افغان طالبان کے مبینہ ڈرون پروگرام سے متعلق خدشات اس وقت مزید نمایاں ہو گئے جب آج طالبان کی جانب سے اسلام آباد، ایبٹ آباد، نوشہرہ اور صوابی پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق زیادہ تر ڈرونز کو پاک فوج نے فضا میں ہی مار گرایا، جبکہ صوابی میں ایک ڈرون گرنے سے معمولی نقصان ہوا، تاہم کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
یہ پیش رفت اس رپورٹ کے تناظر میں اہم ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ طالبان سابق امریکی اور برطانوی فوجی اڈوں کو کامیکاز ڈرون تیار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
تازہ صورتحال: پاکستان کے مختلف شہروں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق:
- طالبان نے اسلام آباد، ایبٹ آباد، نوشہرہ اور صوابی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
- پاک فوج کے فضائی دفاعی نظام نے بیشتر ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔
- صوابی میں ایک ڈرون گرنے سے محدود مالی نقصان ہوا۔
- کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ طالبان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
لوگر اور کیمپ فینکس: ڈرون تیاری کے مراکز؟
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق:
- صوبہ لوگر میں سابق برطانوی ایس اے ایس اڈہ ڈرون ٹیسٹنگ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
- کابل کے قریب کیمپ فینکس، جو کبھی امریکی لاجسٹک مرکز تھا، اب مبینہ طور پر ڈرون تیاری کا مقام بن چکا ہے۔
- 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان نے وہاں چھوڑا گیا عسکری سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔
کن ڈرونز کی نقل تیار کی جا رہی ہے؟
رپورٹس کے مطابق طالبان درج ذیل ڈرون سسٹمز کی طرز پر کام کر رہے ہیں:
- MQ-9 Reaper
- Shahed 136
ممکنہ خصوصیات:
- طویل فاصلے تک پرواز
- دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت
- نگرانی اور ہدف کی نشاندہی
- کامیکاز انداز میں ہدف سے ٹکرا کر تباہی
اگر ان سسٹمز کی نقل کامیابی سے تیار ہو رہی ہے تو یہ کم لاگت مگر مؤثر حملوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
بیرونی تکنیکی مدد اور القاعدہ روابط
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق:
- ترکی، چین، روس، بیلاروس اور بنگلہ دیش سے تکنیکی مہارت حاصل کی گئی۔
- ڈرون کے پرزے چین اور ترکی سے خریدے گئے۔
- ایک روسی ماہر طالبان انجینئروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
- القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے والا ایک انجینئر پروگرام میں شامل ہے۔
یہ پہلو علاقائی اور عالمی سکیورٹی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
خطے کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
اگر طالبان واقعی سرحد پار شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں تو اس کے ممکنہ اثرات یہ ہو سکتے ہیں:
- شہری مراکز کے خلاف کم لاگت حملوں کا خطرہ
- فضائی دفاعی نظاموں پر دباؤ
- سرحدی کشیدگی میں اضافہ
- انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں تبدیلی
پاک فوج کی بروقت کارروائی سے بڑے نقصان کو روکا گیا، لیکن یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈرون جنگ ایک نیا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
نتیجہ
طالبان کے مبینہ ڈرون پروگرام کے بارے میں پہلے آنے والی رپورٹس اور آج کے حملوں کے دعوے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے بیشتر ڈرونز کو ناکام بنا دیا، تاہم صوابی میں ایک ڈرون گرنے کا واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
بدلتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی اور کم لاگت کامیکاز ڈرونز خطے کی سکیورٹی حرکیات کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔




