اتوار, 22 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

RQ-180 ‘وائٹ بیٹ’: ایران پر نظر رکھنے کے لیے امریکہ کا سب سے خفیہ اسٹیلتھ ڈرون

امریکہ آئندہ کسی ممکنہ صورتحال میں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اپنے انتہائی خفیہ اسٹیلتھ ڈرون RQ-180 White Bat کو تعینات کر سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس ڈرون کا بنیادی کردار براہِ راست حملے کے بجائے گہری نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور زمینی حقائق کی تصدیق ہو سکتا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم موجودہ علاقائی تناؤ اور امریکی عسکری منصوبہ بندی کو دیکھتے ہوئے RQ-180 کا کردار فطری طور پر سامنے آتا ہے—خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں روایتی نگرانی کے ذرائع نمایاں ہو سکتے ہیں۔

خاموش رسائی کے لیے تیار کردہ پلیٹ فارم

RQ-180 کو دنیا کے جدید ترین اور کم نظر آنے والے بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرون محدود تعداد میں تیار کیا گیا ہے اور طویل دورانیے تک بلند فضاؤں میں پرواز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا فلائنگ وِنگ ڈیزائن امریکی اسٹیلتھ بمبار B-2 Spirit سے مشابہ سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ریڈار، حرارتی اور الیکٹرانک نگرانی سے بچاؤ ہے۔

دفاعی حلقوں کے مطابق RQ-180 ایک مکمل طور پر انٹیلی جنس پلیٹ فارم ہے۔ اس میں جدید سینسرز، سینتھیٹک اپرچر ریڈار (SAR)، اور الیکٹرانک انٹیلی جنس نظام شامل ہونے کا امکان ہے، جو وسیع علاقوں پر مسلسل نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

ایران اس مشن کے لیے کیوں اہم ہے

ایران کا فضائی دفاعی نظام، جس میں مقامی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی شامل ہے، نگرانی کے لیے ایک پیچیدہ ماحول پیدا کرتا ہے۔ ایسے حالات میں سیٹلائٹس یا روایتی نگرانی کے طیارے یا تو محدود معلومات فراہم کرتے ہیں یا آسانی سے شناخت ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  میدان وردک میں ڈرون گرنے کا واقعہ: اسرائیلی ساختہ ہیرون سے مشابہت، ملکیت غیر واضح

RQ-180 جیسے اسٹیلتھ ڈرون کی مدد سے امریکہ حساس تنصیبات، میزائل نقل و حرکت، یا فضائی دفاعی تیاریوں پر خاموشی سے نظر رکھ سکتا ہے—بغیر کسی فوری عسکری پیغام یا اشتعال کے۔

بغیر شور کے اسٹریٹجک سگنل

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی تعیناتی عموماً فوری حملے کا پیش خیمہ نہیں ہوتی بلکہ فیصلہ سازی کے مرحلے میں معلومات کے خلا کو کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اسٹیلتھ انٹیلی جنس پلیٹ فارمز کا استعمال امریکہ کو سفارتی اور عسکری سطح پر لچک فراہم کرتا ہے، جبکہ کشیدگی کو غیر ضروری طور پر بڑھنے سے روکتا ہے۔

اگر RQ-180 واقعی ایران کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہو گا کہ کسی بھی ممکنہ بحران کا ابتدائی مرحلہ خاموش، غیر مرئی اور ڈیٹا پر مبنی ہو گا—جہاں فیصلے عوامی بیانات سے پہلے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین