بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بڑا بجٹ، طویل انتظار: DRDO چیئرمین کے دعوے اور بھارت کی دفاعی حقیقت

بھارت کے Defence Research and Development Organisation (DRDO) کے چیئرمین Samir V Kamat نے یونین بجٹ 2026 کو دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم ان کے اپنے بیانات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہم دفاعی صلاحیتوں کی عملی فراہمی ابھی کئی برس دور ہے۔

ANI کو دیے گئے انٹرویو میں کامت نے کہا کہ دفاعی شعبے کے لیے ₹2.19 لاکھ کروڑ کا مجموعی کیپیٹل آؤٹ لے، جبکہ ₹1.39 لاکھ کروڑ مقامی (indigenous) نظاموں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ DRDO کے کیپیٹل بجٹ میں 15.6 فیصد اضافہ بلاشبہ تحقیق و ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ فنڈنگ واقعی تیز نتائج دے پائے گی؟

ایرو انجن: ترجیح بھی، تاخیر بھی

کامت کے مطابق DRDO کی سب سے بڑی ترجیح ایرو انجنز ہیں، مگر انہوں نے خود اعتراف کیا کہ دنیا بھر میں انجن کی تیاری ایک 10 سے 13 سالہ طویل عمل ہے۔ اگر 2026 میں منظوری مل بھی جائے تو انجن کی پلیٹ فارم انضمام (integration) 2035–2036 سے پہلے ممکن نہیں ہوگا۔

اس کا براہِ راست اثر بھارت کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے Advanced Medium Combat Aircraft (AMCA) پر پڑتا ہے۔ ابتدائی دو اسکواڈرن General Electric کے F414 انجنز کے ساتھ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مقامی انجن بعد میں آئے گا—یعنی خود انحصاری ایک بار پھر ملتوی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں  طیاروں کی گنتی کا چیلنج، بھارت قبول کرے یا مسترد، دونوں صورت شرمندگی مقدر

کاویری انجن: کامیابی کا اعتراف، ناکامی کا اقرار

کاویری انجن بھارت کی دفاعی تاریخ کا سب سے متنازع پروگرام رہا ہے۔ کامت نے واضح کیا کہ یہ انجن 72 کلو نیوٹن تھرسٹ دیتا ہے، جبکہ Light Combat Aircraft Tejas کو 83–85 کلو نیوٹن درکار ہے۔

یوں کاویری کسی بھی فرنٹ لائن لڑاکا طیارے میں استعمال نہیں ہو سکے گا۔ البتہ اس کا ایک نان آفٹر برنر ورژن مستقبل کے ان مینڈ کامبیٹ ایئرکرافٹ (UCAV) میں لگانے کا منصوبہ ہے۔ یہ فیصلہ دہائیوں کی سرمایہ کاری کے بعد جزوی بچاؤ تو ہے، مگر یہ بھی اعتراف ہے کہ بنیادی ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

ہائپر سونک میزائل: دعویٰ مضبوط، ثبوت محدود

طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل کو کامت نے “گیم چینجر” قرار دیا۔ اب تک دو ڈیولپمنٹ ٹرائلز مکمل ہو چکے ہیں اور تیسرا جلد متوقع ہے، جس کے بعد یوزر ایویلیوایشن ہو گی۔

اگر یہ نظام کامیابی سے شامل ہو گیا تو یہ رفتار اور رینج کے لحاظ سے BrahMos سے آگے ہوگا۔ مگر ہائپر سونک ہتھیار دنیا کے مشکل ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، اور تجربات سے آپریشنل اعتماد تک کا سفر اکثر کئی سال لیتا ہے۔ لینڈ اٹیک اور ایئر لانچ ورژنز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

ڈیپ ٹیک: درست سمت، مگر بکھرا ہوا نفاذ

AI/ML، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ میٹیریلز پر DRDO کی توجہ عالمی رجحانات کے مطابق ہے۔ تاہم مسئلہ سمت کا نہیں بلکہ عملدرآمد کا ہے۔ ماضی میں DRDO تحقیق تو کرتا رہا، مگر فوجی شمولیت (induction) میں تاخیر ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  گرین لینڈ پر امریکی دعووں نے یورپ کو چونکا دیا، ڈنمارک کی واشنگٹن کو سخت وارننگ

نجی شعبے کے مضبوط کردار، سخت ٹائم لائنز اور جوابدہی کے بغیر یہ خطرہ موجود ہے کہ ڈیپ ٹیک صرف معاون کردار تک محدود رہ جائے۔

اصل سوال: پیسہ یا رفتار؟

بجٹ 2026 نے دفاعی تحقیق کے لیے وسائل ضرور فراہم کیے ہیں، مگر کامت کے بیانات خود بتاتے ہیں کہ:

  • ایرو انجن 2035 کے بعد،
  • AMCA کی مکمل خود انحصاری اس سے بھی آگے،
  • اور ہائپر سونک مکمل صلاحیت اگلی دہائی میں متوقع ہے۔

ایسے میں سوالات برقرار رہتے ہیں:

  • کیا بھارت اہم دفاعی ٹیکنالوجیز کے لیے دہائیوں کا انتظار کر سکتا ہے؟
  • غیر ملکی انحصار کب ختم ہوگا؟
  • اور کیا زیادہ بجٹ واقعی تیز شمولیت لائے گا یا صرف بہتر مالی وسائل کے ساتھ وہی پرانی تاخیر؟

بجٹ 2026 ایک موقع ضرور ہے—مگر یہ تبھی فیصلہ کن ثابت ہوگا جب وعدے وقت پر ہتھیاروں میں بدلیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین