹیکنالوجی تک رسائی
- مقامی اسمبلنگ یا مینوفیکچرنگ لائنوں کا قیام
- افرادی قوت اور ایرو اسپیس مہارت کی ترقی
- طویل المدتی سسٹینمنٹ خودمختاری
جیسے فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ آرڈر 20 سے 100 سے زائد طیاروں تک ہو سکتا ہے، جس کی بڑی تعداد مقامی پیداوار کو معاشی طور پر قابلِ جواز بنائے گی ۔
انقرہ کے لیے مالی اور سیاسی تقویت
ترکی کے لیے سعودی سرمایہ کاری KAAN پروگرام کے بھاری اخراجات بانٹنے، ترقیاتی ٹائم لائن تیز کرنے اور عالمی منڈی میں طیارے کی ساکھ مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ 48 KAAN طیاروں کا تقریباً 10 ارب ڈالر کا معاہدہ پہلے ہی اس ماڈل کی کامیابی کی مثال بن چکا ہے، جو اب سعودی عرب کے لیے ایک واضح نظیر فراہم کرتا ہے ۔
علاقائی اور عالمی اثرات
اگر یہ شراکت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ:
- مشرقِ وسطیٰ میں فضائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے
- ایران اور اس کے اتحادی نیٹ ورک کے مقابلے میں نئی ڈیٹرنس صلاحیت پیدا کر سکتی ہے
- امریکہ، چین اور روس کے لیے ایک واضح پیغام ہو گی کہ دفاعی منڈی اب مزید کثیر قطبی ہو رہی ہے
KAAN-سعودی شراکت داری، وسیع تناظر میں، اُن درمیانے درجے کی طاقتوں کے ابھرتے ہوئے رجحان کی عکاس ہے جو روایتی اتحادوں سے ہٹ کر مشترکہ ترقی اور پیداوار کے ذریعے اپنی فضائی خودمختاری تشکیل دے رہی ہیں۔




