ہفتہ, 28 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چین کی سب سے بڑی ریڈ سورڈ مشق: 200 سے زائد جنگی طیاروں کی تاریخی تعیناتی

کمرشل سیٹلائٹ تصاویر نے چین کی People’s Liberation Army Air Force (PLAAF) کی تاریخ کی سب سے بڑی “ریڈ سورڈ” مشق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مشق 2025 کے اواخر میں مغربی چین کے دور دراز علاقوں میں منعقد ہوئی، جس میں 200 سے زائد جنگی اور معاون طیاروں نے آٹھ فضائی اڈوں سے 1,200 ناٹیکل میل کے وسیع رقبے پر کارروائیاں کیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مشق کا حجم اور جغرافیائی پھیلاؤ حالیہ امریکی فضائی مشقوں سے بھی بڑا تھا۔

سیٹلائٹ تصاویر میں بڑے پیمانے پر تعیناتی

Image

فروری 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ:

  • سرگرمیاں اکتوبر 2025 میں شروع ہوئیں۔
  • مشق تقریباً پانچ ہفتے جاری رہی۔
  • عروج کے مرحلے میں 100 سے زائد طیارے گوبی صحرا میں واقع Dingxin Air Base پر ایک ساتھ موجود تھے۔
  • آٹھ اڈوں پر کم از کم 194 طیارے واضح طور پر نظر آئے، جبکہ مجموعی تعداد 200 سے 250 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

ڈنگشن ایئر بیس کو اکثر امریکا کے نیلس ایئر فورس بیس سے تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ چین کی اعلیٰ سطحی فضائی تربیت کا مرکزی مقام سمجھا جاتا ہے۔

جدید طیارے اور مربوط جنگی حکمتِ عملی

Image

ریڈ سورڈ 2025 میں چین کے جدید ترین فضائی پلیٹ فارمز شریک تھے، جن میں شامل ہیں:

  • Chengdu J-20 اسٹیلتھ فائٹر
  • Shenyang J-16
  • Chengdu J-10
  • Xian H-6 بمبار
  • Shaanxi Y-20 ہیوی ٹرانسپورٹ
  • KJ-500 ائیر بورن ارلی وارننگ طیارہ

سیٹلائٹ تصاویر میں جے-10، جے-16 اور جے-20 طیاروں کی مشترکہ تعیناتی دیکھی گئی، جو چوتھی اور پانچویں نسل کے طیاروں کے انضمام (Integration) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  آذربائیجان نے پاکستان سے JF-17 BLOCK-III طیارے خریدنے کا معاہدہ کرلیا

ماہرین کے مطابق یہ یا تو مختلف طیاروں کے درمیان تربیتی مقابلہ تھا یا پھر چین مشترکہ جنگی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے جس میں اسٹیلتھ اور غیر اسٹیلتھ طیارے مل کر کارروائی کریں۔

دفاعی صنعت میں تیز رفتار توسیع

چین کی دفاعی صنعت بھی غیر معمولی رفتار سے پھیل رہی ہے۔ Aviation Industry Corporation of China (AVIC) نے 2021 سے اب تک تقریباً 80 لاکھ مربع فٹ نئی پیداواری جگہ شامل کی ہے۔

تجزیوں کے مطابق:

  • 2026 سے چین سالانہ 250 سے 300 جدید لڑاکا طیارے تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
  • ایک خفیہ تجرباتی اڈے پر 60 ہزار مربع فٹ نئے ہینگر اور 3 لاکھ مربع فٹ اضافی تعمیرات کی گئیں۔
  • مبینہ طور پر جے-36 اور جے-50 نامی اگلی نسل کے طیاروں کے پروٹوٹائپس بھی دیکھے گئے۔

یہ پیش رفت چین کی چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کی تیاری کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکی مشقوں سے موازنہ

2026 کے اوائل میں ہونے والی امریکی مشق “ریڈ فلیگ” اور “بامبو ایگل” میں تقریباً 150 طیارے شریک تھے اور یہ مشق تین ہفتے جاری رہی۔

اس کے مقابلے میں ریڈ سورڈ 2025:

  • زیادہ طیاروں پر مشتمل تھی،
  • زیادہ طویل دورانیے تک جاری رہی،
  • اور زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے پر منعقد کی گئی۔

تائیوان سے آگے کی حکمتِ عملی؟

چین کی سرکاری میڈیا نے اس مشق پر خاموشی اختیار کی، جو ریڈ سورڈ کی روایتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشق صرف تائیوان تک محدود تیاری نہیں بلکہ وسیع علاقائی یا عالمی آپریشنز کی تیاری کا اشارہ ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  تائیوان پر چین کا دباؤ ’ ہلکا نہیں‘ تائیوان کے سینئر سکیورٹی عہدیدار کا اعتراف

چین کی بڑھتی ہوئی پیداوار، جدید تربیت اور مربوط فضائی حکمتِ عملی مستقبل میں عالمی فضائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

نتیجہ

ریڈ سورڈ 2025 چین کی فضائی طاقت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر نے نہ صرف سب سے بڑی مشق کا انکشاف کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ چین تیزی سے جدید طیارے تیار کرنے اور بڑے پیمانے پر مربوط فضائی آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ فضائی میدان میں مقابلہ مزید پیچیدہ اور شدید ہوتا جا رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین