جمعرات, 19 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بھارت–اسرائیل دفاعی معاہدہ: بھارتی فضائیہ کی طویل فاصلے سے حملہ آور صلاحیت میں اضافہ

بھارت اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 8.6 سے 8.7 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا مرکز بھارتی فضائیہ (IAF) کے لیے جدید پریسیژن گائیڈیڈ ہتھیار اور طویل فاصلے سے حملہ کرنے والے نظام ہیں۔

اگرچہ نئی دہلی اور یروشلم کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم فروری 2026 کے وسط میں شائع ہونے والی متعدد دفاعی اور بزنس رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ اعلیٰ سطحی منظوری کے مراحل مکمل کر چکا ہے یا حتمی مرحلے کے قریب ہے۔

اگر رپورٹ شدہ شکل میں یہ پیکیج طے پا جاتا ہے تو اسرائیل، فرانس کے بعد، بھارت کا دوسرا بڑا دفاعی سپلائر بن جائے گا—جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے عسکری تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

Image

معاہدے کا محور: اسٹینڈ آف اور پریسیژن اسٹرائیک

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیکیج کا بنیادی مقصد بھارتی فضائیہ کی ایسی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے جن کے ذریعے وہ دفاعی نظام سے محفوظ فاصلے سے اہداف کو نشانہ بنا سکے۔ فوربس انڈیا کے حوالے سے شائع ہونے والی معلومات کے مطابق مجوزہ نظاموں میں شامل ہیں:

  • SPICE-1000 پریسیژن گائیڈنس بم از Rafael Advanced Defense Systems، جو عام بموں کو الیکٹرو آپٹیکل اور GPS گائیڈڈ “سمارٹ” ہتھیاروں میں تبدیل کرتے ہیں اور الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔
  • Rampage ایئر ٹو سرفیس میزائل از Elbit Systems، جو سپر سونک رفتار اور تقریباً 250 کلومیٹر رینج کے ساتھ فوری اور درست حملوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
  • Air LORA (لانگ رینج آرٹلری) ایئر لانچڈ میزائل از Israel Aerospace Industries، جن کی رپورٹ شدہ رینج 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، اور جو اعلیٰ قدر کے اہداف کے خلاف اسٹینڈ آف صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
  • Ice Breaker کروز میزائل از Rafael، جو تقریباً 300 کلومیٹر رینج کے ساتھ ہر موسم میں کم ریڈار سگنیچر کے تحت حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں  ملک میں ججوں کی حکومت نہیں، فوجی عدالتیں کام کرتی رہیں گی، یوگنڈا کے صدر کا اعلان

موجودہ بھارتی جنگی طیاروں کے ساتھ مطابقت

رپورٹ شدہ معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہتھیار بھارتی فضائیہ کے موجودہ فرنٹ لائن طیاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جن میں Sukhoi Su-30MKI، MiG-29 اور Rafale شامل ہیں۔

اس سے بھارت کو نئے پلیٹ فارمز خریدے بغیر اپنی موجودہ فضائی طاقت سے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

Image

اسٹریٹجک اور دفاعی خریداری کا پس منظر

یہ ممکنہ معاہدہ بھارت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے جس میں پریسیژن، نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اور اسٹینڈ آف ہتھیاروں پر زور دیا جا رہا ہے۔ حالیہ تنازعات سے حاصل ہونے والے اسباق نے یہ واضح کیا ہے کہ الیکٹرانک وارفیئر کے خلاف مزاحمت اور طویل فاصلے سے حملہ آور صلاحیت جدید فضائی جنگ میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔

یہ پیش رفت بھارت کی جانب سے روسی دفاعی نظاموں پر انحصار کم کرنے اور متبادل شراکت داروں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں کی بھی عکاس ہے۔

میک اِن انڈیا اور ٹیکنالوجی منتقلی

کچھ رپورٹس میں “میک اِن انڈیا” پالیسی کے تحت ٹیکنالوجی منتقلی اور مقامی پیداوار کے امکانات کا بھی ذکر ہے۔ اگرچہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم شریک پیداوار یا مقامی اسمبلنگ سے بھارت کی دفاعی صنعتی صلاحیت کو تقویت مل سکتی ہے۔

غیر مصدقہ پہلو اور احتیاط

اہم بات یہ ہے کہ اب تک اس معاہدے پر کسی فریق کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ مختلف رپورٹس میں اسے “منظور شدہ”، “طے شدہ” یا “حتمی مرحلے میں” قرار دیا گیا ہے، جب کہ مالیت میں معمولی فرق ممکنہ طور پر کرنسی تبدیلی یا راؤنڈنگ کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اسحاق ڈار کے ڈھاکہ کے تاریخی دورے کے ذریعے پاکستان کی سارک بحالی کی کوشش، نئی علاقائی پیشرفت کا اشارہ

فروری 2026 کے وسط تک، یہ معاملہ میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے اور حتمی معاہدے سے قبل اس میں رد و بدل ممکن ہے۔

خاموش مگر دور رس اثرات

اگر یہ معاہدہ رپورٹ شدہ شکل میں طے پا جاتا ہے تو یہ بھارتی فضائیہ کی حملہ آور صلاحیت میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے—جہاں توجہ نئے طیاروں کے بجائے رسائی، درستگی اور بقا پر مرکوز ہوگی۔

اسٹریٹجک اعتبار سے یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت اپنے فضائی جنگی تصور کو اسٹینڈ آف اثرات اور قابلِ اعتماد شراکت داریوں کے ذریعے ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین