پاکستان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم Benjamin Netanyahu کے مجوزہ “ہیکساگون آف الائنسز” (چھ ملکی اتحاد) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خطے میں بلاک سیاست، اسلحہ دوڑ اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم Narendra Modi کی اسرائیل کے ساتھ گہری ہوتی دفاعی شراکت داری اس منصوبے کو مزید جارحانہ رخ دے رہی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ پیش رفت استحکام کے بجائے محاذ آرائی کو تقویت دے سکتی ہے۔
“ہیکساگون اتحاد”: تعاون نہیں، محاذ بندی؟
نیتن یاہو نے ایک ایسے اتحاد کا خاکہ پیش کیا جس میں اسرائیل، بھارت، یونان اور قبرص سمیت دیگر ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ اسے “انتہا پسند” قوتوں کے خلاف مشترکہ بلاک کے طور پر پیش کیا گیا۔
ناقدین کے مطابق:
- “شیعہ” اور “سنی” محاذوں کے حوالے سے بیان بازی فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکا سکتی ہے۔
- باضابطہ بلاک تشکیل دینے سے جوابی اتحاد بننے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
- یہ حکمتِ عملی کشیدگی کم کرنے کے بجائے طاقت کے مظاہرے پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ ایسے اتحاد اکثر صفر-جمع (Zero-Sum) مقابلہ آرائی کو مضبوط کرتے ہیں۔
مودی کا اسرائیل جھکاؤ: دفاعی تعاون یا اشتعال انگیزی؟
مودی کے دورۂ اسرائیل میں دفاع، ٹیکنالوجی اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا گیا۔ بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار ہے۔ تعاون کے اہم شعبے:
- میزائل دفاعی نظام
- مسلح اور نگرانی ڈرون
- الیکٹرانک وارفیئر پلیٹ فارمز
- پریسیژن گائیڈڈ اسلحہ
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بعض اسرائیلی نظام ماضی میں پاکستان کے خلاف کشیدگی کے ادوار میں استعمال ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں عدم توازن بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ شراکت داری:
- جنوبی ایشیا میں اسلحہ دوڑ کو تیز کر سکتی ہے۔
- سفارتی راستوں کے بجائے عسکری حکمتِ عملی کو تقویت دیتی ہے۔
- پیشگی حملے کے نظریات کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔
پاکستان کا مؤقف: سفارتی مذمت اور دفاعی تیاری
پاکستان کی سینیٹ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے نیتن یاہو کے بیان کو مسترد کیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان Tahir Andrabi نے اسے مسلم دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی “مذموم کوشش” قرار دیا۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ:
- بھارت–اسرائیل دفاعی تعاون کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
- قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
- دفاعی تیاری مکمل اور مؤثر ہے۔
بحیرۂ روم سے جنوبی ایشیا تک: کشیدگی کا پھیلاؤ
یونان اور قبرص کی ممکنہ شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ بحیرۂ روم اور جنوبی ایشیا تک پھیلا ہوا اسٹریٹجک محور بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق:
- کثیر خطوں میں عسکری بلاکس سفارتی توازن کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
- غیر شامل ممالک میں عدم اعتماد بڑھتا ہے۔
- عالمی سطح پر پولرائزیشن میں اضافہ ہوتا ہے۔
ممکنہ نتائج: اسلحہ دوڑ اور محاذ آرائی
ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ:
- اسلحہ کی دوڑ خود کو تقویت دینے والا چکر بن سکتی ہے۔
- فرقہ وارانہ بیانیہ داخلی اور خارجی کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔
- بلاک سیاست طویل المدتی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔
پاکستانی حلقوں کے مطابق “ہیکساگون اتحاد” اور مودی کی جارحانہ دفاعی سفارتکاری خطے کو مفاہمت کے بجائے مقابلہ آرائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
نتیجہ
پاکستان کا سخت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مجوزہ “ہیکساگون اتحاد” اور بھارت–اسرائیل دفاعی قربت کو اسلام آباد خطے کے لیے خطرناک رجحان سمجھتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بلاک سیاست اور عسکری اتحادوں کی سیاست ایک نازک خطے میں عدم استحکام، بداعتمادی اور ممکنہ تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔




