اگرچہ جدید فضائی جنگ میں اسٹیلتھ، سینسر فیوژن اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، تاہم فائٹر طیاروں کی مجموعی تعداد اور ان کی ساخت اب بھی کسی ریاست کی عسکری طاقت، ڈیٹرنس اور طویل المدتی جنگی صلاحیت کا بنیادی اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔
2026 میں دنیا کے سب سے بڑے جدید فائٹر جیٹ بیڑوں کا جائزہ نہ صرف عسکری طاقت کو واضح کرتا ہے بلکہ علاقائی سلامتی کے رجحانات اور اسٹریٹجک ترجیحات کو بھی بے نقاب کرتا ہے ۔
امریکہ: تعداد اور ٹیکنالوجی کا امتزاج

United States بدستور عالمی فضائی طاقت میں سب سے آگے ہے۔ امریکی فضائیہ، بحریہ اور میرین کور مل کر 2,700 سے زائد جدید لڑاکا طیارے آپریٹ کر رہے ہیں۔
F-35 لائٹننگ II اس بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جسے F-22 ریپٹر، جدید F-15EX، اپ گریڈڈ F-16 اور F/A-18 سپر ہارنیٹ سہارا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ Next Generation Air Dominance (NGAD) پروگرام مستقبل میں بھی فضائی برتری کو یقینی بنانے کی کوشش ہے ۔
روس: بڑا بیڑا، مگر محدود تیاری

Russia کے پاس اندازاً 1,200 تا 1,400 جدید فائٹر طیارے موجود ہیں، جن کی بنیاد Su-27 فیملی پر ہے۔
تاہم آپریشنل دستیابی غیر یکساں ہے۔ Su-57 اسٹیلتھ فائٹر محدود تعداد میں سروس میں ہے، جبکہ پابندیاں، بجٹ مسائل اور مسلسل عسکری مصروفیات جدید کاری کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں ۔
چین: تیز رفتار توسیع اور مقامی پیداوار

China نے گزشتہ دہائی میں فضائی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2026 تک چین کے پاس 1,200 سے زائد جدید فائٹر طیارے موجود ہیں۔
J-20 اسٹیلتھ فائٹرز کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جو چین کو پانچویں نسل کے طیاروں کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر لے آتی ہے۔ یہ پیش رفت براہِ راست انڈو پیسفک میں چین کی اسٹریٹجک حکمت عملی سے جڑی ہے ۔
بھارت: تنوع پر مبنی صلاحیت

India کا جدید فائٹر بیڑا 600 تا 650 طیاروں پر مشتمل ہے، جس میں Su-30MKI، رافیل اور مقامی تیجس شامل ہیں۔
یہ تنوع آپریشنل لچک فراہم کرتا ہے، مگر لاجسٹکس اور مینٹیننس کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ AMCA پروگرام مستقبل میں خود انحصاری کی علامت ہے ۔
درمیانی طاقتیں: معیار بمقابلہ مقدار
Japan، South Korea، Pakistan، Israel، Egypt اور Saudi Arabia جیسے ممالک نسبتاً چھوٹے مگر جدید اور ہدفی نوعیت کے فائٹر بیڑے رکھتے ہیں۔
یہ ممالک تعداد کے بجائے ٹیکنالوجی، تربیت اور مخصوص مشن صلاحیت پر انحصار کرتے ہیں ۔
رینکنگ چارٹ: 2026 میں دنیا کے سب سے بڑے جدید فائٹر جیٹ بیڑے
| رینک | ملک | اندازاً جدید فائٹر طیارے (2026) | نمایاں پلیٹ فارمز | اسٹریٹجک کردار |
|---|---|---|---|---|
| 1 | United States | 2,700+ | F-35، F-22، F-15EX، F-16 | عالمی فضائی برتری |
| 2 | Russia | 1,200–1,400 | Su-30SM، Su-35S، Su-34 | بڑا مگر دباؤ میں بیڑا |
| 3 | China | 1,200+ | J-20، J-16، J-10 | تیز رفتار توسیع |
| 4 | India | 600–650 | Su-30MKI، رافیل، تیجس | عبوری مرحلہ |
| 5 | South Korea | 400–450 | F-35A، F-15K، KF-21 | ٹیکنالوجی پر مبنی |
| 6 | Pakistan | 350–400 | JF-17، F-16 | اسٹریٹجک توازن |
| 7 | Japan | 300–350 | F-15J، F-35 | دفاعی فضائی طاقت |
| 8 | Egypt | 300+ | رافیل، MiG-29M | متنوع ذرائع |
| 9 | Israel | 250–300 | F-35I، F-15I | اعلیٰ معیار |
| 10 | Saudi Arabia | 250–280 | F-15SA، ٹائفون | علاقائی ڈیٹرنس |
نتیجہ
2026 کے فائٹر جیٹ بیڑے واضح کرتے ہیں کہ جدید فضائی طاقت کا دارومدار صرف تعداد پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تیاری، اور صنعتی صلاحیت پر ہے۔ اس کے باوجود، بڑے بیڑے طویل المدتی تنازعات میں اسٹریٹجک گہرائی اور استقامت فراہم کرتے ہیں۔
یہ توازن ہی آنے والے برسوں میں عالمی فضائی طاقت کی سمت کا تعین کرے گا ۔




