جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

پی این ایس خیبر کی مشرقی بحیرۂ روم میں تعیناتی: پاکستان–ترکی بحری تعاون اور عملی ہم آہنگی کی علامت

پاکستان نیوی کا نیا کمیشن شدہ جنگی جہاز PNS KHAIBAR، ترکی سے پاکستان کی جانب اپنے پہلے طویل بحری سفر کے دوران Aksaz Naval Base پہنچا، جہاں اس نے Exercise TURGUTREIS-XIII اور مشترکہ گشت میں حصہ لیا۔

بظاہر یہ ایک معمول کی بندرگاہی آمد اور بحری مشق دکھائی دیتی ہے، تاہم اس تعیناتی کی اہمیت اس کے عملی اور اسٹریٹجک تناظر میں مضمر ہے۔ یہ مشرقی بحیرۂ روم میں Pakistan Navy اور Turkish Navy کے درمیان بڑھتی ہوئی عملی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے۔

اکساز میں بحری سفارت کاری

اکساز میں قیام کے دوران پی این ایس خیبر کے کمانڈنگ آفیسر نے ترکی کے سدرن سی ایریا کمانڈر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ بحری تعاون کے فروغ اور علاقائی استحکام میں مشترکہ کردار پر گفتگو کی گئی۔

بعد ازاں، سدرن سی ایریا کمانڈر اور کمانڈر اکساز نیول بیس سمیت ترک بحری افسران نے پی این ایس خیبر کا دورہ کیا۔ اس نوعیت کے باہمی دورے پیشہ ورانہ بحری سفارت کاری کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد اعتماد سازی، کمانڈ سطح پر رابطہ اور طریقۂ کار کی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔

Exercise TURGUTREIS-XIII: عملی ہم آہنگی کی مشق

بندرگاہی دورے کے بعد پی این ایس خیبر نے ترک بحریہ کے کارویٹ TCG HEYBELIADA اور ترک نیوی کے SH-70 ہیلی کاپٹر کے ساتھ Exercise TURGUTREIS-XIII میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ فلسطینیوں کا وطن ہے، ٹرمپ کا ریزورٹ نہیں

مشق میں مختلف sea evolutions شامل تھیں، جن کا مقصد مشترکہ بحری آپریشنز، مواصلاتی رابطہ کاری، اور جہاز–ہیلی کاپٹر ہم آہنگی کو بہتر بنانا تھا۔ خاص طور پر کسی نئے کمیشن شدہ جہاز کے لیے، ایسی مشقیں عملے کی پیشہ ورانہ تیاری اور نظاموں کی جانچ کا اہم مرحلہ سمجھی جاتی ہیں۔

مشرقی بحیرۂ روم میں مشترکہ گشت

مشق کے اختتام پر پی این ایس خیبر اور ٹی سی جی ہیبلی آدا نے مشرقی بحیرۂ روم میں Coordinated Patrol (CORPAT) انجام دیا۔ اگرچہ یہ گشت محدود نوعیت کا تھا، تاہم اس کی علامتی اور عملی اہمیت موجود ہے، کیونکہ یہ مشترکہ بحری موجودگی، سمندری صورتحال کی آگاہی، اور آپریشنل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

پاکستان نیوی کے لیے، اپنے روایتی خطے سے باہر اس نوعیت کی سرگرمی میں شرکت ایک زیادہ فعال اور بین الاقوامی بحری کردار کی جانب تدریجی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔

وسیع تر اسٹریٹجک تناظر

پاکستان اور ترکی کے درمیان بحری تعاون گزشتہ ایک دہائی میں مسلسل گہرا ہوا ہے، جس میں دفاعی پیداوار، تربیت، اور باقاعدہ مشقیں شامل ہیں۔ پی این ایس خیبر کی پہلی تعیناتی اس تعاون کو علامتی سطح سے عملی معمول میں بدلنے کی ایک مثال ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اصل اہمیت ان کے تسلسل میں ہے، کیونکہ یہی تسلسل مستقبل میں مشترکہ یا کثیر القومی بحری ماحول میں مؤثر تعاون کی بنیاد بنتا ہے۔

نتیجہ

پی این ایس خیبر کی Exercise TURGUTREIS-XIII اور مشرقی بحیرۂ روم میں مشترکہ گشت میں شرکت پاکستان–ترکی بحری تعلقات کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ سرگرمیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان نیوی نہ صرف اپنے نئے پلیٹ فارمز کو فعال طور پر متعارف کرا رہی ہے بلکہ قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور عملی ہم آہنگی کو بھی وسعت دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان نیوی نے 14ویں بار سی ٹی ایف–150 کی کمان سنبھال لی، علاقائی بحری سلامتی میں قائدانہ کردار کا اعادہ

تکنیکی پروفائل: PNS KHAIBAR

زمرہتفصیل
قسم / کلاسگائیڈڈ میزائل فریگیٹ
سروسپاکستان نیوی
تعمیر کارASFAT / ترک شپ بلڈنگ انڈسٹری
تعمیر کی جگہترکی
کمیشننگ2024–2025
فل لوڈ ڈسپلیسمنٹتقریباً 3,000–3,200 ٹن
لمبائیتقریباً 113 میٹر
پروپلژنCODAG (ڈیزل اور گیس ٹربائن)
زیادہ سے زیادہ رفتارتقریباً 29 ناٹس
رینجتقریباً 5,700 ناٹیکل میل
عملہتقریباً 120–130
بنیادی کردارکثیر المقاصد سطحی جنگی جہاز (ASuW / AAW / ASW)
اینٹی شپ صلاحیتاینٹی شپ میزائل
فضائی دفاعسطح سے فضا میزائل سسٹم
اینٹی سب میرینسونار اور ٹارپیڈوز
ہیلی کاپٹر سہولتایک نیول ہیلی کاپٹر کے لیے فلائٹ ڈیک و ہینگر
کمانڈ و سینسرزجدید CMS، تھری ڈی ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر
انٹرآپریبلٹینیٹو معیار کے ڈیٹا لنکس اور کمیونیکیشن

نوٹ: تکنیکی تفصیلات اوپن سورس معلومات پر مبنی ہیں اور سروس کے ابتدائی مرحلے میں اپ گریڈ کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین