جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکہ بنگلہ دیش کو چینی دفاعی نظاموں کے متبادل پیش کرنے کی تیاری میں

بین الاقوامی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق United States بنگلہ دیش کو چینی ساختہ دفاعی نظاموں کے متبادل کے طور پر امریکی اور اتحادی ممالک کے دفاعی نظام پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت کسی واضح دفاعی معاہدے کے اعلان کی صورت میں سامنے نہیں آئی، بلکہ اسے ایک محتاط اسٹریٹجک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد فوری وابستگی کے بجائے امکانات کا دروازہ کھلا رکھنا ہے۔

سیاسی عبوری دور اور وقت کا انتخاب

یہ سفارتی پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش سیاسی عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد عام انتخابات متوقع ہیں، جن سے نئی سیاسی قیادت ابھرنے کا امکان ہے۔

امریکی مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کسی مخصوص سیاسی جماعت کے بجائے آنے والی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے، مگر ساتھ ہی وہ ابتدائی پالیسی سمت پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے—خصوصاً دفاعی خریداری اور معاشی کھلے پن کے حوالے سے ۔

چین کا بڑھتا ہوا دفاعی اثر

Reuters کی رپورٹ میں چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی کردار کو اس امریکی پیشکش کا پس منظر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری سے متعلق چین۔بنگلہ دیش دفاعی معاہدہ اور پاکستان کے ساتھ جے ایف-17 لڑاکا طیاروں پر مذاکرات شامل ہیں—یہ طیارہ چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے ۔

واشنگٹن کے لیے اصل تشویش یہ ہے کہ ایسے سودے بنگلہ دیش کو طویل مدت کے لیے چینی دفاعی ماحولیاتی نظام سے جوڑ دیتے ہیں، جس کے اثرات تربیت، لاجسٹکس اور عسکری حکمتِ عملی تک پھیلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ میں فوج بھیجنے کا سوال: واشنگٹن کے دباؤ میں پاکستان مشکل فیصلے کے دہانے پر

دفاع اور معیشت کا باہمی تعلق

امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے دفاعی تعاون کو “کمرشل ڈپلومیسی” سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی کمپنیاں بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کے لیے پالیسی اشاروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو یہ ثابت کریں کہ آئندہ حکومت کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی ۔

یہ نقطہ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ دفاعی تعاون کو محض عسکری معاملہ نہیں بلکہ معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے اعتماد کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ سمجھتا ہے۔

انسانی بحران بطور سلامتی عنصر

رپورٹ میں انسانی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ امریکہ روہنگیا مہاجرین کی امداد میں سب سے بڑا ڈونر ہے، تاہم مسلسل فنڈنگ کی کمی کے باعث خوراک میں کٹوتیاں اور تعلیمی سہولیات کی بندش جیسے مسائل سامنے آئے ہیں ۔

امریکی نقطۂ نظر میں کاکس بازار میں عدم استحکام محض انسانی مسئلہ نہیں بلکہ داخلی سلامتی اور گورننس پر دباؤ ڈالنے والا ایک مستقل عامل ہے۔

کیا طے نہیں پایا

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ Reuters نے کسی مخصوص جنگی طیارے، میزائل سسٹم یا فضائی دفاعی نظام کا نام نہیں لیا۔ لہٰذا کسی بھی خاص پلیٹ فارم پر بحث محض تجزیاتی قیاس آرائی ہے، تصدیق شدہ حقیقت نہیں۔

یہ خاموشی بذاتِ خود معنی خیز ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی ایک ہتھیار کے بجائے دفاعی ہم آہنگی اور انٹرآپریبلٹی پر مبنی طویل المدتی راستہ پیش کرنا چاہتا ہے۔

عملی اور مالی حدود

مغربی دفاعی نظاموں کی طرف جھکاؤ کے ساتھ واضح چیلنجز جڑے ہیں—زیادہ لاگت، سخت برآمدی قواعد، تربیت کے پیچیدہ تقاضے اور طویل مدتی دیکھ بھال۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ گرین لینڈ کیوں چاہتے ہیں؟ آرکٹک میں بڑھتی ہوئی فوجی کشمکش کی کہانی

بنگلہ دیش کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا نظام زیادہ جدید ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا ریاست کے پاس اسے دہائیوں تک مؤثر طور پر چلانے کی مالی اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔

نیت کا امتحان، فوری تبدیلی نہیں

Reuters کی رپورٹ کسی فوری اسٹریٹجک پلٹاؤ کی نشاندہی نہیں کرتی، بلکہ اسے دونوں جانب سے نیت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکہ اشارہ دے رہا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اپنی دفاعی اور معاشی سمت میں تنوع لانے کا عندیہ دے تو گہرا تعاون ممکن ہے۔

یہ معاملہ کسی ڈرامائی تبدیلی سے زیادہ ایک خاموش ازسرِنو ترتیب کا ہے—جس کی اصل سمت سیاسی عبوری مرحلے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین