بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ترکی اور سعودی عرب KAAN فائٹر جیٹ پر مشترکہ سرمایہ کاری کے قریب، دفاعی اتحاد میں نیا موڑ

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ابھرتا ہوا دفاعی اتحاد محض اسلحہ خرید و فروخت سے آگے بڑھ کر مشترکہ صنعتی اور تزویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ بیانات اور صنعتی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ترکی کے پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ KAAN کے گرد ایک گہری اور طویل المدتی شراکت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ترکی کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے مصر اور سعودی عرب کے سرکاری دوروں کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ انقرہ اور ریاض کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون اب “ناقابلِ واپسی” مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ اہم دفاعی معاہدے زیرِ تکمیل ہیں، جبکہ KAAN پروگرام میں مشترکہ سرمایہ کاری کسی بھی وقت عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

یہ بیانات اس وقت مزید وزن اختیار کر گئے جب Turkish Aerospace Industries کے جنرل منیجر Mehmet Demiroğlu نے تصدیق کی کہ مذاکرات “حتمی اور بلند ترین سطح” تک پہنچ چکے ہیں، جو دفاعی سفارت کاری میں عموماً اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ تکنیکی، مالی اور سیاسی رکاوٹیں بڑی حد تک دور ہو چکی ہیں ۔

KAAN: محض متبادل نہیں، تزویراتی اثاثہ

KAAN، جسے پہلے TF-X کے نام سے جانا جاتا تھا، ترکی کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی منصوبہ ہے۔ اسے نہ صرف ترک فضائیہ کے پرانے F-16 بیڑے کے متبادل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے بلکہ اسے برآمدات، صنعتی خودمختاری اور طویل المدتی فضائی برتری کے ایک مرکزی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  APG-85 میں تاخیر، نئے F-35 فائٹر جیٹس ریڈار کے بغیر سروس میں داخل

دو انجنوں پر مشتمل یہ اسٹیلتھ فائٹر کم نمایاں ریڈار پروفائل، اندرونی ہتھیار خانوں، جدید سینسر فیوژن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی کے نظام سے لیس ہے۔ ابتدائی طور پر GE F110 انجن استعمال کرتے ہوئے، KAAN کو مستقبل میں مقامی انجن پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ سیریل پیداوار کا ہدف 2028 رکھا گیا ہے، جبکہ اضافی پروٹوٹائپس جلد آزمائشی پروازوں میں شامل کیے جا رہے ہیں ۔

سعودی عرب کے لیے اسٹریٹجک کشش

ریاض کے لیے KAAN میں دلچسپی محض ایک نئے طیارے کے حصول تک محدود نہیں۔ سعودی عرب طویل عرصے سے مغربی دفاعی سپلائرز پر انحصار کم کرنے، سیاسی شرائط اور آپریشنل پابندیوں سے نکلنے، اور Vision 2030 کے تحت مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

KAAN میں ممکنہ شراکت داری سعودی عرب کو:

  • جدید فائٹر ٹیکنالوجی تک رسائی
  • مقامی اسمبلنگ یا مینوفیکچرنگ لائنوں کا قیام
  • افرادی قوت اور ایرو اسپیس مہارت کی ترقی
  • طویل المدتی سسٹینمنٹ خودمختاری

جیسے فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ آرڈر 20 سے 100 سے زائد طیاروں تک ہو سکتا ہے، جس کی بڑی تعداد مقامی پیداوار کو معاشی طور پر قابلِ جواز بنائے گی ۔

انقرہ کے لیے مالی اور سیاسی تقویت

ترکی کے لیے سعودی سرمایہ کاری KAAN پروگرام کے بھاری اخراجات بانٹنے، ترقیاتی ٹائم لائن تیز کرنے اور عالمی منڈی میں طیارے کی ساکھ مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ 48 KAAN طیاروں کا تقریباً 10 ارب ڈالر کا معاہدہ پہلے ہی اس ماڈل کی کامیابی کی مثال بن چکا ہے، جو اب سعودی عرب کے لیے ایک واضح نظیر فراہم کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  کیا برطانیہ شام کے باغی گروپ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دے گا؟

علاقائی اور عالمی اثرات

اگر یہ شراکت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ:

  • مشرقِ وسطیٰ میں فضائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے
  • ایران اور اس کے اتحادی نیٹ ورک کے مقابلے میں نئی ڈیٹرنس صلاحیت پیدا کر سکتی ہے
  • امریکہ، چین اور روس کے لیے ایک واضح پیغام ہو گی کہ دفاعی منڈی اب مزید کثیر قطبی ہو رہی ہے

KAAN-سعودی شراکت داری، وسیع تناظر میں، اُن درمیانے درجے کی طاقتوں کے ابھرتے ہوئے رجحان کی عکاس ہے جو روایتی اتحادوں سے ہٹ کر مشترکہ ترقی اور پیداوار کے ذریعے اپنی فضائی خودمختاری تشکیل دے رہی ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین