امریکی فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے نئے F-35 Lightning II فائٹر جیٹس اس وقت ریڈار کے بغیر سروس میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ غیر معمولی صورتِ حال جدید AN/APG-85 ریڈار کی تاخیر اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
Avionics International کے مطابق، جن طیاروں کو 2025 سے APG-85 کے ساتھ فراہم ہونا تھا، وہ فی الحال کسی بھی ریڈار کے بغیر ڈیلیور کیے جا رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پرانا AN/APG-81 نیا ماؤنٹنگ سسٹم قبول نہیں کرتا، جبکہ APG-85 خود تاخیر کا شکار ہے۔
ماؤنٹنگ سسٹم کا خلا، عارضی حل
جون 2025 کے بعد تیار ہونے والے F-35 طیارے نئے ماؤنٹنگ سسٹم کے ساتھ بن رہے ہیں، اسی لیے ان میں پرانا ریڈار لگانا ممکن نہیں رہا۔ توازن برقرار رکھنے کے لیے ناک کے حصے میں بالاسٹ نصب کیا جا رہا ہے تاکہ پرواز اور ہینڈلنگ متاثر نہ ہو۔
آپریشنل حقیقت
پروگرام حکام کے مطابق، ریڈار کے بغیر F-35 پرواز اور بنیادی آپریشن انجام دے سکتا ہے—بشرطیکہ وہ مکمل طور پر لیس دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ نیٹ ورک میں کام کرے اور ڈیٹا لنکس کے ذریعے سینسر معلومات حاصل کرے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ بندوبست امن کے زمانے یا تربیتی ماحول میں تو قابلِ عمل ہے، مگر حقیقی جنگ میں ڈیٹا لنکس کی رکاوٹ یا الیکٹرانک وارفیئر کے باعث خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
APG-85 کی ٹائم لائن مزید کھسک گئی
APG-85 کی فراہمی پہلے Lot 17 (2025) میں متوقع تھی، جو اب Lot 20 تک مؤخر ہو چکی ہے۔ پیداواری رفتار برقرار رکھنے کے لیے طیارے ریڈار کے بغیر دینا ایک عملی مگر عارضی حل سمجھا جا رہا ہے۔
ان مسائل سے بچنے کے لیے Lockheed Martin نے ایسا نیا فرنٹ فیوزلاژ ڈیزائن کرنے کی تجویز دی ہے جو پرانے اور نئے دونوں ریڈار قبول کر سکے۔ تاہم اس کے لیے دوبارہ جانچ، سرٹیفکیشن اور پیداوار میں وقت لگے گا۔
وسیع تر تناظر
یہ مسئلہ F-35 پروگرام کو درپیش بڑے چیلنجز—جیسے لاگت اور کم مشن ریڈی نیس—کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق کسی بھی وقت بیڑے کا تقریباً نصف ہی مکمل طور پر مشن کے قابل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، F-35 دنیا کا سب سے زیادہ تعداد میں موجود پانچویں نسل کا فائٹر ہے اور کئی ممالک اسے منتخب کرتے رہتے ہیں۔
مجموعی طور پر، ریڈار کے بغیر ڈیلیوری کا فیصلہ پیداوار کو جاری رکھنے کی عملی حکمتِ عملی ہے، مگر یہ جدید نظاموں کے انضمام میں درپیش پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔




