بھارت کے Defence Research and Development Organisation (DRDO) کے چیئرمین Samir V Kamat نے یونین بجٹ 2026 کو دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم ان کے اپنے بیانات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہم دفاعی صلاحیتوں کی عملی فراہمی ابھی کئی برس دور ہے۔
ANI کو دیے گئے انٹرویو میں کامت نے کہا کہ دفاعی شعبے کے لیے ₹2.19 لاکھ کروڑ کا مجموعی کیپیٹل آؤٹ لے، جبکہ ₹1.39 لاکھ کروڑ مقامی (indigenous) نظاموں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ DRDO کے کیپیٹل بجٹ میں 15.6 فیصد اضافہ بلاشبہ تحقیق و ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ فنڈنگ واقعی تیز نتائج دے پائے گی؟
#WATCH | Delhi: On Kaveri engine development, DRDO Chairman Samir V Kamat says, "Kaveri engine, in its original form, has not delivered the thrust that is required for the LCA. The engine is working very well, it has given us a thrust of 72 kilonewton. But the LCA needs a thrust… pic.twitter.com/VxpPEry843
— ANI (@ANI) February 2, 2026
ایرو انجن: ترجیح بھی، تاخیر بھی
کامت کے مطابق DRDO کی سب سے بڑی ترجیح ایرو انجنز ہیں، مگر انہوں نے خود اعتراف کیا کہ دنیا بھر میں انجن کی تیاری ایک 10 سے 13 سالہ طویل عمل ہے۔ اگر 2026 میں منظوری مل بھی جائے تو انجن کی پلیٹ فارم انضمام (integration) 2035–2036 سے پہلے ممکن نہیں ہوگا۔
اس کا براہِ راست اثر بھارت کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے Advanced Medium Combat Aircraft (AMCA) پر پڑتا ہے۔ ابتدائی دو اسکواڈرن General Electric کے F414 انجنز کے ساتھ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مقامی انجن بعد میں آئے گا—یعنی خود انحصاری ایک بار پھر ملتوی ہو گئی۔
کاویری انجن: کامیابی کا اعتراف، ناکامی کا اقرار
کاویری انجن بھارت کی دفاعی تاریخ کا سب سے متنازع پروگرام رہا ہے۔ کامت نے واضح کیا کہ یہ انجن 72 کلو نیوٹن تھرسٹ دیتا ہے، جبکہ Light Combat Aircraft Tejas کو 83–85 کلو نیوٹن درکار ہے۔
یوں کاویری کسی بھی فرنٹ لائن لڑاکا طیارے میں استعمال نہیں ہو سکے گا۔ البتہ اس کا ایک نان آفٹر برنر ورژن مستقبل کے ان مینڈ کامبیٹ ایئرکرافٹ (UCAV) میں لگانے کا منصوبہ ہے۔ یہ فیصلہ دہائیوں کی سرمایہ کاری کے بعد جزوی بچاؤ تو ہے، مگر یہ بھی اعتراف ہے کہ بنیادی ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
ہائپر سونک میزائل: دعویٰ مضبوط، ثبوت محدود
طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل کو کامت نے “گیم چینجر” قرار دیا۔ اب تک دو ڈیولپمنٹ ٹرائلز مکمل ہو چکے ہیں اور تیسرا جلد متوقع ہے، جس کے بعد یوزر ایویلیوایشن ہو گی۔
اگر یہ نظام کامیابی سے شامل ہو گیا تو یہ رفتار اور رینج کے لحاظ سے BrahMos سے آگے ہوگا۔ مگر ہائپر سونک ہتھیار دنیا کے مشکل ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، اور تجربات سے آپریشنل اعتماد تک کا سفر اکثر کئی سال لیتا ہے۔ لینڈ اٹیک اور ایئر لانچ ورژنز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔
ڈیپ ٹیک: درست سمت، مگر بکھرا ہوا نفاذ
AI/ML، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ میٹیریلز پر DRDO کی توجہ عالمی رجحانات کے مطابق ہے۔ تاہم مسئلہ سمت کا نہیں بلکہ عملدرآمد کا ہے۔ ماضی میں DRDO تحقیق تو کرتا رہا، مگر فوجی شمولیت (induction) میں تاخیر ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔
نجی شعبے کے مضبوط کردار، سخت ٹائم لائنز اور جوابدہی کے بغیر یہ خطرہ موجود ہے کہ ڈیپ ٹیک صرف معاون کردار تک محدود رہ جائے۔
اصل سوال: پیسہ یا رفتار؟
بجٹ 2026 نے دفاعی تحقیق کے لیے وسائل ضرور فراہم کیے ہیں، مگر کامت کے بیانات خود بتاتے ہیں کہ:
- ایرو انجن 2035 کے بعد،
- AMCA کی مکمل خود انحصاری اس سے بھی آگے،
- اور ہائپر سونک مکمل صلاحیت اگلی دہائی میں متوقع ہے۔
ایسے میں سوالات برقرار رہتے ہیں:
- کیا بھارت اہم دفاعی ٹیکنالوجیز کے لیے دہائیوں کا انتظار کر سکتا ہے؟
- غیر ملکی انحصار کب ختم ہوگا؟
- اور کیا زیادہ بجٹ واقعی تیز شمولیت لائے گا یا صرف بہتر مالی وسائل کے ساتھ وہی پرانی تاخیر؟
بجٹ 2026 ایک موقع ضرور ہے—مگر یہ تبھی فیصلہ کن ثابت ہوگا جب وعدے وقت پر ہتھیاروں میں بدلیں۔




