بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

القاعدہ کے سربراہ سیف العدل کا طالبان امیر کو خط، افغانستان منتقلی پر مشاورت

افغانستان انٹرنیشنل کے ذرائع کے مطابق سیف العدل، جو اس وقت القاعدہ کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں، نے طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں القاعدہ کی قیادت کو عارضی طور پر افغانستان منتقل کرنے کے امکان پر رہنمائی طلب کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ خط تقریباً تین ہفتے قبل قندھار بھیجا گیا، جس میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں القاعدہ کے لیے محفوظ ٹھکانے کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔

ایران کی صورتحال اور ممکنہ علاقائی اثرات

خط میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایران امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کے باعث عدم استحکام یا کسی بڑے بحران کا شکار ہوتا ہے تو القاعدہ کی موجودہ قیادت کو وہاں سے نکلنا پڑ سکتا ہے۔

ایسی صورت میں القاعدہ کے پاس عراق یا شام جیسے ممالک میں منتقل ہونے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا۔ تاہم اس عبوری مرحلے میں افغانستان کو عارضی قیام گاہ کے طور پر زیرِ غور لایا گیا ہے—بشرطیکہ طالبان قیادت اس کی اجازت دے۔

طالبان کی محتاط سوچ اور ماضی کا سایہ

افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ القاعدہ کی قیادت 9/11 حملوں سے قبل افغانستان میں موجود تھی، جس کے نتیجے میں امریکی حملہ ہوا اور طالبان کی پہلی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق سیف العدل نے اپنے خط میں طالبان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ القاعدہ اسلامی امارت کے لیے کسی نئی مشکل یا عالمی تصادم کا باعث نہیں بننا چاہتی اور اسی لیے طالبان امیر کی رہنمائی چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ: مظاہرین کے قتل کی صورت میں امریکی مداخلت کا عندیہ

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان امیر ابھی تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے اور ایران کی صورتحال واضح ہونے کے منتظر ہیں۔

خط کیسے پہنچایا گیا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خط طالبان قیادت تک محمد حکیم (گورنر پنجشیر) اور ایک شخص عبدالرحمان وردک کے ذریعے پہنچایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ اعلیٰ سطح پر انتہائی رازداری سے زیرِ غور ہے۔

سیف العدل کون ہیں؟

Image

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق سیف العدل نے ایمن الظواہری کی 2022 میں کابل میں ہلاکت کے بعد القاعدہ کی قیادت سنبھالی۔ ایک سابق ایف بی آئی اہلکار کے مطابق سیف العدل 2003 سے ایران میں مقیم رہے ہیں۔

سیف العدل، جن کا اصل نام محمد صلاح الدین زیدان بتایا جاتا ہے، مصر میں پیدا ہوئے اور اس وقت ان کی عمر تقریباً 66 سال ہے۔ وہ متعدد ناموں سے جانے جاتے ہیں اور 2021 سے امریکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ مطلوب افراد کی تصویر 2012 میں تہران میں لی گئی تھی۔

سیکیورٹی خدشات اور علاقائی اثرات

اگر ان رپورٹس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت طالبان کے اس دعوے پر سوالیہ نشان بن سکتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

علاقائی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں کے لیے یہ رابطہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ بدلتے جیو پولیٹیکل حالات میں افغانستان ایک بار پھر عالمی شدت پسند نیٹ ورکس کے لیے نرم ہدف بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اقوامِ متحدہ کے ماہرین: پاکستان میں 7 مئی کو بھارتی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی

دوسری جانب طالبان کی جانب سے فیصلہ مؤخر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی سے بچنے کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین