چین کے فوجی اتاشی کی جانب سے تہران میں Chengdu J-20 اسٹیلتھ فائٹر کا اسکیل ماڈل Hamid Vahedi (کمانڈر، اسلامی جمہوریہ ایران ایئر فورس) کو پیش کیا جانا بظاہر ایک رسمی اقدام تھا، تاہم اس کی ٹائمنگ اور تشہیر نے اسے چین–ایران دفاعی تعلقات کے تناظر میں نمایاں بنا دیا ہے۔
یہ واقعہ ایرانی ریاستی میڈیا میں تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے سامنے آیا، جس کے بعد اسے علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فی الحال کسی طیارے کی فراہمی یا خریداری کے باضابطہ مذاکرات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

علامت، نہ کہ باضابطہ وعدہ
چینی حکام نے کسی عملی منتقلی کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم دفاعی ترقی کے “دوستانہ ممالک” کے ساتھ اشتراک سے متعلق چینی بیانات کو تہران میں اسٹریٹجک ابہام کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اشارے فوری فراہمی کے مترادف نہیں ہوتے، بلکہ سفارتی اور نفسیاتی پیغام رسانی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ایران کی فضائی صلاحیتوں کا پس منظر
J-20 ماڈل پر توجہ ایران کی فضائیہ کے دیرینہ جدیدکاری چیلنجز کی عکاس ہے۔ ایرانی فضائی بیڑا اب بھی بڑی حد تک پرانے F-14 ٹام کیٹس اور MiG-29 پر مشتمل ہے، جن کی بقا جدید اسٹیلتھ، سینسر فیوژن اور طویل فاصلے کے BVR ہتھیاروں کے مقابلے میں محدود ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ علاقائی کارروائیوں نے ان کمزوریوں کو مزید نمایاں کیا ہے۔
J-20 کی حیثیت
People’s Liberation Army Air Force میں 2017 سے آپریشنل J-20 چین کا پہلا پانچویں نسل کا اسٹیلتھ فائٹر ہے، جس میں کم نمایاں ڈیزائن، جدید AESA ریڈار، محفوظ ڈیٹا لنکس اور طویل فاصلے کے PL-15 میزائل شامل ہیں۔ چین تاریخی طور پر اس پلیٹ فارم کو گھریلو استعمال تک محدود رکھنے پر زور دیتا آیا ہے۔
اسٹریٹجک فریم ورک
یہ اقدام 2021 کے چین–ایران جامع اسٹریٹجک شراکت کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت دفاعی تعاون اور ٹیکنالوجی تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اگرچہ تیل کے بدلے اسلحہ جیسے انتظامات پر عمومی قیاس آرائیاں موجود ہیں، تاہم اس واقعے سے متعلق کسی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
مجموعی تاثر
فی الحال یہ پیشکش علامتی اشارہ دکھائی دیتی ہے، جس نے چین–ایران ہم آہنگی کے تاثر کو مضبوط کیا ہے، مگر کسی فوری طیارہ منتقلی کی تصدیق نہیں کرتی۔ اس طرح کے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ سفارتی علامتیں بھی کثیر قطبی عالمی ماحول میں معنی خیز اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔




